گن ٹر زوڈ ت0 لاھود: 7 ْ ت
یح تی لد لی ا ا 23097
مےیپومسمد
فلاتقعد بد الکر یت القومالظالمیغ ] 8 7س ۱ ا / : نے خر ےم و ا پھر ۱ : ٰ 7 ۸م 7 ھ٠ ے-
۱ تالیفٹلطیفت ت مر ڑ رھ ال دا زی شواک یور ہووھسی 02 :2030117100 ں ریب وتہزیب
٣ ےید ایال ام فارڑتی لال ٦
ہک وو عسژوی مہوت ]وو ہے ہے پورموں
ٰ (|نایّر) مححص کت من سم وٹ ا یا ۱ بل
رو ےو ےی ےم سس ےی ہہ ہبہ تہ(
ح ٣( وچ _ ٭جے پڈج پپ جت جوا |۱
__ ہرے مت سس و وو سو سو سا تی ٹئ ۲ز تی
._ ٭ھ ٠۰
مفوق بیس پاش رحفوط
ا مکماپ ساٹ انار الامے, لن زم الماو۔ '' مصی 88808 0 9رک ا و موضوم جا تھا اجوال و مقامات سد نا امرمعاوہ بڑٹ ہال طباعت اول ا الا ۱ ےھ ہمطال ے ۱۹۳ء
رژنق ۔ے یہ رت پر عبد ال اق فاروی حردی بن _ 7 تالق ات نت ۱ھ بطانق ۲۰۰۰ء 7 7< أی ا یڈ ولک ینا کمن آیار اہو ر
ا ا 2 پروی جو وو وو :0 ھ۸ 7 لاو ر . ." ٤ھ 0 9 7 ان کی روڈ ایور بہت وا ان بن ۷ روے
رج ار
ہہ ہو ٠ ر روز ایور
معاند بن کے ا تراضات کا تو اب
انت وائاع تک خلت
ط0( 7۰ کے سال رات اشداءعلیالکفارز
رحما بینھم
2۵ ھەھ/ ..۔
تن اک ما گرا کے اوصاف جیا نک با ہے
ش رن پاک کا ایک ایک لفظ صحا کی می فک ہے السابقونالاؤلون من المھاجرین
حضرت مرو الف مابی ریہ صحابہکرا مکی اٹضلبت بیان
کرت ہیں
سا ہکرام کے دو فرتو کی م نگوت روایات سا۔7 ٣ی احاری ریت
قام صحا ہکرام سابتی الاعمال تے -
حا ہکرام کے بابی اختلافات پر ایک نظر شمیعو ںکی نفاسیرمیس صحاہکرا مکی فقیلت
40
1ؤ
4۔
رت امام باقر ول کا بیان
فضائل سحاب ہکرام اعادی ث کی رو شنی میں
حضرت ام رمعاویہ اھ کے فضا نل و منات
حا ہکرام کے چاپی اشتلافا ت کی و عیت
رت یر ر الف خا می بین کے اخوال
عحاب ہکرام ححطرت مد الف انی یف نکی نظرمیں اتتادی خطا پر اکابر ا سشت کا روب
ضور شا نے امھ یاونیہ وی کو ھا دکی تی رت مرد الف مال ی بیٹ شیعو ںکو جواب ویے ہیں حا ہکرا مکی لف میں
صا ی کون ے؟
جماعت پر الد تعالی کا پاچ
احماغ امم تک وئحل
- یت می ںکگراں چرالے بر ملہ
اتا کی ابمیت امتما وی اللیت
رت مجاز بن بل کی اجتقادی سو جکی لحریف _
رت امیرمعاویہ ڈ جلیل القدر گند تھے
5 جار ی شرف میس رت اعد معاوںہ دن کا جذکرہ
مد 2 انت وتماعتکی اعتاری گرروں 7 اک نر
37۔ درف مور رت ری مل الف 8۔ انت کاروىے
9۔ حطرت امیر معاون لی ھکی خاافشت ب رضخ تی ٰ
40۔ حطرت ام رمعاوں بڑھ ق رن یا ک کی روش میں
4۔ 'ضطرت عبر اللہ ابن عباس شی کی راس 2و۔ حخرت عمان بل کی شمار تکی رات 3و ۔ حضرت حسن دہ اور جحضرت معاویہ یھ کی ضس یر خطرت انی مواد۔ ش کی خ فا ارگ
3 حا کی غافت اور صحخرت معاویہ کی امارت میں پرتی 46۔ حرت امرمعاویہ ڑٹشہ ائل ببی تکرامم کے غاوم ھے
٦7۔ حرت امرمعاوہ ٹل کی امارت
8۔ حضرت امرمعاویہ ڑی کی فعات
9ں حضرت من یئ کا مطالہہ
50۔ حطرت امرمعاویہ ڑڑھ کے ئل پ ای کنظر
ود خضور نی کریم موق نے امرمعاوییہ شی کو پادی اور مدکی
کا خطاب دہا
52۔ کت ے سے
اختراضا ت کا گی 3ی۔ حضرت ابع اس ڑل کا قول 4۔ حطرت ام معاورے یل کو غزاف تکی شارت
09
2
"ھ8
07
6
رت عب الظد ابین زپرٹیٹ ھکی رائے
رت امرمعاوبہ نٹ راو ی اعاریث تھے حقرت معاوبے ی طعت زلکرے والو لکو جوابات حطرت معاوىہ ڑیڑھ زی رکو وصحیس تکمرے یں شی مصنخی نکی بددیانیں
رت معاوبہ بل نر مد اوند ی کی زوش خیرم صتفیں کے مو ہے واقخات غنیةالطالبین میں جات
صعخا ہکرام بر گنی کے
امیرمعاوہہ اد اور ہزیر پایر کے اقترا رکا موازتد خیعہ مفرات کااعتزاض
حضرت عمار یٹ کاکردار
مار کان لٹ گھ؟
ور ت0
خارجو ںکی مو کات
کیا رت ام معاوںہ کے سای خمارىی تے؟
حضرت امیرمعاویہ دہ حضور می کی دی تکی روشنی یش
: نے اھ یف نر
غغاۓ راشدرین قرآن و اعادی کی روشنی می سحالی رسول می کی اخ
200
21
76۔ 77۔ 78۔ 79۔ 0۔ 81۱ ۔
2۔
3-۔
84
85۔ 6۔ 87 68۔ چھ۔ وو [9۔
2وا۔
7
ای نوز یں کے منرت ام رمواو ںی لو برا کنراضات رت علی وٹ اور رت معاویہ یھ کے اخلافات
امہ تفتا زان ی کا نظریہ
یعض معہ لت ت٢
, 8 کیا حرت ابو سغیان اور حظرت معاوںے مولفت القلو رت کے
رہ ات ینہ اور اع کے اون بے اع اگ حضرت حسن یھ ؤ. کے شیعو ںی بناوت کا جوا دیے ہیں
مقر مق یکون تھا؟
امام حضن بلھ کے تقیہ از ساشھی
دشر مجازر دق رکا حطر سح وی سے جن سلوک ۱ جطرت مواون کے وہ سے حضرت جن ٹف دکی مخاد یس
امام تن بل ھکی ناز برداری
رت امیرمعاویہ دی کی زی کو وھیت
رین کےگور زرکاحطرت نیشن وھ کے نام ایک نویلا کی ای کلذارق :"
6 57 9 60 ۱6
2
.. 2
3
63
4
ک6ا
66
67
8
و69
70
2372-2
.ہممس-ے
الحار الھامسہ اس د مالسھاوبہ " 5 ٰ ۱ بسمہ ا للا لر رجمنا لر حجیم۔
و رمہ
غفس-سسمس+ومسمممم سم سے ےس سس سے س سے گج
پرزادہ اقبال اص فاروثی ایم اے
.کاب * العفار الامیہ ن زم العاوبہ ' حخرت موانا مج بی کنٹی علوائی نی ری رض ار علیہ (*۸۹ مھ / ۱۹۴۴ء ) مولف ط۷ لی رض کی کی الیف اطیف ہے۔ آپ نے اسے ۱۹۳۹ء میں ہرب فرماکر زور طباعت سے آراسنہ فرمایا تھا۔ اس کا پسلا اشن پچھپا ت اس موضو ں کی ایت کے پیش نظر کی ارجاب عم وم آگے بوھھے جنموں نے حضرت امیرمعاویہ رض اللہ تالیٰ عنہ کے احوال و متقامات ب رکنابیں کھھیں_ بر صخیریاک و ہند می علمائۓ اہسنّت کا انا انا بطق شیا جن منوس یک ربا فھاکگ تی نی لوگ شیعون؛ را ون اور معانر نی صحابہ کرام کی غلط بیانیوں سے متاثر ہوکر حخرت امرمعاوںہ رصی ار تعالپی عن کے ملق ست باتی ںکرنے گے ہیں۔ پھر عخرت معاوب رض اللہ تال یى 0 و رت ابو سفیان " حطرت ط یی مضرت زیر اور حخرت رد ان الحائص رضی ال لی عنم تی یل القدر حا ہک کردا رک کے کے یی ای دی فلہ تا جو عام لوگوں ےک رکر خانقاہوں یرخانوں اور کی سادات کے گھرانو نع گا بھی اپٹی لبیٹ میں لیے لگا تھا اس کاب کے نے لیک آن در یت کا نایدا لمدا۔ چنا وت
سے علائۓ انت نے حطرت امیرمعاویہ ری الد تعالیٰ عنہ کے فضائل "فگروار
الغار ارسیت شظوب (٦ 0 9
سس ہسکو سس ہس ت ہ- .سى تپ ٭یللے جہ کا
مسا دم مسبت کی ای لم بھی ٢ے بوھے اور ا موضوغع بر کماہیں اور رسانے این دو سری طرف شیعہ اور رای جارکار بھی اپنے افمانوں“ اللرامات اور مطاع کو نےکر میدان میس آئے اور ان لوگو ںکو سیا را نے گے۔ رت موانا مجر بی نشی عوائی رم ار علیٴ“ مولانا غلام قادر ھبردی میٹ کے شاکمرو رشید تے۔ مولانا لام ویر تصوری می کے تزببیت اف اور رید و مجاز تے۔ وہ اخقادیات پر بہت کا مکر گے تے۔ وہ فیرنبویہ میں ان موضوعا کو بڑبی فصیل سے جیا نکر گے تے۔ ان کے سامے دبتی فمتوں کا ایک طوفان تھا نس نے برصفی راک و ہن دکی اعخنقادیی وتاکو پا کر رکھ دہا تھا۔۔ اسلام گی انت“ متام می یی مکی خظرت 7 و یں مقامات اور خخزت ایام ابد طف رححتہ الد علیہ کے مسلف کے خلا فکئی ص مکی آدازیں ا کی کھین۔ ال مولف نے ویک ناک کی سی یر غانوں کے صاجزادگان بھی شیعوں کے باپگنڑے سے اث ہیں اور ان کی ویکھا ویکھی حضرت امیرمعاویہ رض اللہ تعالی عنہ سے قح رھت ہیں۔ آپ نے بی تاب گی اور ابنے برغانہ حخرت پیر سید جماعت گی شماہ لاعاکلی علی بد ری رحمتہ اش علیہ کے خدمت میں جن یکی۔ حضرت لا عالی رحتہ 7 لی نے ارسے تر فرمابات: من ری ے گے بن لمات کی لمات ' طباعتث اور اشماعت کا آغا زکیا اور تاب ۱۹۴۷ء مین آپ کے مر صادق پچ رعبذافالق ازوقی مرعدم کے زی اتنام بھی سے کان شا لم کیا ہوٹی سارے جخاف میں علماۓ السنت نے اسے ہاکھوں پاچ لیا اور نانشل مولف کے اس ارام کو سراہا۔ آ پ کی ا سکاب سے حخرت مولانا مفتی اج یار ان بی رعتر الڈر علیہ( صاحب نفی رنچی د جاء اح ) یسے عالم دین بھی متا ہوئۓ چنانجہ انموں نے سیر فلوم شا امب فوری لہ مہ نشین بک اود ش لزا
الا انخاب لد مالتخاوی ا سا07
کو زا ۵ ۱۳ھ میں لن رت امیرمعاویہ رضی اللہ تعالی عنہ ' شا کر ای 2 و ا کا بای رر ویاے ت امبرمعاوے رصی الد تال ی عنہ سیر الانیاء ۶ ایر علیہ و آلہ سے جک وف ہیں کرای عم کر ۲ل ا لن ریبک کی با رگاو میں روکر تزبیت پائی “فان دی کے نصب پ انز رے> حور رحعت نین لی الہ علیہ ول وسلم کے کئی فراشن اور وبا کی اط اؤ ابی کا شرف ماص لکیا۔ حضور م یریم صصلی اود علیہ و آل سم نے آ پکو اپی امت کے لے ” ہادی *' اور ممدی '' قرار دیا۔ ٰ ضر ای سو مع الوسغیان رض اللہ تعالی خنما کی کنیٹ ال یر ال تین وت ہہ یل چس دو ےتور م-۱ ۱م ت جم کے خافوا کی می قرر شخصیت وی خ لہ وھ تو ے انا سے ان تفر رت امیر مویہ رضی ال تعالیٰ نہ تضور بکرم صلی اش علیہ و آلہ و سم کے قرابت دار تھے .۔ حطثرت معاوہہ ڈڑا ظ مور حبوت کے ھن سا کرت نشین یا ند س٤ اور لا بی یں فدت ہو “اس طح آپ نے ۸ء مال زندرگی بائی۔ رت امیرمعاویہ رضی الد لی عنہ جثرت کے تی سے رجیم می کے موق( ری پاامن انسلام ے رارے یو رم میں و شمنان ملا ہے خلبہ کی وہ سے ححضرت عباس نی ون نمی ایی رع لاب بھی مسلمان ہو نے کا اعلان کر یی ا کہ کے دن آپ نے اطلاشیہ ان اسلام کا اظظما رکیا اور تضور صلی اللہ علیہ وآلہ ٠ ٰ ران سے وائینتت ہو لئے آ کی بن ام جیب رصی ال تماٹی حا ضرم یریم صلی اللہ علیہ گل وس مکی زوجہ حنزمہ تگھیں۔ اس طرح آپ - می میں مو فت
السار الھات اس دماسھاود ٰ "و
تھے۔ حشرت ہولانا روم رجہ اللہ علید نے آ پکو ای رج کی وجہ سے ” خال ال :ا امن انان گا مامو نما ے۔۔
ارچ شید عطرات نے اں پلت پ بڑا زور وی ے کہ حثرت اھ رمعاوں رضی اللہ تعالی نہ جم کہ کے بعد ملمان ہوۓ تے۔ شیعہ ارچ گان سرفی آپکی موی ت کوک مکرنے کے لئ سی جات مکتے ین( ھالارکنہ کہ کے بعد بھی اسلام انے والے پاعظمت صحابہ میں شار ہوتے ہیں )گر مقیقت یہ ےک جا لا نے بے کیل مسلیان وج تھے جیب خضو رم کرک می ابر علیہ و آلہ وسلم نے پسلا عرہ اداکیا ھا ق آ پ کو عردہ کے وامن میں تضور ب یقکریم صلی اللہ عاید وآلۂ وحم کے بال کائے کااذر عخابمت بنانے کا شرف مال ہوا تھا۔ یہ عرہ قفا مع عدیییے کے ایک سال بعد ۸ ججری میس ادا یاگیا تھا۔ مان کہ کے ون آپ کی عبت اور خدمت کے پیش نظ رج ای کرک صلی اوہ علیہ و آلہ وسم نے آ پکو خصوصی انعام و اکرام سے نوازان کئی ال 77 7 ,7ء رسک سی قلپ'"فنڑ سے سے اہ دوات پل
کال ںا میں یئ اور خضور ھی اللہ عاید لہ و مکی عحالی اور قریت یرجھ آ پٹ کی جنیر ام جیب ری الد ای ہسا کی ری لی ان علیہ دنن گی زد نتم میں آپ ا7 یں یی کے کک جن ہز تج / تر خازلل وودگی پے وو تی کر صلی وہ علید ان وسلم ام رمعاوی ری را تالی ع کاٹ کے نے عم دتے۔ سربرامان لت مک نرای بد فیاے و منرت میاوں ڈیو ے ساےن بک 0ظ9ئكس۳۰ٰ"۰""ی'ؤ'' ۹ٰٰ 9 ھ2 او ما راخ و رئش میں مار قرار تب رادان اعادیث نبدی مل گل آپ
٠ّ سی
کا اگ رای پا ے۔ ماپ ہو تھے فقیہ رت اور زبردست عالم رین تے۔ ٰ٘
الغار الخام اید اسشاوی 2
بیدا سے ار 7 وو ا ار وا گا۔ ازر ' صاحب سری معا وی اہن ابی سَفٰيان* ا( او ظیرے راڑران گی تضور اکرم صلی اڈ علیر وآلہ 701
اسلامیہ کا ساسلہ پچھ یلا فو حظطرت عمررصی الند تال ی عنہ کے زمانہ خلافت میں سارا عراق اور شائم اسلای فڑحات میں آگیا تھا۔ حضرت عمررضی ادند تعالی عنہ نے آ پکو ام و عراتی کا امیرمایا۔ آپ حعطرت عمررضی ارڈ نعالی عنہ کے سارے مر خذافت میں اسی منصب پر ائم رے۔ پھرسیدنا خثان شنی رضی اڈ تعالی عد کا وور غزافات آیا لو .توف 0ن ہھے۔ جب عت ع زم ال رھ الکریم کا زمانہ خزافث یا تو سن ا شام کے امو رتھے۔ اس رخآ یپ ڑیں سال تنک عراقی و شا مک یکو ٹریی کے ععیدہ بر فائز ر ہے
خیرے مر ضس اللہ نثھالی عز کے فیناعن کے مالس کشیدکی بھی نے آپ نے حخرت عل یکرم اود وج کی عرکزی علومت سے مدکی کا اعلا نکر وا اور او زشام کے متفل این من گی ات سعلسلہ میس نت مین اور جنگ بل کے ناگواز واقعات ساٹ گرب ححضرت عل یکرم ارلر وچمہ اریم کی وفات کے بعد حطر صن رحضی الد تعالی عنر مند غزافت اسلامیہ بر تشریف لاۓ فو لی عالات بڑے راب ہو گے تے۔ اختقار اور اخلافات کی فضاء پر ا رھ یی سرن مان کے ون ین ابا ہو رپا لیک حطرت سن رض اللہ تعالیٰ زا نے اسلا مکی مٹیم الشان سلطعت کو مفوندکرنے کے لے انار اور افزاق کی فضاکو ش مکرنے کے لے ایک اہم قم اٹھایا اور آگے پوت ھکر .ثػ خظرت ام رمعاوںہ رض اللہ تعالی عد سے مصالحت کرنے کے لے پاھ بڑھایا و ررللم یا کی مل من سور شیوشت نے رستبر داز مز حطر امیرمعاو رہ
رہ اللہ تعالی عنہ کو قامم مللت اسلامیہ کا امیر مقر رکر دیا۔ اس طرح آپ
السار الاب لیس دمالسھاوی کت ٰ 7.
یں سال تک غافت راشدہ کے زس کان امیرشام رے۔ غلافت راشدہ کے یہ بین سال تف وم الام کے قام ماف کے اپررے۔ آپ نے ٣ رجب المرجب ٦٦ چچ ری یکو مت میں وفات پالی۔ اس وقت آ پک گرء سال ان جضرت امرمعاوںہ ری الد ۳ھھَت9 ند یاہ سیاسی ر نما اور مشکل عالات کا مقاہل ہرنے والے بجر انان تے۔ لا زم صلی ھا لکل ترفن ترر یت پا کا مضور ھی کی ذات پاک سے مشق رھت تے۔ وفات سے پل وعیی تک یکہ ہر پا نی پا می الہ علیہ دکلہ وسلم کےا اشن انارک ہل اود کین کے بعد یہ ناشن مبری آ عو ںکی پلگوں کے اندو رکھ دپے جائیں۔ میرے سا سو وآلہ کک اکن ال فیس وو کے چرے کے او ری جاکہییں۔ یی مور ب یکریم صلی ماد علی: الہ سم نے اتی یں عطا فزبائیعھی “اس سے نیا کفن منایا جائے۔ میرتے پاس جھور رمعت ملعا لین صلی الد علیہ و آلہ وع مکی ایک چادر ہے اس میں بے لپیٹا جاے۔ میرے پان تفور اکرم صلی اللہ علیہ ولیہ سم کا تید پے' بھی اس میں علایا جاے۔ اس طرح شھے قمرمیں رکھا جا ۓےکہ جب میں اٹھوں و حضور ام کا رامن خھا مکر اٹگھوں_ ْ حطرت امیرمتاویہ .رض اللہ تعالی عدہ بے پناہ سیاسی اور نأ یی صلاعیتوں کے مالک تے۔ انہوں نے چالس سالہ وور اقتزار میں اسلائی سلطنت کی ممیادوں کو مطبو کیا اسلامی اشک کو مرا می کیا نجار کا حابلہ ۳خ ہے لچ تر کر دا اض رولی غافشار کے پاوجو زا مہو نے اسیلاٹی خفطمیات اور نفریا تک زمایت تی سے ناف زکیا۔ آپ کے فضانل وکمالات میں کئی اعاویٹ پا
تار یں وبور خی مر میں ہوریں اوز اعیان ات ہے آپ
سار الخاب لس دماامعاوح ------ ٰ 14
ٰ کماا ت کو نہ ان یا سے پل رہ جحمین پٹ کیا ہے دہ مق صصحالی
تھے۔ فقہ امت ت اور سحاہہ رسول اللہ موم میس ایک بلند مقام پر فائز تے۔ صطرت خمربن عبرالعزہ: رضی الہ تعالی عنہ غلفائۓ راشدہ کے بعد ایک اع مفات ران تے۔ ہر شخس آپ کے انداز حھرالی اور مخلوقی خر اکی تال ی کا ذانل تھا۔ غافت راشرہ کے بعر ان کا وور علومت غافت راشرہ کا سا انا
جا ے۔ رج ب کسی نے عضرت عبدائڈر بن مارک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے
پچ اک حر مواوں از ارت عمرین عبزالعزز: رضی الد تال خاش سے ۰17.. ا لے ڑا لوب مالک خخاوب کے تھوٹڑ ن ےکی اف کا خبار عمربن عبدالعزی: ٹٹ کے اعمال سے ہزا رگناہ زیادہ اتھا ے۔ حخرت معاوی رضی اللہ تمالی عنہ صحا ی 7ے تو تی کر صلی اق علی وگ لن عم بے نے ئن کے ور می کے خطابات یاف جھے انمون نے حضور صلی اون علیہ وآلہ وسعلم پر ایھان لاکر آپ کے تیچ ممازین بڑھیں' آ پکی ارت
مس ںی و عمرہکیا۔ کاتب وی تے۔ عائل فراین مصعللی مم گے بدوے سے بڑا
زنسحالی ان کے مقام و مرح ہکو نہیں تچ کتا۔
ترے خر رضی ال تعالی خ امیر عدنہ امسلمبین تے۔ آپ ا امام گر وروی کو و را تعلفی اور کو بای میا رو ل کھز: دی کرت تھے می بی ےی فی کو دی محالات میسن ماف می نگھرتے جاد رت خالد بن ویر حطرت سعد بن الی وتقاص ری اللہ تعالی عنما جیسے اہم سیا کر کروںل تر وا تر حضرت امیر متاو۔ہ رصضی اللہ تال عنہ کو اپ زمانہ غزافت می ان دہ تقائم رکھا اور ان کے کے امظام اور انصرا مکی ری فکی۔
رت کی کرم ایڈر وچمہ اور حطرت معاوہ رضی اللہ نما ی عنہ کے بای
اختاافات اظبرصن الشضس ہس صرف اخلافات ہی نیں بابھی جگیں بھی جو میں ا ہے اتور 6 ×طرت یرم لن وج نے اغلان گیاکہ نظرت معاوپ _
السار اچب ہیں مالمعاویہ ٰ ما
دن کی تھے بے پچ لڑنے ار ام تی ہیں۔ جمارے مفتول می من اور معاوبہ اخوائنا فو علیتا ” معاوبہ جماربہے بھائی ہیں مز انوں نے نے" رت عمررصی الد نعالی عنہ جب ام کے وورے پر گے و حضرت
امیرمعاویہ رضی ادل تال عدہ کے اشک رکی شان و شوکت اور ورپار امارت کا جاہ و لال دککزقای کہ" ماد ہارے مرپ کائکرٹی سے" عرت امام من رصی اللہ تحالی عنہ مات ماہ مند غلافت پر رسہے آخر آپ کے مض میں دسبردار ہو گے اور ماری ون نفرت امم ماود رضی اللہ شال خنہ کے رخف آارتی ارلاپ را علومت پر بس رکی۔ اگر حطرت امرمعاوںے رصی اللد تما لی عنہ پان و
جر ہو تے ت رت امام حصن رضی اود تعالی عنہ بھی ان کی اطاعت ن ہکرتے ور دی وہ یت ور یلم دتلہ وسلم نے اس
شنرارے حفرت ایام صن رضی اللہ تعاٹی عنہ کے اس مم لکی محریف فربائی تی ۔کہ میرا جا سید سے ا سک یکوششل سے مسلمافو ںکی دو بڑی جماتوں میں گی او ان تی ٰ
مطرت امیرمعاویہ رص اللہ تعالی عنہ رادی حدریث نبوکی تے۔ آپ
نے سیر ابو مر ملق حضرت گرفاردق' ام حبب رضی الد تمالیٰ مم کی وساطت ے ہت بی اعاریث روابی ت کی ہیں۔ ای رخ جیل القرر کا اور تی نے آپ کی ایا کو نف کک کے ال کی می بارس می ایپ ائم پاب کا اضاف کیا ہےے۔ 'آپ کی رو ایت گروہ ٦٦ اعادیث مپا رکہ ای ا نلم اوداو تیلئی' طرا ی' تر زی اور موطا امام الف یں مرح وت اور اج سے ردایات اعادیث کے ذقیر: مس ائل عم و ففق لکی راہممائ یکر ری ہیں۔ آپ نے معلرت یکرم الش وی کی خوافت کے روران ناس عان لد پر اتحا کیا یہ ایک ابا معالطہ اخ مر آپ سے اخلا فکیا حاسلا تھا
ٰ ار انخات نید اسقاوی ٰ ٰ 16
ران و زین ۰ 0 بیا نکر کے حفرت معاوبہ ری الد تَا یٰ عنہ کو شا نقید بناتے رت ہیں۔ حفرت ابوسغیان رض ار تَا لٰٰ عن کو پرا بل کین رس ہں۔ عطرح زی“ حخرت علیہ“ طرت عرد این الحائصس زضی 1× تعالی تعم ان کی زبانواں کا اشائرژں۔ نہ لئ کے بھرے ہو نے شیعہ "ً۳ و و رم وا وس ہن ۶ گر لی را کہ کے اہر ات سے امت مصصشی “ راثى اور شید 70۸ لا اور ]جع امت رمول شی دو فرتوں میں نیم ہ گنی ہن اق کی ففیلت کے ساتھ ساجھہ ان لوگوں کے ولوں میں لتض معاویہ گھرا ہوا سے اور اب يہ لفض علض سی پیرزادوں“ سادہ نٹینوں؛ جائ لگمد ی مشٗیتوں “اور کے مم ون سان چان کا نے چدھارے ڈاصکل ہواف م ون محیر ٹی نیش بعوالی زہمت انی علیہ نے ا کیا وی رت معاوبہ رصی ار تال ی عنہ کے کردا رکو بیا نکیا صحاہ ہکرام کی فضیلت اور عم ت کو بیا نکیا اور یم القلب لوکو ں لو زعوتج مظاک و ےگف رانک اع کردا ا وا کیا سے۔ رونا رت خشل عوالی رحد اللہ علیہ نے ” النار اھامیہ من ذم اناوت یی اوت اق زدگی کے ؟ تر یا مین کرائی شی . ان دنوں آپ 2۰٥ بت وو رک و ڈو سی ادرق ار ینالوط امہ چا ک کرای کے نر 1۷ا سو ھت 7ر یش رھ من و ا 2 ىیض مقامات پٍ زیان و مان می مظرمای کے ساتھ نا اشن کیا 7287770 7 لیو رو کے جاری :لف ای کے الام کو پند ڈرائھیں کے اور ال نین اپ یش کو پند "ا"
اسم مسوویصظنصمساہ سس جا ٘ ۶٥ ي4 ') ھ7"
ارا 7× تد لت ط عفر موا زا رر رش ہ۲
بسماللهالرحمٰن الرحیم*٭
الحمد للَه الذیی اوحب علی الکافة تعظیم اصحاب نبیھم و آلە المصطفین الخیار واشھدان سیدنا محمداعبدەورسولەالنبی ایا ر صلی الله عليه و آله وسلم و علی آلە و اصحابه صلوۃ و بلڈکا اتا فائائزنز وانپار پت امابعد بھم ایل اسلام تخحصوص] اسنّت و اجماعت پر وا جحکرنا فرض ور می مجکھت ہی کہ ڈارپے ڈیانے میس صحا ہکرام سے فش رم و ال ےگنعدم نما جو فروش لتض علاء اور پبرزارے اپسّت لاعت کے لمباس میں ام مسلمانوں اوہ ےج رو اور ظا نام ازوإح مطرات تعوے] برنا ایر مجاؤں رض !نی تی عو کے متفق سر کنتشاو کر کے جاوافت مسلمائو ن کو رو ریب کا فان ریا بے ہیں۔ سو لات دی بی نے ایی می لوکون کے چارے یح را وت ے یا سا ایر و" کٹ یں مر ری شا زار روس 7ر ررروں رتو مو روں 07 1بد افخ را ان زان نو آن دنا میس بے شار شیطان صفت لوگ انسا یلاس میں موجود ہیں۔ لن ایک کے پان ہیں ات ضیح وین انان ہج بت سے تع صوزت :الہ
اسار انضاعب: اس و مالسقاومد 18
تالی کے یاک درویشوں کے الفاظ اور عکرات بجر اکر ایسا جال بجچھاتے ہسے ساد لاح پہر نے یل ری اع ہے کی این انت معطفوی کے نی خواہ بی یکر فضل تھا
تب والراع تک اریت اث ہو ری ے۔ رای اور یں و اعطامے صا ہکرام کو رمعون ھ رب فائق اود طاسب کت پھرے ہیں۔ جب لان ےکمزام :ا نکی ابی بزہا کا نوٹس لے ہیں وہ انی خحصوصی پال ” تقیہ کو ساسضے نے آتت وں۔ مارے کا اے اك رافخی ای تد یں اور ان سا ارام سے لخحض رک ھکر سی رکساتے ہیں وہ امت رسول م الم کے سید نمیں ہو سکاب وا دائز؟ الام سے خالد حم ہیں۔ وو لس قرآکی کا برطلا افکا رکرتے جاتے ہیں۔ پیظرال ر مجحاب ہکرام سے کافرہی لخحض رکتتے ہیں۔ ان "یس سے اک
واوی اور پر بی ہن چو سرن 2 النر ثالی عز' رت ابو سغیان ری شا ای کے یت محط فی لم اور ازواج ای می کو بی نشازہ مننتیص نا ہیں۔ ا نضرت سیر نا ام مواوںہ رص الد تال تی گآ نپ ہے تی تنلئ ور عراوت ر ہیں اج سے سی لوک مو کی بواکی وک یایاونوں اور سان ا ود ہو ے ایال ےکا وک رت کے رح ہی۔ ممیون کی مانی ہوک ی سد ا ات ' اعادیثٹ کور ا لیا ایج 20 4 0۶۶ وس
ان عالات میں مول فکماب ( مج بی کنش طوا ی لاہوری بیز مو
تیر بی ) ال اعلا مکی شرطوابی کے لئ 'علم اٹھا رہا ہے اور ضخرت سید نا ام معاوے رس ا تال می سر اعراضا فک رنے والوںٴ مات میں بط اکر نے
انار الخاب اسےە مالسغاومہ ٰ ٰ 19
والوں اور ران بر مطا جن کرنے واے زہان زازون کر سیاتے ۳۱ لاتق 0و و کی 7 میں حر کر ا ا طباعت کا اہتما مکر رہا ہے۔ حفرت امیرمعاویہ رض اللہ تَا ٰیٰ عنہ پر اتراضات ک اواب نے کے علاو مان کے مناقب و فیا لںکو جیا نکر ریا سے ماگ آپ کے متقامم و منصب کو جانۓ کے بعد لوگ برا غٹیوں کے تر و فریب سے ت بانھیں۔ مولف کا انا عقید ہ ہہ سے صحا ہکرام اور اہنت عظام تام کے خمام سد سار ری یھ سس یس لے سیت ولف کے زین تام افیا کرام می الام کپ رت سے انضل فاقوا راشرمن ہیں۔ خافاے زاشیرین می بھی ہہ تر جیب خطافت ” خی رالقرون قری کی زی من خانمائۓ ارلعہ کے نامموں کے فخری رف مں ا نی اش فلت اور منص ب کو تلیمکر ہے۔ ( قرنی کے الفاظ سے غیفہ اول سید نا دیق اگ ر لیف روم سیر نا عمرفاروقیٴ غیفہ سوم سید نا عخثان عنی اور خلیفہ چچمارم سید نا عی ری رضوان اذہ یلیم ١ جمعین ہں ) ان حطرات ارلیہ کے بعد سیرنا گزہ و سبدنا عباس رضی اؤہ تعالیٰ خنما ہیں ان کے بعد سیدہ فاعلستہ الز برا سیدہ خد یہ کبرکی پھرسیدہ عائکشہ صدیقہ پھر سیدنا ایام حصن و ایام تین ؛ پچ رحشرہ میشرہ کے اق رات ہشن میں حطرت یر“ حطرت سیر حطرت زی مت عبرالرن بن عوف “حضرت ابوعبیرہ بن الجراح رضی اللہ تھالی تنحم ہیں۔ وج ری یل ریریوےےض 0 یی ات حول و جن
,ھەە9صھ/ زار ں عاد پخرر سار سار
التار الضامیہ این د مالمعاویہ ' ما اس اکھیا
لو سس ےی تج
یں مر اط را اوں سراۓ افتف راو موافشت کال سراراں نج ان کس ام و جا القرآن سااں کیل تے یی و عون قح یی رر
اب ۸۸ و مل مم ہم اک رعول سی کن ہر ا ود رھ میس رو کی وش یں میں بعد شان بارسول اقرب الناں اج وو رہ یں جمہ عاطران ہر سہ مکان اکر ور و مت الرضران مار نز دی جو مخ س بی معالی یا ال حوت کے کسی فرز کے اف ون آمیزاو رکتاغانہ جال کرے گا وہ اہنت وانماعت ےکوی تعلق 5 رے تا مم ای میک یکو تل نہ ںکرئے۔ رت امام ران رد لف مانی رح اللہ علیہ اپ کات شریفہکی ضز وی جک نی جوف یں فرائے ہیں "بش کی صحبت بر کا اش ماف کی رر سے بی وت ہت ام برق مرکو یں پر تین دع روس جا ول لیے ای رگ یں ران ا کی اون ہے لشظ نھمالکھا رکی رد نی میں کفا کی مفوں ہی ںکھڑے دکھائی دپے ہیں۔ شریعت صلی یی نل معابہ کرام نے ہی کی تی۔ کر ان پر الزابات اور احتزاضات لگا کے جایسں ل قرآن اور شربعت کا مقا م کیا رہ جاسم ہے۔ حضرتے ان رضی اللہ تال عنہ نے قرآن پاک تش کیا اکر ان > خیافت اد راہ دیا نی کا ارام کا یا جا ان ا کک یکا تیت رد جالی ے۔"
انار الشاضیہ اس دم ااسشاوىہ ٰ پا وھ
ساسا سے سمممومس چٹ ھود-ہھا۔
ہس حرت مجر الف مانی رحتہ الث علیہ اپنے ایک اور تپ جلد اول ر۴ می کک ہ کہ ہ اصل مقصور بی ےک اہسقّت والہخماعت کے عقائد یہ عم لکیا جاے۔ اس وولت کے ساججھ اخسا نکیا جائے و کائی ہے ورنہ اس عقیرہ پر تقائم رہنا بی سلامٴتی کی علامت ہے۔ اکر ہہ عقیرہ سے تو سب بجھ
حخرت مدر الف مانی رحتہ ار علیہ عقیدہ کی درگ یکو بی ابمیت یییتا ہیں ۔ اکر عقی ورسزی. نہیں فو ظام انال ' نمازتیی؟ روزے ' رع وکا ”کہ جمادو ال سب بے کا ہیں۔ بی وجہ ہ ےک تام اعادی ٹک یکماوں شس ضا ۳ن مو لیے ال اور اق کی کی ا تا الایمان سے شروع ہوقی ہے۔ قاضی شاء الل پائی پت رحتہ اڈ علیہ نے *فغیر مطبری “میں تمام بر عقیرہ اور بدباطن فرفوں کو 7 فرقہ ضالہ '' ترار دیا ہے۔ ہم اللہ تعالی سے جج العقیدہ بر قائم رہ ےکی وف ماسگے ہیں اور باطل فرتوں اور برا عتتقار طبقوں ے اہ گت ہں۔ ۱ فرقہ بازو ںکی نزصت
خضوں گی کریر صلی اد حا لہ عم نے خرایا من نارق
انشاف ان فا رو لا لام غن قد ت ضس تی نے ااشت بجھربھی ابی جماعت میس تفرقہ پیر اکیا ا سک یگمرون اسلا مکی ری ے چد ا ہو جال ی سض نی وا ارہ الام حے یل باءاے۔ا میگ 0 حضرت ال زر ری اللہ تما ی ع کی روایت سے سم ڑ ریف کے ساد مشکواۃ مراف ۱٢ دریکھا جا سکم ے۔
ال علے نے اید ور بی کو یا نا ےکک جو
انمار الضاءسہ سی ە مااسھاوت: 22
مس ابل برعت کا اترام کر ہے یا ان سے تھاو نکر سے وہ ات را وت کے علق سے ئل جا ئے گان امام اج بن معن :رجہ اود علیہ نے اس عریث پا ک کی روشنی میں گلا ےہ علیکم باالجماعةو العامة ئم پ لاڈم ےہ خرس سے وک امن اشنت بے والے روم ْ
کوزع ڈرو مں السا ے کہ اتہعوا سوادالاعظہ پیشہ سواو الم کے ساتج چلو اور ای کی اع غکرتے رہو۔ حطرت شاہ عبر العزہ: وہلوی رت ال علیہ ہے انی تیر میں الاسنت زاجراغت سے وایتگی کی کی کی ہے۔ سوا ات ۲-۔- آظووڑے کہ بدعتیوں ے ور ہیں'ان ے اس و مت ےپ یا نکی ماس میں حہ جاتیں “ان سے ہم پالہ د لم موالہ یہ ہن۔۷ می مدعتیوں نے لن ول تھے گا یا دک کرے کا وہ ور ایمان سے محروم ہو جا گا۔ ایمان کی اوت سے دور ہو جاے گا۔
متا دن کے ا متزاضا تکاجواب
کیا رن ماپ من کوک ایآ کے موجور سے کس سے ہہ ات ہو ریگ رام فرفون لے مناخ ول نہ رکھا جا کے ا چم اض سوالی کے فذزابت مس قرآن پاک کی آع تگرھہ لانقعدو بعد الڈکزی مع القوم الظالمین ٥ تم اس بادآ وری کے ساتھھ اپسے لوکوں کے ساس اٹھنا بیٹھنا تر کر دو جو نام ہیں۔ "سے عقیقت ہےکہ ابسقت وابجاعت کے علاوہ تما مگراہ فرتے الم ہیں۔ ا سپ کرہے۔ ت یی ۳ہل مھ میں تصفمیل ے رشن ڈال ے۔ اسی طرع جماربی ایک دو ری تفیف ” اخراع النانقین من سار اہین" ا6 ” رسائتل خمس "میں اس مل ہکو وضاحت سے میا نکیا ے- ادن ار کے شی ر ھا < رح کے ون انت
انسار انضامس اس دم السھاوے: أ سس ما مہات
سے ےسک مہ
واتھاھت پار راہب بر مشقل بین جن عفن ان تار براجب سے جدا ہوک ری دوسرے فرقہ میں شمولیت انقیا رک ہے وہ ام ہے بدجی ہے اور دوزئی ہے۔ بھم نے ' طاودی “کی عبارت کا خلاصہ میا نب دیا ہے۔ یی ان لوگوں پر عرت آکی سے جو سید بھی ہیں قاددری بھی ہیں فاردئی بھی ہیں ادر مچددی تی کھلاتے ہیں ٴ پھر شیعوں اور را فقیوں سے رابطہ رک ھکر ان سے دوستی ر کھت ہیں۔ اس مل کو سر بے عبرالقادر جیڑالی رحصتہ اللد علیہ نے انی محروف کا دی انظائرت گج نگامیرے ےن آپ راج یں کی ال برعت کے سا عیاش کرنا یا فک کرنا دجاس شی سے ہہ ان سے الا و لاتقات نمی ںکرنا جائے۔ ان سے سلا مکرنا یا ان کے ساس کھاناکھانا ایت بی الہ طرت ہے ایا اعم ارت الہ علے نے را سے جو مس ای برعت کو ا لا مکرا ہے با اس سے دو یکا ہے دہگمراہ ہے۔
س0 و 00م سر و زارد مرو آ۷ میں رجا سا با ٠ں مں اغار روز ازز خت تادہ جو بنعتی ےا اشن ری نک مانکت ان لم سے اجقاب کریں۔ ان کی خوشیوں میں شرات نہ کریں۔ اگر وہ میں نازے :شر جائیںب غنے کے بعد یی جب ان کا نز ہو نو معرللی عرارت سے ری زکریی۔ ول میں ان ے لفرت رن اک یرت منر انا ن کو ایر تما ٰیٰ قرامت کے دنع سر خر وکرے گا اور بھشت میں سو درجات عطا فرماۓ گا۔
و لوگ انغ پڑ عی منانقین سے خیرہ نشاتی سے پپٹنی ہت ہیں کانىر اللہ تما ی کی لعنت نازل موٹی ہے۔ ابین مغیرہ نے حخقرت ابی عباس رص اللہ قالی کے رز کی سے رون اللہ مصلیح اش علیہ ول سم سے فرایا "ال عھالی ایی مر علی کے اغخال قول میں فریانا جب نے دع سے وب
کرد ابی کے اعاصن قول نہیں بیج بارے_"
عطرت یل بن عیاض رحمتہ اد علیہ نے ردابی تکی ہےکہ جو مخ ال بدعت نے روخ رکتا سے فو اللہ تمالی اس کے اعمال طض اکر دا ے۔ آپ نے فظرا یا اکر لوکی ب زع راو میں اظ رآئے وو" راس چھوڑ ینا جا ےن عطرت نیل بن عیاض رحتہ اللد علیہ نے ایک اور مقام بر فرایا صحاہکرا مکو ھن ملع یکرت وانے بد عق کی نماز جنازہ بھی ادا خی ںکرلی چانے اس پر یش 3 00 تب جک کنا سے قب کے کاپ اللہ تال ی کا غحضپ نازژل ہو یا رے گا۔ ٰ زایپ سای دحل الد علی. روا کرت مہ ںہ اگ رکوگی نخس حریث رسول طللم م نکر یا سنت رسول لم سے خی اکر یہ ک ےکلہ ق رآن بی گررورے جو ئا شس گرا, ہو ہے۔ آاترریں عالات اہنت و ارات کا حقیرہ بی متوازنع اور درست ہے۔ شیعہ سحاہہکرا مکو برا چھل اک کر بھی اپیے آ پ کو سی کملا نے نایب ای نخبیدوں نے مین جول عرامم ہے ان سے بعت درست عیں-۔ اہشّت واہراعح تک فیلت
.7 ریاض النا بین میں لگھا کہ انت وابجراعت کے عقید:پ قائم ہونا بڑے اہج و شا بکی بات ہے۔ تضور م یکریم صلی اول علیہ و آللہ و سلم لے لے 7ہ سکگستتی علدفادامیٰ لاہ ریااشہیات و یف اح الفکفاز اور فا گیل جانے اس وی میری نت نال کر اک خر بے راب لے رارے۔' ' ایک دو سری روابیت میں ایک ہزار شیروں کا ڑا جاے۔
الخار انام اس د مالسعاویہ یت
ام صن سرشری زا ال لی نے ایا ےک جو ضس اہماع امت کے فیصلوں بر عح لکرے گا وہ قیاصت کے دن مل صراط سے ک کی رفمار سے گزر جائۓ گا۔ اس کا رہ چو دعوسس کے پان ھکی رح روشن ہو گا۔ ان نے اق شرری ےر اور فمار کے زمانہ میں وین و ایمان گی طام کی جاۓے۔ الیے موائع پر بد گی عام طور بر راو راست سے یسل جاتے ہیں۔ وہ افسالی خواہشات کا شکار ہوکر اندعیری وادیوں میں بلک جاتے ہیں اور ابٹی مفسانی خواہشات کا شگار ہ کر رہ جاتے ہیں سلگواۃ شریف میں ابرائیم بن مصرہ رضی الد تعالی عنہ کی ایک رواٹ مجر کہ تضو زج یکر مععلی :لوہ علیہ وہل نف رن فر ای موق صاحب بد تہ لالح ئح گال برع کی وق کر سے وو چم میں سے مین ہے۔' ایک اور مقام پر فمایاکہ میری امت کے بر فرتے ہو جاتیں کے یہ نام کے تام کی بہوں کے صرف ایک فرقہ مجات یافت ہو گا ( انت و جحاعت) صحاب کرام نے عر کی یا رسول اللہ موم !و ہکونسا فرقہ ہہوگا؟ فرمایا جو ار تھا کے ےر ےکا مع العلوم میں امام مم الدین نسفی رمق اللہ علیہ فرباتے ہی ںکہ رو ای لف ںی سے سے ات رکھنا ایمان سے خروم ہونا ے۔ ای روای ت کو 2 ابودقاقی رت القد علیہ نے لف اداز می یں غرایا ے۔ ذو کے ہو ںکہ ایک انان ہے دن میس مین ساثیۃ رکیں ہوئی ہیں۔ اکر ین سو اھ رگیں حابہکرا مکی حبت میں تائم ھوں اور آن میس ہے ایک رگ بھی ان سے حرادت رھت ہو تو مرن و ہے ّ3 ت کو تععھ ھا نے اک ہف نکی عیلڑڈا اس رک کے رات سے شی جا ٹس میں عیرنے رسول کے ما یکی عداوت تھی۔ وہ اٹی اس تحوس تکی
و ہمہ سم نو اع مت عم وس ا رکا رجہ ںی ہش شڈ پش ہے ہج و ںےہ ےش سج ہہ ںہ 7ن
وجہ سے عزا بکی موت گل خا لکزی نک ععفو یکر می اللہ علیہ و آلہ و سم کے صھالی سے نی رک کا سے ان سے سو جو لوگ تضور بح یکریم ۷" از سے ال ےئن مل القر پارے ساپ ے عرارت ر کھت ہس ان کاکیا حشٹر ہو گان حییعہ و ایے پر بجنت ہی ںکہ و عضور اکرم صلی اللہ علیہ دنہ سم کے چند ھا گرا مکو چھو کر سادے سحابہ کے ون ہیں اور انیس معون اور منافی کے ہیں۔ ٰ
٤ کے جال لاف بے :رشان ا کی کو سید کت ہیں اور اض ضر یمام کے میں ملا مکرتے ہیں۔۔ ای لو ف گرا ہیں۔ انسان کے پدن کاکوگئی عضو ٹراپ ہو جائے و ڈاکٹر اس کا فک بعد ہدکر رین جس الہ وو دو مرنے ا ضا کو تار نہ کرے اسی :رح مات اسلامیہ یش ے اک فرو جو ماف ام نے غراوت رکھتا سے نو اسے طت اسلامیہ سے مسر دا جا ہے الو مد رانخی ہوکر صا کرام ے گقض ویراوت رکتا ہو تو اسے ہرگز عزت نی نی جاک ۔
جج رہ ار پر پل
السار القاب اس د مالسغاوبِ ٠ کر رتھ
سحالی رسول مم کے فضا نل و متقامات
صحالی وہ تیم شخصیت ہے ننس نے دولت ایمان عاص ل کی اور ضور یکرییم ععل اون می گل مکی پازگاء مین عاظرو ھکر شرف زیارزت افش کیا پپھ رآ خر تک اس ابھمان و ایقان بر قائم رہا۔ اےیے صھالی کا درجہ تھام ائمہ امت اور اولیاۓ کرام سے اولی اور اع ہو ىا ہے۔ صحاب ہکرام کے احوال و مقامات پر الاب یکن ب کی ای کم رتنداد موجود سے اور ہر زمائے اور ہر زبان می اب یکمابیں سام آکی رہتی ہیں جن میں صیاب ہکرام کی عظقمت کر ہوٹی ہے۔ اسلائی مرن اور بیر تک یکناہیں' کحابہ رسول مم کے فضا ئل و احوال سے بھری ہوٹی ہیں۔ ان عفرات کے بلند مقام سے اڑکا رکرنا ق رآن و اعاریٹ سے مر ہونا ہے کیوکلہ قرآن پا ککی آیات اور اعادیث کی روایات اہ کرام کے فضا لکی شمادت دیق ٹیں۔
ان دنوں ساب کرام سے رشن کی بیاری اپیے مصنوگی ساوات
زان کرک ری ہے جو بلاضر اۓ کو عد فولانے کے عریس می گر ار ہیں۔ صا صا ہکرام کا وشن اصلی سید خی جو ساماں شس انی مس نکوذت 6٤0ھ+7 7 موضوع اعاویث و اشبار سے لوگو ںک گرا مکرتے رجے ہں۔ کا۔ کرام کے بابھی اختلافات اور جک ہل و صشین کے واقعا تکو بماشہ بن اکر لوگوں ک و مرا کر تے رج ہیں. ائل ابمان ان داقحات پر تاصوشی افقیا رکر کے اپچے ایان کو کفو ا من لعل آیا کی کو ور خپدرے ہیں جن یس سحا ہکرام کے فضائل ساتے آتے ہیں۔ ٰ
انضار خاب ندم مقار ٰ ۱ 0
سم سیسات ےسیا
ا مد رسول اللہ وانٹین متداشد آءعلی الکفار رحمأءبیتھم تراھم رکعاً سجدا یبتغون فضلا من اللەرضوانا سیماھم فی وجوهہم من اثر السحود ذالک مثلھم فی الٹورۃ و مثلھم فی الانجیل گزرع اخرج شطّ فازرہەفاستغلظ فاسٹوی علی سوقه یعجب الزرا ع لیغیظ بھمالکفار وعداللهالذین آمنوا وعملوا الصالحات منھم مغفرۃواجرا عقشعا 27
”نم مم ایل کے رسول ہیں اور ان کے سای صحابہ کانفروں بر مت ہی اور یں یی وک اواز عھی کر ون“ فے اخلین دی گا رکو حکرتے کیرے مس کر تے؛ ال کا فففل و رضا جات ۔ ا نکی علاصت ان کے چنروں یں ے۔ ا نکی شانیوں پر حیروں کے نشان ہیں۔ ا نکی ىہ صفت تو ریت بی ہے اور ا نکی عصفت ایل میں ہے ن تیسے ایک گحیتی اس نے اپنا پھا کل برا سے لات دی پھردجنز ہوئی پچھرائی ساق بر سید یکھڑی ہوک یکسانو ںکو بل گی ہے اک نے مافووں کے ول ملین ال نے وعد وکیا ان سے جو ان بی ایمان اور ایجھے کاموں والے ہیں شش اور بڑے واب کا۔'
ماس میں کیم بل مور ے مار سرن ابوبجر صد تی رص ال قعال ی عنہ ہیں ا نکی بیعت فص شری سے مابت ے۔ جب فرایا لصاحبە لا تحزن ان نا تو زنک گے جن از وو کہا گکر ندکرو اڈ جمارے سماتھ
ک ہے ٦
8 ۰ - و 7 ور لا و ال رت ور ساط رب ”اتی“ کے ناسول سے پکارا ہے۔ تم میرے بھالی ہو تم میرے دوست ہ۔ ھە. ۰ ور رم
اسار الضاصمہ اس د مااسھاویہ ةۃ77 سس
اللہ علیہ وآلہ وحم کی غلائی یں صر فکر دی؛ ہر موقعہ پر جلڈاربی کا تق اوا کیابہ معوا کرام یں ایس در چہ "می “کا ہج پ بس باند درچہ ہے "لے وزم سید نا صدبق ابر رشی اللہ تالی عنہکو پر رجہ اتخم عاصل تھا۔ پر ملا ن کو ر ول ال صعلل ال علی ال وس مکی معیت عاعحل ون ای باکہ ات سینا ربق ہر رھ اللہ تاثی عن کی قریت کااءزاز بھی حاصل ہو اور حضور صلی الف علیہ و آلیہ و مل مکی خلائی کا شرف تھی۔
اشداء علی الحکفار
قرآان اک لف عحاہ کزام ہے اک رموی ا اع الکڑا نے 7+“ 0 رک ون ٹکو نی ابی سے ران فرمایا ہے۔ پ سفت بدرجہ اوی سیدنا عمرفاروقی رضی اللہ تعالی عنہ میں پائی جاتی تی۔ آپ کی شرت کایہ عالم تھاکہکفار فو ان کے ساس دم ود رج تے۔ مضور بھی ری مالعا ال لم نے کے لئے فیا ا کہ عو سے مان ہے خیطان بھی بھاک جاتا سے "1م روابیت میں لگا ےکہ حطرت عمررضی اڈ تمالی عنہ جس راہ ےگزرتے شحیطان دہ راسنے پچھو ڑکر بواک جا قوا۔
قرآن پک نے عحاب ہکرام کی ایپ اور عفقت بیان ڈربائی سے کہ وہ آپپیں میں بوے رم ول تے۔ ححخرت عثان فنی رضی اللہ تھالی دہ رتم ری ض: داء میں بے مال تھے۔ ا نکی رتم دلی کا یہ عالم تھاکہ جب پاغیوں نے آپ کک ا ار نے کے درے بر کت یرش یں کی ٢ اپ ے رقم دلی کا مظا ہرہ کرت ہوئے مسلانو ں کی غ یی سے اجقنا بکیا اور ای وا کو ان سے لڑنے کا عم نہ دا تہ آپ قشم رکررے جے۔
انار الضامس اس دم ااسعاوہہ ْ 30
صحاہکرا مکی ایک صفت يہ ع کہ دہ دنا کے سارے معاللات میں مروف رمے کے پاوجود الد قھالی کی بارگاہ میس مرکوع و ود میں کو بای نہ کرتے تھ۔ راخیں جاک جا گک رو و چو رکرتے۔ اگرچہ یہ عفت تام صحاب کرام میں پائی جاتی تھی گر امام الاولاء سیر الا تقیاء حفرت علی ال رلشی رض اللہ تعالی عنہ می پدرجہ اتم پاگی جاتی شھی۔ پک نماز “ آ پکی عباوت کا یہ عالم تھاکہ آپ اللہ تھا کی ستی لایزال میس فا دکعائی دتے تے- آ اٹ ان زنی اور چماد میں محروفیت کے پاوجور رات ےب ا نشی ہے فو ال آداکیا ا ٦ شر ساقفں عو کر ا نے ال کی پارگاہ می ںگڑککڑاتے ت ےکلہ آ رج تمام اولیاۓ امت آپ کے سے تق وم حر پچ ل کر رزای٢اغزاز واگل 'بة سں۔ قرآن پاگک صعحا کرام کے اوصاف جیان کک رہاہے اور ےکم صحاہ ہکرام میں ہہ اوصاف نمایت اولیت سے پاتے جانے تے۔ خی ر تصحای نراروں نمازس اواککرے“ ہراروں اعمال تھا لا ایک ال کے وری کک نمی کن نکیا او رکبھی صصعائی کے برابر نمیں ہو سنا صا زا م کو سب وشن مکرنے وانے ایماع سے پامھ دو مچھتے ہیں۔ ۔ ہم یہاں ” خلاصة ضو ور الیک اقماسن پٹ ریا ضردرکی, کت ہین“ اب موضو عکو و ایق ےک ا٣ے عو کی )بن واے۔ قرآن ما کف کی ۶۳ ۰ و و اورددں رف تھی ا شا کیاکی ےا صاحب ”تل کشانن'' نے حطرت خرمہ رضی اللہ تعالی عدہ سے روایت در کی ہے۔ آپ نے رای
السارز الشاصعہ اسں و ماسطاودہ 7-٠ 21
جموےڈوبسیےےے,+سچسب
کہ شطاءہ سے ھرار سید ابوتگر صدبقی رضی الد تما یٰ عنہ ہیں۔ فازرہ ے ہرار رت عمرفاروقی رصی اللہ تال ی عنہ ہگیں۔ فااستخلظ ے عرار رن عخثان غنی رضی الد تی عنہ إیں۔ فاستوی علٰی سوقہ ے راد سی رخد اسیر نا لی لی رضی الد ای عنہ ہیں
پر ایر و ا رر و سار تمالی کے ول وعداللهالذین آمنو ” ال نے موموں ے وعرہ ترایا ے۔' را فیوں کے قمام وعوو ںکو مستزدکر دا ہے۔ رای صحاب ہکرام کی وشنی ٦ت سے کت ہہ ںکہ معازائند تام صحاب ہکرام حضور بی اکرم صلی اوہ علیہ ا و ا رھ ہد ما ا خر یر وم الھ اخ رے کا ےل سحا ہکرام عحل صاخ کو زندگی کا مممول بنا ہہوئے تے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالی ان سے محبت فرا]] یک ان سے راشی ہو گیا اور وہ اللہ کی رضا کے سی ا تر و کا
ران ماک کی بے شا آ یا ت ابی ہیں جن میس صا کرام ہے فا
واحوال ماع ریا گے ہین۔ ہم پیان نیل سے ما نکرنے سے تاصریں۔ اعازیث کا ایک بت بڑا زج اہ رعول میم کی عظرت و فضا ا ینعی ہے فرآن و اعادت میں سے بات پر آیث اور وزیثٹ شض < متلقہ بائی جالی ے کے مار رام کے سرممہ ے اور انیس بوق رم الفاط یی یا کیا جاے۔ اگمرچہ اہ ہکرام کے علادہ امت رصو لکریم مل کے اولیام' اتقیاء بھی تابل ستائش ہہ ں گر سحابہکرا مکی شان مفرد اور تاز ہے۔
ار ار جلا چمارم اور ” تی رروں العال ی “اور ”این رم
می مسحابہکرا مکی شا نکو بی خولٰی سے جیان فرما گیا ہے۔ جم اس کا خلاصہ اور
انخار انضاصہ اس د مالمعاویہ "ھ8۷0"
قرآن پا ک کا ایک الیک لفظ صحال یی محریف کر ہے
رنغون فلا مز الام ضوانا دا یس خام ماب کاؤکر ٢ ہے ان اوصاف میں تام ابل ایمان بھی آتے ہیں جو قیامت کک میں کگے۔ امام مالک رت اللہ علیہ فرماتے ہیں لیغیظ بھمالکفار ے ماد ے ےک خھام کغار صعابہ کرام سے ٹفش رکھتے ہیں ۔ گر مسا نکملانے والے رانپشی بھی سحابہ کرام سے عیفش کی نناری میس جا ہیں۔ جو مخفیس ماب ہکرام سے خنض رخ رکناے وہ اق سے۔ اکٹرعلا ےکرام نے اتی نفاضیریں اس آیٹ کن ا رق ""لاےتھ ععحابر سے تلض رھت یں۔
حر آائ یں رضت اللہ علیہ کے سان الف گن نے صحاب ہکرام یت ت3 کیت بذ کر فا اکہ مج کے دحل رام سے ض 9 والا انان ام جک ابنا ایمان سلاست 20 کپ ا حطضرت جا لق رت رضی اللہ تما نما کی ردایت ان انداز می میا نک یگئی ہے سے عاکم نے بڑی وضاحت سے یان رما سے ہے اه انکغا رق مفاب کی بڑئی ای سشت نے ان عفیا رف ا وکغار برا کیٹا ہیں ٢غ زرل نج یکناز یے متش رم بر پچ لکر صحابہ رسول کے خلا فکمانیاں میا نکرتے رپچ ہیں۔
می روح البیان *( سفھ 1۸ا ' لد ے )" فی ردرمعور*
دح و مور مر میں میا رام کے مق ال کی لے ہیں جن کا آخری قرم ہے ے کہ وعد الله الذین آمنوا وعملوا الصالحات ے آی تکریہ تام صحا کرام کے متعلق ہے۔ حرت عبدالقہ این عباس رحمتہ نر نپا میں اس ہآبی تکریہ کے مت معحابہ کے بے ار
الخار الخاص+اس دمامقاوے -- 7 3ھ
۶۶۹۶۷۳ “ٌ۶ ۹“"ً ئ۶ 00ھە9+"99ٰبھ۷ھ8۷٢ 8 و و ٠ دوونوں حٌائل یں۔
طظرومر سے 9 رر و نال ری ' آقے رحان! تفیزلح ابیان ؛ آقے 4چ مور“ تقی مال التنزیل' مس اس آی تکریہ کے تحت عحاب ہکرام کی صفات بیان کی گئی ہیں ان سکاب ے مخ ضکرنا لن و شف کنا ایمان سے ہاتچھ دجو نا ہے۔
السابقونالاولون من المھاجر
ار نول لئ عاونا تھے ما یق کے ہقاف بارخ مین ون کے ت۲ رما بن آرام میں سابقون الا ولونکا2 ام 6 0 و وم وو یں مت .۔ لاکن اسلام کو اچاا ان قج رے موعمولے یں اور نت 1 زار اون ین مص“خازہ خمام امت کے امام ہژں۔ ایم امت کے پچ وا یں 3ہ سان تن ظا ےر رے کو غورای رات کا کرژن ٢۷ کے ہوۓ تے۔ مساجرین و انصار کا ای کگروہ ان سالقون میں شار ہو پا ہے۔ پھر نام ماج اور انصار محاہہ سابقون اولون میں شار کے گے ہیں۔ ان حاپہ سے
۵ 2ھچ کی وا کرام کے تا یی مین و تا ۶ ) 776 00م" ٰ وت ا یہ را بھی خی اتک ریو الین کے لاب لک کون تی سان مار رام ۸2 کے افبال و اٹوال واجب الاتا جع ہں۔ ان سے انکا رکرنا کفر سے سے بن ہن ا نیل کور خی یا رر ہل نا دب اب
السار انخاساسیہ ءالسعاوب 8 ۱ 34
بات ورازی بر رجے ہیں اور عطرت علی رضی ازند تعالی عن کی منفببت بیان کرتے ہیں وہ بھول میں ہیں 'خرت عل یکرم اولد وج کسی صمالی رسول سے نہ اخلاف رتچ نی کمن و رام کے تام ہیں میں مرو شکرتے۔
رت مرو الف مالی یہ صحابہ مرا مکی افعفلیت بیان کرت ہیں
بھم ان عفثرت مرو الف انی جخ اھ سرہمندکی رحت الد علیہ کے کور مر بج با جار وا الف غاب کا حوالہ وی ہیں۔ آپ نے سور کی" جا رت ہے اکا ےہ الد جل شانہ نے ا وب کے کاب مت دوضرے کے سان عمال محبت اور الئیتب ہے ری کے نتاالہت رق ے۶ 7ار رتیداض نکر فرمایا ے۔ ”رجا“ افظط مبالضہ کے طور بر اواکیا سے جس کے معن مہ ہی ںکہ وہ انتمالی کال نے ایک دو طرتے پر مربان اور رت مکنندہ تھے پچھ ریہ افظ صفشت ہش نے کے سیا اہ احفمرا رز گی ہے لان ان کی بای محبت دجن خی ار ہے غغز 0 لزا امت برہہولی کے پر فرد کا فرط وٹآ ان رات کی حموت ا لی کی کا جن ھنا وگ سے محبت ور نی ریم صکی ارہ علیہ وآلہ سم سے محیت کی علاعت ہے اور جو بای ان تھا۔۔ کے غراف رای نے ور رت یو رین جب فور تی اکر مم کی ال عال رو ال ٥لغ کے رام سوا اما مت سے شف تے ۴ل ا ا میگ نے خی شی ہر سا ان تراق کے وو اسان ا مس
و لے اواژم م ناك ا بھی ےک خلقی بر خعاجیت عمریالی اور
777 ےءٰ٘٘ ١ شیواے کی پنھاھی
شفقت کا سلوک کیا جائے۔ ہر نی میں ہہ صفت پاکی جاتی تھی۔ سید الا نیاء رععت ملعا مین صلی الہ علیہ و آلہ وس”لم میں ہہ صفت بر رجہ ام پالئی جاتی ے۔ اخیاء کا اغائی' ر ہمت اور بت ے الامال ہا ے۔ فور نب یکریم صلی ایر یل و لے وسلم کا اخلاق تر اع اخری اور اسو حث کا تموئہ کر وی کن ؟ را ن۳ل غارات رڑل نضور م یکریم صلی اللہ علیہ و آلہ اد جو کے مف رور رت آپ وے ین ای کی ریت دی "دہ مین ات ہت وو حابق: پر :اود اون کک اڈکابا کو مفور غ کرت ی کی اب چو سابقہ اشیں فضیات کے القاب سے مب میں وہ بھی حضور ب یکریم صلی الذہ علیہ وآلہ وسلم کی امم کی فضیلت اور انطلیت کے ساسے بت دکھائی ری گییں۔ آپ ٹڈ مکی امت خیرالا مم ہے اور ایمان یش سب سے بلند درجہ پر فان ہے یہ انی نے ازین مان اوز نجانوں کو القد مال ی کی زار میں سب سے زان تریا نکیا۔ : ۱
شی الرون بھی تفور نی ریم صا ال طل و ال و سلم کا زان مان ہے او رآ پکی اعت کوائ زمائر میں زبیت کا موقعہ ملا۔ تضور ر ملت ملحاٹٹن س اظ از سس زات عیبر ابر اورپ کے لا ری ترالناں جے۔ جج وآ این لت رک اوپاء اللر گی بت یں رے وو ر(ط عازانت سے پاک 6و خجاتے ہیں پھریشنع جعفراری کو تضور بی ککر 4م صلی اوند علید 00 ھی ا سے ٢ک اور امو ہے ر1 ین صر قب کر دعین وہ رزلہ عازات می کور ملوٹ ہو کت ہیں۔ ان مصيا کرام کے منتحل کسی مکی برای کا ور بھی نمی ںکیا جاسکتا۔ ٰ ٰ
لا رام رو فرو کی نگھت روایات
7 رر جک اممت رسول متام کا یڑے سے بڑا ول اللہ یا ایام حضور ٹی
وبنت جچریزنز مر
انار القاس:لمند مالمعاوتد ٠ ۱ ٰ و3
زی اللی ای وا لہ وسلم ب ےکی سای کے رجہ کو یں کی سکیا۔ حعتززت
کیل رحمتہ اللہ علیہ فریات ہیں ما امن برسول الله من لم یؤقر اصحابہ”ں
نے تصحاب گرا مکی تفظیم نہ کی وو رسول الطد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بر ایمان ین یا نف اوک بتاک تج سک متوگ یمکرییر لی الد علیہ لہ لج ممیاز اعم رہ فرفوان ہیں بے ہو کے تھے۔ ای فا3 ونگ روہ جو ححخرت لی کرم الد تمالیٰ وجہ کے غلاف تھاگگر ایک طبقہ دہ ہے جو آپ کے ساتھ محبت
1 سے ںآ فان سر لوان شطیقبات ایک دو سرے ہے لن کھت سے ' 'یراوت
رک تر ایت بے نے لت جھڑتے رج تھے للتض صحاب ہکرام ابی ممسکتو ںکی وجہ سے دونوں سے تعلقات رھت چے گر جح صورتحال سے میس ہونے دا یتوہ با تک وشیدرۃ ز کھت تھے انی نیہ کت .دہ بی بھی گا نکمرتے ہی ںکک ای بربی عادمیں ان صحاہ کرام کے دونوں طبقوں میں ای جاتی ہیں اور زندگی بھرایے خیالات مس رہے۔ نی خیالات نمایت روہ ہے نع کا بر۴ اتال تصحان ے کوئی تعلق میں پلیہ الزام شراٹی سے عحاہ کر ا مکی پاکیزہ زندگ یکو تس خرن ےکی بدتری نک وش ہے۔
07 ےا لیے الع لوگ لگ رام میں ۶ رق رر اخلاف کی کھائیا نے رج ہیں ازر اختظار چیا کچھ ہیں۔ بیہ لوک انی بد اشن کی وج سے تورم کر صلی ایل لب و گلہ و لم کے ہر زماذہ کے رین لوکوں کو نع الفاظ 7 ہگ ں۔ عالا ظل تضور بی بریم صلی ال علی و الہ "ا 7ازہ اون رور قھاف آپ ملییل کے تزمیت اف صحاہ کرام بمترین اغلاقی و عادات کے بالگ تے۔
تضور ن یکریم صلی الد علیہ و آلہ دم کے صا کرام کی راز د بخوں رت کت کو چاردائف عام ے میس یا ا موہ ملا چم ران
العار اقا ایہم تحار ح کت 7
خر رجہ سے رن و سن ے اق وہ نے ہیں ری کہ رت میں اشی صحاب ہکرام رضی اللہ تعالی عم کے زمانہ میں اہماع تقائم ہوا تھا۔ اکر یہ لوگ سب کے سب پا اع میں سے اکثری ٹکو مطعو نکر دیا جائے اور اشمی ںگمراہ وفاس ما خائن قرار دے دا جا و پروی نکی می تکیا رہ جاٹی ہے۔ تضور ب یکریم صلی اوفہ علیہ وآلہ وسلم افضل الم ری نکی حغ و تزبیت کاکیا تقام رہ جا ہے. اپ کے ون بر تطریف لانے مسعوت ہو نے “ لوکو ںکو بر این ککرنے کا متص رلیا رہ جااے۔
قرآن ہا ککو کچ نیب نے ج کر کا تیم کام سیدنا خثان خی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاتھوں سرانجام پیا تھا۔ عطرت صد بی اکر اور جحضرت ھ روا وق ررخضی ال ماعنا اس ام می ایت ائی !را کر جےے تھ۔ اکر معازائڈر اسے لوکوں کو بی مطمحو نکر دا جائے نپ ھ رآن ماک کے پارے می ںکیا کیا جا سکیا سے کیا ہے لو مسعلوزب العزاامت تھے کیا یہ لوگ اختبار سے تحروم تھے اگ ایا تلی مک رمیا جا فو ان ب رکون اخقبا رکرے گا اور دی نکی غیاد سے انا عاے گا۔ ٰ
جن الین ےرا لی کر زگ یکلہ صصعاب ہکرام نب نے ٹن قابل اعبار ہیں اور ممجرہیں اور ان کی وساطت سے گڑیں جو دین ملا بے سب چ اور برجؾخ سے ان حثرات میں کی رت امیرمعاویہ: رصی الد تالی عنہ رود من حم کے تعععلق جے' و افسال خراشات ۴ سے بر کہ سلطت کے اقترا ری وجہ سے تھ۔ تام حاب ہکرام خلافت کے نظام کو درست ری نے نے اعلام کی سربندی کے لے کوشماں تے۔ اکر اہتاد اور تاس کی لے کوکی مض چوک نو اسے خرن ادراعادی ٹ کی روش میں ملسون میسن بھا جاسکتا۔ اگرزچہ اس اجتاد میس ایک غرلق خطا بر تھ:باہم ہے خطا بفاوت با
العار سر انا اید اسغاوی ْ 38
سا لاہ مہ سید سو لہ لت وا
سی ٰ
علماۓ اللسّت کا ایک مسلمہ اصول ےک اس دور کے اختاذات یں ترتع یبرم ایل شال ی وحن پر ہے آپ کے مفانفین خعلی بر سے مان می شی ایک اہنتازی خطا ھی _ے معن و شع کا نشانہ نمی بنایا جاسکنا۔ ایان کا قاضا ےک حفرت علی رعضی الد قمالی عدہ کے شض کو من ماناجائۓ اور ان کے مالین کو اہتظازی خلا کا وہ زار جھسزایا جاے۔ علماۓ اباسّت اس اصول کو مات رکف ہے افعزال کی راہ اخ ار کے و ے ہیں شمیعوں اور راشوں کی رح اضلاففٹ را ےکر نے والو ںکو سب وش مکرنا طعن و شف چک رنا ایک لقو اور ہورہ کام ہے کان سے امت رسول اللہ چیم میں اخاف و انختقار یلا سے اور پچیلتا ہے.۔ ان اختلا فکرنے والوں میں لت صاہ ہکرام ایی جے نون جل کی خو شھنریی کی ہی مین جن ای ھھے نو جتکپ بدر یس شیک ہی تی مو تن اع کن تصبب جائئل قیدہ ان کو نی کو حتشقی اور آخرت کی نفتیں خطاکی جاچچگی تھیں۔ اس سلسلہ میں صاع سن کی ہزاروں اماریث زا ہیں۔ الہ قعالی نے ال پر کے لے اعطا نکیا تم جو چا ہ وکرو۔ ماری بی نشی پہ مواغذہ نمی ںکیا جا گا۔ وی اکپ الہ راس بر پائیے۔
79 0 1 9 ”اب کرام ای گنی ہے ج بت اشرخھوان میں شریک ہدک یتب جن کے کے تو یکر اللہ علیہ رآلہ سم نے اعلان فیایا اک ان جس سے کوتی بھی دو زی تن ہجیے۔ ھاررے علاتے اباسکرت کا تہ ری اک پد زی سوا بت الرغھوان کا تخرف اگل ری راے ماپ“ الا یشون الاولون من .0 سے کاکی صحابہ ایا نہیں ج س کی مغفرت نی نہ ہو۔ قرآن
428
کر زگ حضور خی کی صصلی الول لی و لہ لم کے عا بے ما کرام کو ضبق ار وی ہے۔ غواو بد مسحاب گی زی می یجان لاے با بدلی زندگی میں کا الام ہو ے۔ 0 کے جک الام ہہوتے یا بعد میں اسلام لاۓے تھام کے تام تی ہیں۔ ىہ وہ لوگ تھے جنموں نے الد تا ی کی رضا کے لے جہماد کچھ یکیا اور مال و دول تکو بھی نز جکیا۔ نام ماب کرام قال و انفای کے اوصاف سے تصف تے۔ وہ ھام کے قام بہشت کے من دار تجے۔ ایے رات کی برائیاں با نکرنا ان کے متحلق بربی بای ں کر“ ان کے بارے میں رما یکرنا یر نے در ےکی جہماات اور رین سے دور یکی علامت ے۔
اہ ۔کرا مکی اجتمادی روش تضور ہب یکریھم صلی اللہ علیہ دآلہ و سم نے اپنے عزی: صعالی عظررت مرو ابین الحاضص رضی اللہ تال ع نہ کو اچجتتا فکرنے کا حم دیا تھا۔ ہہ پاتں مقکواۃ شرف میں لاپ ال رعحت اناوت" می دی تپاشکق یں سے جات اپ صدلق الحن بھویالی کے بی مولوی نو ران نے اٹ یکتاب می بھی .کسی سے اور اسے اج کے مولوی مھ سج کوندمدی (وپالی )نے انی نپاکٹ بک ضفی'' می تر کیا ہےب وہ ھن ہی کہ حضور علیہ السلام اہہتمادی معلیم دی وقت صحاب ہکرام کا امتان بھی لیاکرتے تے۔ ٍ - - ٔ۹ "۹" ۶ و لن نکی مارگ کن زر نخس آج مم ےکر حاض رہدرے۔ نمور صلی اہ ول سمل نے طعلریف عرد ان الخاصح رنشی اش توائی جن کو عم ریا کہ دہ ان کی جات س نکر فیصل ہکریں۔ رت عرد این العاصس,رصی ازّد تما ٰیٰ نہ نے عف کی با ر سول الل ال آپ کے وج وو یئ ین کے فی نکر عانانہوں۔
اعد سا اکا ٰ 40
لیٹس میڈ شش شر رٹ مشش بیس ہش س یں سممہیمو+م پمپ سسمووہ۔ویسووسمم6ر مو سچس1ل و جح تک
دمبھوممہھمومہمچہتے۔۔ یھی جرمو۔
ی۹9 "ْھٌ+ھء۶) وم نے فرمایا حیری خوائششل ہہ ےک تم دونوں یی کر یرود اکز حم تے ددرت فیل کیا فو خھیوں رین شیگیاں مین گی اگ خیلی بھی سرزد ہ وگئی تب بھی شمہہیں ایک نکی لس ےکی۔ مہ بھی اجتبا کی زیت کا ایک انز ظا تلود یکر یم صلی اللر علییر د آلی و لم ححاہ کر اس طریقہ سے نزمیت فرمایاکرتے تے۔ تض اوقات انی موجودگی میں اہ کرا مکو معاطلات س٦ھانے اور ع لکرنے کا عم دیاکرتے ے اور اعلان فرماتے اکر نیہ درست ہوئۓ فو وس ٹییاں ہو ںگی اور اگر اہنتمادی طور بر خلشی ہو گکئی ایک بی ضرور ٹ ےگی۔
ممھام تاب کرام سابقی الاعمال سے
ور خی کی صلی اللہ علیر و آلیہ و سم کے صا ہکرام کے خمام امور من اولیت اور یقت اٹل معئی۔۔ ان سے امت کاکوگی وو را جس اولیت اور سن مال می کرت" بل کی خی رسای آ پکی برانبی کاکھی تضسوز میں کر مایا صا کرام کا ایک می رج از نک رنا اہر کا پاٹ ہف خی انف کرنے سے افضل ہے مھالہ کے اقوال؛ اخعال دافال لی رد دک دح میں نی آتے۔ وہ کی سو و وگ
ھھا۔ کے ےہر
جانا ے۔ ان خقرا "ا کھت کت سای ۱ معالات میں مشا رات بھی ساسضے آتے ہیں گر اتافات ت اور مشاْجرات پر لن قو بل مان کا شیوہ میں ے۔ حخرت امیرمعاویہ ری اللہ ما
70 0 نت سا ا ھا لج زویرے صحا کرام پر عم یکرنا یا زبان ررازی سے کام دنا بے رین لوگوں کا شوہ رہا ہے۔ شیعہ علامء اپنے خبت باظنع کا اظما رکرتے ہوئے ان آیات کر کو تملییم ممہی کت جن میں حعفرات صعاب کی بربیت اوہ ہنم کی نثارت دبی گنی ےن دو ںو واستتا قرآن اک کی وا کر کو خلیہ اند از یچین کرت ہویں۔ لع کی یہ جات ق رآ نکریم کے خلاف سے ۔
پادہ ستا میس سورة عدیر رکوغ اولی؟ ٹن ٣ ىا نے لایسنتوی منک من انفق من قبل الفتحو قاتل اوئک اعظم درجت من الذین انفقوا من بعد وقاتلوا کلا وغدالل الحستی والل ہما تععلون خبہر١01 ان ے لے نثارت ے نفثارت باول ہو ری ہے۔ ان کے دشمتوں پر خمارے کا اعلان ہوا رہا ے۔ حضرت مولانا لام دح حصوربی رحمتہ الد علیہ ابی مجرو ف کاب ٠ سوالیت یں یں کک صا کر کا اض انا ہے ا شا اک اہنت وانیا عم تک نفاسریس ا نکی انصبیبلات موجود ہٴں۔ یتو ںکی تھا یرمس صحابہکرا مکی فنیلت
بھم لے بی علاف لزا م کی ار ہے بای گرا مکی معمت ما نی ہے۔ اب ہم متجرشیعہ را تکی ایر سے بھی چند ھوالے بیا نکرنا چاہچے ہیں اوہ شیع مات جو اینے نین اور مسر نکی ما تکو مت رجا ٹن میں او ہو جانئیں۔ شیٹوں میں ۳× تفصول “کا مصنف شید حیقہ یس مال مکبیر اور زائئل نابرار تعھور اما جا ماےے۔ تہ ایام اور انا شر رونوں کا مسا مفسرےں وم لیت ےہ منرت انام "فر ماوق علے الام گ4 ات ام ہو۔ ان کے "اداد " بھی را کا سلام ہو۔ انہوں نے محخرات ملا غے کے خلاف طعد کرنے والوں کے متھلقی ککھا ہے۔ تم یھ ا دو لہ دہ اب ےکراخ جو اللہ تا ی کی .
آم انتا نیہ اسغارب ٰ .42
وممومڈدوسرسیددموس ناد حکت عوسی ٠. +سچجی۔ سیت شش چٹ شس شڈگشپسشگگشس_وچتجت یشیپ ششیسس ہش شی اس سیرممیومشسو سس ہو سے
سی ہبج برزدں ےواتلل ین تھا کرام تھے جتھیں دن پکھو ڈزے پر بھیو کر ناما
گا یں کہ گرب یے نال دنا یا تا وہ ان کروی سے حرو مک زیئے
وی 0 0000س نون صلی اون مز کالہ و سکع بفبت من بے :ون ہوئے ےن دہ اللہ کے ر حول می کے عائبی اور ناصرے۔ حضرت ایام باقر رضی اللہ تعالی عدہ نے جب شیعوں کے سا نے نا کن کی بن معول کی تو دو ینے کے ہم فو مماجریین میں سے نہیں ہیں۔ اپ نے فرایا پا نم ا انصار میں سے و ج نکی شان میں خرآن باک نے نایا ھا۔ ان وکوں نے ما جر ن کو جچلہ دی“ ان کی اوار فق' وہ ابر ن ہےے کرت کے وا نے من ان کے .ول اخ عبت تی وہ اچم کو ری سے او رخودکھاتے سھے۔ دہ اکہیں انی ان سے بھی ۶× وج بے رانک فلت ہھے۔ ہے لو پا ار آپ نے میتی اور انصارکی بنہاں ان 001 مماجمرن رین مو رومیںن آتے انضائز نے ابی خواہشمات کو یں پشت ڈا ل کر ا نکی ضرور و ںکو پوراگیا' ذو اک رو خرے ععبت کے سے؛ کر ا وھ ا 0 ما دک ھکر خوش ہوتے تھ۔ دہ ابی جانوں پر مماجری نکی خوش یکو مقرم رت تھے ۔
خرت امام با شر کابیان رت ایام پاقر رصی الد تماٹی عدہ نے جب ماب ہکرام ( ماج و نار ) کے لعاف سح .را فو نیکرنے وانے شی نہ کے جم نو انار
5
ْ ار اما امعایب ٰ ٠ 82 ٰ ٠
.0+0 ئا 0 ا انصار سے ہو نہ مماجرین ہے بللہ تم ان مومتن ہیں سے بھی نیس ہو دجن کے حقؾ می اللد تمالی نے قرآن پاک میں بشاریں دی گھھیں۔ نہ تم مماجر ہو نہ تم انصار ہو۔ اپ تق می لج کھت ہوکہ اے الد بھی بش رے اور ہہارے کے آنے والو ںکو ہنی رے۔۔ ان پھائیو ںکو ہش درے جو ہم سے پل ایمانٰ لائے تھے اور جار پے وآ گل تی کے حصحلق رش ور دکی۔ اے رو !1 کم سے نز کر فو ہریان کے والا ہے۔ حخرت امام باقررضی اللد تعالی عنہ نے فربایا ہے آیا تکریہ مسلمائنوں کے لے ہیں جو سابقہ ابل ایمان کے لے من مان خے والذین جاؤک ان کے یی جلے والے تے۔ ان آیا تکری کی روشنی میس جضرت امام باقررضی اولر تعالیٰ عحدر نے ٹن بای مان فربائی ہیں۔ ایک ہہ ےکلہ عحاب ہکرام مماجرین میں سے تھے۔ اسحاب شا ےھ باججرین ہیں سے تے ان کاذکر قرآن یٹس آیا ے۔ اور ان کا ار ور انل تما ی نے فرایا اولئک ہمالصادقونوہ نام کے ام کے اور صاری تھے۔ دو مکی جات آپ نے بہ مان فرال یکہ اص“حاب ملا کے غلاف لع نی ککرنے دانے مومعین یس ہیں۔ تسری جات سے فربائ کہ اصسحاپ ملا کے دعاگو اور شاگو بی الل ابمان وں۔---- ضس رافضی اور خیعہ ہہ کت ہہ ںکہ جخرت امرمتاوی ری اللر تحاپی عنہ ماج ضس یر الیاررٴ یں اس ای کی کی شارت بِں لانادرہت میں۔ ہم ان سے کی ہی کہ حفرت عباس رضی اد تعالیٰ عنہ بھی نہ ماج ہیں نہ انصا کیا انمیں گھی اسی انراز سے ممطحو نکیا جائے گا؟ یہ عماج رن اور انصار جضور بی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و علم کے جاثار تھے۔ ان کے من میں یت ین اتی یں لانحزن ان الله ممتا: توصی طور بر سیرنا صلی
السار الھامسہ اسنہ مااسھاویہ 4ہ
ابر رضی الد تعالی عنہ کی تین کے لئ تھا۔ آپ کا خلوص“ ایمانٴ ایقان اہر ہو ے۔ شیع ںکی مع رتقی کی شرارت سے معلوم ہوا ےک ساب ہکو لن لع یکمرنے وا لے شیعہ ایمان سے محروم ہیں اور الام سے نار ہؤں- بم ایک اور شیعہ تی رکا حوالہ رت ہیں۔ اس تی رکو شیعہ علاء نے پدے امام سے شا عکیا۔ وہ ” رحما 0 ا 0ت کر یتما تہ ول تھے تق “ یں میں شیرو شر تے۔ اک اور نیمز للقق ۴ ذَلةاعلی المَوْمَتینٰ اغزٰۃعلیٰ الکافرین کا کن موی نکی نہ یکرت ہیں او رکغارکی عم تکرتے ہیں۔ گر ممابر و انصار نا آ اس مم بھائی بھائی تھے۔ دو ایگ وومرے کو دیکھتے فو لاخ کرت تے۔ مصانہ کرت تے اور ہہ سللہ تام ملمانوں میں جاری رہا۔ ابل ایمان نے پیش ہکفار کو نفر تکی ہگاہ سے ویکھا ہے۔ ان پر اشداءعلی الکفا رکی أضصوے بے 2 ناگی ال ایمان سے شفقت اور اہ لکغار سے افرت ملمانوں کا وطیرو رہ ے۔ ای لے وعد الله الذین آسنوا اشر نے الل ایمان سے رعزہ کیا ے۔:منھم رتذران کےلے علزث موگٹت وا حا عظما اور عمجم الان اج کے الف نع کے نل( سو رو ارہ ۲۸) ٰ ْ ٰ وی مہ ا رت زی بے نز کفاز کے دلنی جھے۔ بن تحص عقیر وا رتا ےک اہ یں میں رشن تھے دہ یقن قرآن پا ککی آیا تکریدہ کے خلاف او رکافرہے۔ سحاہہ امم نے تی ر رکٹ الک وت زر جا کو حالبان وین نوا لیے شیع زمرہ می آتے ہیں۔ ْ 7 سو سد 'یارہ ۲۸ رد ۶ داوم ا ؤمنون انا پر آدون من حآد اللەو رسولء ول وکان وآ ابآءھما و
انساراخام ںہ اامخاری کت ااقاسات ۰ ۱
۷ 0 " بروح منەوید خلھم جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا رضی اللەعنھمورضوا عنەاوئک حزب اللەالا ان حزباللەھمالمفلحونن ١ۃ جمہ )”تم نہ پا گے ان لوکو ںکو جو نین رکلتے ہیں الل اور لہ دن ب کہ دوستکریں اع سے جنموں نے ال" اور اس کے رسول سے تخالش کی اگ رچہ وہ ان کے اپ ما ہیی ما بھائی ما یی دا لے ہل سے ہیں جن کے دلوں می الد نے ایمان نفش فرما دی اور اٹی طر فکی روح نے ا نکی مدکی اور اشین یاخوں میں کے بجاے گان کے سے خی میس“ ان میس بش رہں* ال ان سے اشن اوروہ اشر دے را ئ' یہ الد کی جماعت سے سلتا ہے الش ب یکی جماع ت کامیاب ے۔' ان آیا تکری کی تی رکرتے ہو ےکی خیعہ علاء بھی صلی مکرتے ہی کے ور اکن وق ا صلی و لیکن نلم کے اواب یں کر ور انان '' مس سے والسابھون الا ولون سے خراو وہ مماتر اور انصا رجا بین جو سپ کے این الما ن لاجد پجروالتین ا موا باسستان' گر جن لوگؤں نے ان کی نف 3ر مر کر اسلام قو نکیا نے لوکت ان سا رون کے ساتھ چچتے رہے اور قیامت تک ا نکی پیٹ یکر دہیں کے۔ وی رضیٰ اقغا فک 1م کے کو درف قال ان ے ایمان اور اطاعت کی وچہ ے ”و رضواعنہ '' کا نطاب رتا ے۔ ار تما ی کی نوں “ریا ۳7۳ جیوں پر وہ شک زار رچے ہیں۔ اپ اعّدلھم اش تعالیٰ نے نے رر رح نی مھا الا نار سے انا حی دو ں گا جن کے یچ خریں بہت ہو ںگی۔ خحالدین فیھا ابد اوہ ابے مقام پ ٰ بیشہ بیشہ رہیں گے۔ ذالک الغوز العظیم یت ا نکی کامیابیوں اور کامراوں پ
انار الضامس اس د مالسھاوتد ۱ 46
ایام ے۔ و رے۔ ان گے جا کوک رک گت خی پت علیق۔ شید ں کی ہج رآناپوں سے بھی معاہ ہکرام کے فا نل و انعامات ساس آ گے ہیں اس کے پاوجود جو شس ان آ بات ق رش کی عخالش تکرب ہو اس کاکیا مر ہوگا۔ ْ
ففضائتل صحاہ سکرام اعادی ٹکی روشنی میں اك عن ابی سعیدالخدری قال قال رسول اللە صلی الله عليە وآلە وسلم لا نسہوا اصحابی فلوان احد کم انفق مثل احد ذھبا ما بلغ مد احدھم ولا نصیفہ(شٴض علیہ ) ٰ مطرت الو سعیر مر ری رشضی اللہ تال ی عدہ سے روایت ےک متضور رگنل لعل الہ نعل نے فیا کیہ بے مفان کو بران ہکسو اور ان۴ گی نہ دو۔ یا رکھو اکر تم سونے کا پہاڑ بھی ادف کی راہ میں خر کر دو نے میرے سحالی کے ایک سیا نصف سیرکے فو اب سے ممیں مل کے گا۔ ,7050ھ رر وف ہ کہ نہ خطاب جفمور ب یکریم صلی اللہ علیہ لہ وسعم نے اپے پیا رے کابہ کے متحل کیا تھا۔ اس فا نکی وجہ ہہ ال یگئی ےہ عحخرت خالمد بین ولید اور حرج عبدالر من بن عوب رض اللہ تعالی عنما کے درمیان لیا نات پ> رں پ قت ا نکر رخ ایی در سے کر معلمون کرت ےکی کو مم ٰ کی تی حور بی اکم م لی اللہ علپ٠ لہ وس نے اہی لو ں کو آنگاءکیاکہ میرے تحاہہکو برابھلا نے کہو۔ آ رج رافشی اور شیبعہ صحاہ کرا مکو برا بھلا کس ہک ایمان سے ارح ہو چانے ہیں۔
...۴ عنابی بردةعن ابیەقال رفع یعنی النبی صلی الله عليە و ألە
الخار الضامسہ لس د مالسعاوت .ا ٘ مومع
ایوس س دید سمدہ یں
وسلم راسەالی السماء وکا نکشیرا مُا یرفع راسەالی السماء فقال النوم امنة للسماء فاذا ذھبت النجوم اٹی السماء ماتوعد واتا امنة لااصحابی فاذا اذھبت انا ای اصحابی مایوعدون و اصحابی امنه لامتی فاذا اذھب اصحابی اتی امتی مایوعدون(رواہ لم ٹٹریف) رت الی دہ اپ والمگرائی او مو اشھری رضی الہ تتا عنہ سے رواب کرت ہہ ںکہ ایک ون میں نے ویکھاکہ حور ب یکریم صلی او دد تھ ا رمبارگ اٹھایا“ آپ ٹپل کی عاو تکریہ تش یکہ آپ کئی بالد آما نکی رف مر اٹھایاکرتتے تھے اس طبرع آپ د کی آ ھکااتظار نایا کر تپ ھا نے ان ا تار زگ فیا نے از اس گی علامت ہیں۔ جب ستارے آسان سےگم ہو جاکیں گے و آسمانوں بر اس ہز کا فبضہ ہو جاۓ گا جس کاوعدہکیاکیا ہے اور اس کے متقدروں میں جو نز کی کی ہے شی انان لٹ دی انیس کے ' پیٹ جائھیں کے اور قیامت یا ہو جا گیل وکا با رکھو ہیں ای بھاب کے لے امن کا سب ہیں۔ ٹر اس جمان سے چلا جاوں گان میرے ححابہ بر دہ وعدہ اور نف مر آآن گی لینی مت ٴ فازات اور ای افشار ۔ جش عربت عریر ہو حایس کے یار رھو مر عیب ری ام نے این می ارت ہیں۔ جب میرے صحابہ این ریا ہا رما کی ک2 گر ہلا نباص بے اس کی ٣ عن عَطٰر قال قال رسول الل٭صلى الله علیە وآلەوسلم اگ ر موا اصحابیٰ فانھم رکم نمالذین یلونچم میرے ما کی عزت کرو" وا خرن رک ہیں اع لوکوں کا زہانہ مرا زمائہ سے جو سب سے تر سے“ پھر وہ زاین تو انعغ کے عاق ال میں آنا ے۔ پراس کے بعر نے الا تاد جار الرام کا زمانہ “الین کا زمانہ اور بیع الین کا زبانہ ۔
ےت لل۸۸۱۰1:107:1۱:017::1120002011:1-1+4174
السار انضاصسہ اس د مالسھاویہ ٰ ٰ 48
٣ عنعمران بن حصین قال قال رسول الله صلی الله عليهو آلە وسلم خیر امتی قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم مرے ابہ کی مز کیا کر دک وکلہ یہ فمایت بی کیک لوگ ہیں۔ پھر ان رات کا ارام کرو جنموں نے صا گرا مکی معحبت عایل یکی ہے۔ ْ ۵ جاہر ئن اللبی صلیٰ الله علیْه و الە ولغ قال لاتمس الع اتا ران او راف رانی ( روام تزنڑی) رت جار ری اللہ ۱ی ا ا اکا 3 وس سے تا اپ نے فماباکز ود مان ج اس کرف ند گکاان لمران جس نے میرے د لے والوںن ( سحاہہ )کو ویھا۔ ٦ غز عبداالل ین مغقل قال قال رسول الله ضلی الله غليه وآلە ول الله اللفیٰ ا سای اللہ اللەفی اصحابیْلا روم غرضص من بعدی فمن احبھم فبحبنی احبھم ومن ابغضھم فبغضنی البغصھم ومن اذیھم فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی الله ومن اذالله فیوشک ان یاخدہ ای نحخرت عپر ارد یی سوا رع ان نزا پی عفرا ون 7ہ تصور یک زی صلی دنہ لہ کال وس نے فرمایا الہ سے ور“ پل رانک چے رو
لے وق من او زوا شیں پر یکر مال را پور اک کی ان لوگو کو پیشہ اجتزام و اگرام سے یا دکیاکرد۔ میرکی حبت کا عق ادالمرو۔ میرے بعر اضنمیں نشانہ نہ بنا ینا ان پر تیراندازی ن ہکرنا۔ انا کی عیب جولی تہ کرنا جو مس میرے حخایہ ہے محبت کرے گار وہ یی دوست رک ے۔ جو تخس جھے رون رتا نھد اللہ سے مو کیا ےن
۳ی ردشی بی جات سان :کی نے کہ بج جس ساب
گر امررے ا یا وا ار پر نس
ےَ 2 غ
اسار الخاب سد مامعاوب ٰ ٰ سصی'ُٰئ0
۴ 9س ۶ ۹۰۷۹۰ و و کے دشن نار ججنم میں جانھیں گے۔ اس عدبیث پا کگکو تی شریف میں ککھاگیا ہے اور ا سکی تٹرج ما ہر "می بھی موجود ہے۔ صاحب '' مظاہرتؾ " 0 08 شر ح کرت ہو ککھا ےک الد تحالی دسنان ساب ہکو وتیا یی غراف رز گا اور آ خرت مین بی حف ای افین ٹنلا ککرے کات او ال یکا ول رن کی ر۔
ان الذین یوذون الله و رسولە لعنھم الله فی الدنیا وال'خرہو اعدلھم عناباً مھیناً والذین یوذون المومنین والمومنات بغیر ااگسسر ادا ےیل ابھماتا واثتا سیسات
ا کت تعالی اور اس کے رسول و ایژاء رنے ۴ن اھ ان > زنک رما رت رضا جن اؤ 1 خیب ا ا ا نرو ا اک ۹۹0 ۹ / / وو ور 7 باوخ اڑا سے میں مو ہن مردول .اور مو م٣ن عورتوں کو اور ا ہمان نگاتے ہیں یی رت کرک فی اور راو ین ا 6 اوراا ڈگ ت))ء ء00" ے١ اط اپ" مر قال قال رسول الله صلی اللعلیهو ال ولاڈ ٣ہ ٰٰ1 )ً90 9 ۷9 ۷ ریی )افظزت الع ز رض ایل تال فی نے دا یت کی ےک ۷ ا ا عپ او ال اس ایا کی ہشن کرو کو حم کہ و صا کرام رک را ھا کر رے سے ہیں تو ان بر مد اکی اعت یتو اور برا کس وکہ ممارے اس ہر ےم : رای کی ات ور ایی رن کر گر ا ھڈوں کن صا ہکرام ...00ت ری
الغان الحاصہ اس دم امعاوتد: --- ٰ 50
ای ارز میس علدگی بن عائش. رحصنی الد تا لی حن کی ايک روابیت ےت ان شزا لاس اخرھم عل اھمسارن میری. امت "نر سپ سے برے وہ لو ون کے جن مریے مععفلا کیب ا ھا کت کی جر ارت کمن ےس تععزتے مر الف عالق ارت ار علیہ نے سے منقبانت مین ایک یٹ پاگ ا سے جس میں کلعاۓے یکون فی آخرالز مان قومیسمون الرفضةیرقضونالاسلامفاقتلواهم فانھم مش رکون آخ زانہ میں ایک ایا فرقہ ابجھے گیا ے '* رافقی "کیا جاۓ گاں ہہ لوگ الام کو نقصان پنانین کہے۔ یی وب لیے خظائ کے لباظا سے الام سے مود * ہ9 جانیں کے وت انی کی ٠ لی اف پک لق نک کی ہے من جاسم اسف رکون خی ا تا جرکین سے مال وو دک ےہ ان می سے ہے۔ ہے یٹ وص قرلی ے۔ ومن یتولھم منکم فانە منھم شنن ایت لوکوں نے خی ٹک بے انی میں سے ے۔ تا ابد یکر علق اور ہرنا گحزپاروتی رضی اللہ نننالی جننتا کے غلاف باج ل کرنے وانے ال ببیت کی بت کاد کوٹ یکرتتے ہیں عالا. ان کا بی دوک باعل ےب یتو نکی ایک ناپ ” برااہن الانصاف'' سے “اس میں سد نا اور دق انور سی نا حرفاردقی رعضی اون تتعالی عنم اکو کافر اور ملون مایا ے۔ حر اور مناغی ککنھ ایا ے۔ اپ وف اتآ پک برا جار سین یس دن الام سے خاورج ہیں ۔
تززی شریف مل بے عدیث پاگ موجور ے حد ثنا محمد بن يَخیٰی خدثنا عبداللن محمد السقفی خَد نا عمر بن واقدعنیونس عن حابیس عن ادریس لانبی قاللما عزل عمر بن خطاب عمیر بن
معید عین حعض ول ححاوبة و قَالَ الَٰاس عزل ععیر و ول محاویة فقالعے لاتتگرو الا حور فقالسحت رسولالل صلی اللعَلمَ وآلەوسلمانەقاللمعاویةاللھماجعلەھادیا مھدیا واهَدبِەنَ نظرت اورلیژنی ر فی ا نیع نے :رو ائن کی کیج دنا لزذا ردق رضفی الہ تال ضف نے خمزژن سی کو جح نک ی کور نکی سے مرو نال ان کی ما خقزت مفاان ری ارڈ تالی خ کا عحضل کیائور ٹر مرکا یں رخ خر بن نکراک خظزتے مموطانورد جل دک ہویش خر نے یا کیا کر وج اٹ و زی تھی رہ لہ سخ سے از آپ نے فقڑنایا اے ال اامعادی کو زی :بنا نے“ عفعدکی پا رےں حضور من کرک صلی ال علی. نول وس کی ھا سے نحفرٹ مار و اتی بھی ہیں اور نی گئیے گل ز آ رج شید خفزاتف آپ کو سب وشن کے ین طارکی شرف کی “تب اشن مس حضوں بی کی صلی اع و آلہ وس کی رما موقود ۓ۔ الا با رک لٹا سی نک تنا فی رت نظرےۓ افرطاوج رشی الد نخالیٰ عن کا را را فللاق حھوان اکر کب خنضور
٦ ْ خاس دم لمخاوبہ ٰ ٘ 2
-٭ ا امت می مسومسست لات سیل ملا مہ ۶۵۳۷ شی شش شس جو سڈ یمشیر جس وسٹیسمپٹ مہ ش ےجس سے سس
کت
کر للا لف می ؛ اد لم کے مزز ما ن بہوتے و انمین ایے جا رت ممال کک امارت نہ دی عائی۔
عن عمر بن خطاب قال سمعت رسولالل٭صلی الله عليهو آلە وسلم یقول سالت ربی عن اختلاف اصحابی من بعدی فاوحی التی یا ٰ محمد ان اصحابک عندی ہمنزلةالنحوم فی السماء بعضھا اقوی من بعض ولک نور فماحخذیشی ما ھم عليه من اختلا فھم فھو عندی عل سی قال فائ ر مل اللہ صلی الله علیه وآلء وسلم اصحابی کالنحومفبایھماقتدا اھتدیتمن
کر اللہ :متھالی ع نہ فیا تہ سک ین نے نکر صلی اللہ علی فلز م٠ اب نے اکم میں ثتے اپے اللد سے اٹنے سحابہ کہ اختافات کے متحلق بویا تو اللہ تال ی نے فربایاکہ میرے تا ی عتاروں کی رح ہیں جس رطرح ستارے مانب ہچگتے ہیں میرے محابہ امت کی رما کے لے تیکت رن ۓے 1.0 وہ حػضٔ سار یس اضلا نف ری خر تاروں کی طرع لویگو ںکی مال یکریں گے۔ نم لوگ جس مال ی کی بھی اقترا کرد کے رات او" ٰ
با رام کے اقطانات اصول دن ۰ ق رر اختافات چٹ وو جھی رنازی معافلات میں بے ہے۔ ” مظاہ ری '' میں ا ہے ناف یىی افسین زی کی تن حم الافات اننماری تے۔ مور نب یکریم ۹ر ا علی رر گے ڈیا وکا نور میرے ام ععاہ تقد ہیں پھر ا مھ ۰ بے سک چو یکر کے رایت او گے۔ امت رحول' سی ضس نے مور بی کی صلی الد علیہ ان سم کے ساپ را کی
۹۹ع ٌ ٗ سس" ٦٣52ی الہ کے فوصت خرس 5
العار الا بسماشسست ۱ 93
ہیں۔ 7+46 7 " مرسر ےس کجں۔اتے ای بے می لاب رک اع سے محبت و یا رکرن بت بی
لی ےن کون بح او رآ ہں۔ حا کرام کے پاوھی اخطلافا تک ٹ وگیت
صحا ہکرام کے بابھی اختلافا تکو اجنتمادی شی قرار دیا جانا اچ اور ان اختلافا تکو قرآن و اعادیٴ کی روشنی میں د ینا چاجۓے۔ ان تنازعتم فی شی فردوہاگر ت مکی بات می اخلا فکرو فو قرآن پاک سے راہمالی حاصل کرو اجتتاوٴ اجماع اور قیاس کے لے ق رن ماک خود راہنمائ یکر ے۔ مواۃ شریف میں العلم الشلث لھا ے۔ مح بین عدیث نے اس سے مراد فرآن اور ورحیت اور اناغ ال ت کی ےب حطرت فلا عی تاری رحت ال طے اور حرث دبلوبی رہ اللد علیہ نے لھا کہ حا ہکرام کی اوڈ یکستائی بھی تضور ٦ك ص۷ ٤او ھرارن نے۔ حضرت مرو الف شالی ممیٹیہ کے اثوال
حضرت مر الف غائی رخف اللر علزی نے ا متوبات میں صحاہ ہکرام ٣۸0002٣٣0. امن ہے ملق ری تصیل سے کیم ے_ اپ موب خر ٣فز دوم میں فرماتے ہی ںکہ اضنت و مامت بی انیاطقہ سے جو ہنمائیت معمحبت کے تی "را ملعم رتو کیا ہے وو جھان رام جای اتلافات“ لڑائی جھکڑے کہ جنگ و جدال کے پاوجود ھی صحھاب کرا مکو برا کس مو ات ؛ و بقاعت نطرت امیرمعاویہ رشی اللہ تعالیٰ عنہ کی غلطیوں اور او ں کو .سا ترار نے ون اوز انی راک اختازی راہے
انار الاب اس د مالسعاویہ ٰ .۷۹ء۶
ےید دک الات ای یف ا نک یکو چو کو ین ولا کی رضاجاۓ ہیں۔
اخلاف گاے :ایر ور کیا عاۓے لو مارے ہاسخے یی ار ہں۔ ای کفگمروہ نے فرت امیرمعاویہ رشی اللہ تمالیٰ عنہ کے اعما ل کو دحل اور انار ہے حم کیا سے اور انوں نے حطرت معاویہ رشمی ایر تع ٰیٰ عد کو نوا آ۱ بب تم ے روہ نے دلو اعنما رتخا جآپ ہے حض اخمال و افعا لکو غلط تقرار دیا ہے۔ تسراعگروہ اپیے معاللات پر خاموش رہ ہے۔ کلف اللما نکیا اولاصسی شی مکی دیل یا جرح وغیر کو اخقیار ہی ںکیا۔ پ لہ گمروہ نے ای اجتتقاد کی رذ شی میس جخرت امیرمعاوبہ رضی انل تعالیٰ بن کا سا دیا۔ ان سے نماو نکیا ان کی امرا کی۔ دو سرب یگمردہ نے اپنے اججتادکی روشنی میں ا نکی عخالف کی اور ان کے خلاف جدوججم دگی۔ تیسراگردہ اموئش را انیو نے ہے ”مو اش کیا ری نز اکا تاور ای کک 2٤ دنا ند خی ںکیا۔ ہہ تقو ںگروہ اتتاری جے۔ اجتتماد یر کاربنر تھے۔ ان خوں نے فمابت :ان ره لی سن تہ کی نے لاھب تکی “نہ علعی و ٹن کی نہ ایک دو ےرک ناف کہا۔
صضرت انام شماضی رع اہ علیہ فا بے ہیں کہ محخرت ہمرمین عپرالتزیز رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے کے تلک دماء طھرااللهعنھا ایدینا فلینظر غنھا اکنسینا وہ خونع جس ہے الد تتعالی نے :جمارے ہانھوں :کو تفوظ رکھا ہیں چا ےکلہ ہم ابٹی زبانوں کو اس خون سے آلودہ نہ کبرہیں۔ یہ بات بڑی ممقول ہے۔ ای کفکی اجتتمادی خطاء کو وجہ نزاجع و دشخام بنانا ایچھا یں ٰ ے۔ ےت اکا /
ریش رصولکریم صلی اللد علیہ وآلہ لم ےاذڈکروا اصحابی
الحار اخا اہ ءاسعایی ٰ 55
.-. تب می ری اصھھاٹی کا رک ان کے اخلاف ا لڑائی بھھڑے کا 7
آجائے لو ای زانون کو جھبھا ل کر رکھ اور الیک دوسرے کے خلاف بائیں نہ پنائؤے مضرت نو الف انی رح تہ ال خلیہ نے اپنے کب ہر۵۳ ۲ میس لکنا ہے ہباشم امجھایہ حور ب یکریم صلی الد علیہ وآلہ 7ے حم و مسر تھے سن لاقرت لا ار صحا کرام حرت میدردالف طانی ہیف کی نشررمیس
رت مرو الف مالی رحمتہ ار علیہ ان توبات کے توب ۲۵۱ جلد ول میں ککیعت ہیں“ حضور مج یریم صلی اللہ علیہ آلہ د عم کے سارے اہ لزام ہزرک ہیں۔ قائل صر اترام ہں۔ ان رب او اک الفاظ اور ا گے را ا و ا و ا ا یں ار تقالی عنہ سے ایک عدیٹ پاک نق لکی ےکہ تضور ب یکریم صلی الہ علیہ لہ رج لہاان الله اشتارتی واععازلی اساہی واختاری ہی اصہارا وانصا زا فمن حفظی فیھم خعطەاللعەو من اذانی ازیاللەفیھم نر قل ا مو ضر ق یا فو نے اصحھا کو ید رتا انت راضی با الو یز رے ١ ہے رظ زار ردکار پا واثار سان اٹہ جس مخ لے میرے تاب کو میرے لے محفوظط رکھا ادلر تال نے ایسے ہی رہ ےو سور لی ری۔ت:
طبرانی میں حخرت این عباس رضی اللہ تھا لی عمنماکی ایک روابیت لنل
رید رعول ھی ان ما لدتعم نے فیا من سب اصجابی
انار انھاب لیم امھاود: ---- 2 چا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ہہ ہا
سب وش تک کیا ب> الد تمالی اور ا سک ٹر )ات وی این عری رض اللد تما ی عنہ نے سیرہ عاکشہ صدیقہ رض اللہ تا ی
خزا ے ایل روایت یان گی ے کہ ان شرار امتی اجزھم علی صحابی میری امت میں ا ے شرمہ لوگ بھی ہیں جو میرے محاب کو برا بھطا کت ہیں۔ ان کے اشتلافات اور لڑائی جھھڑ کو ہوا وی ہیں۔ وہ الم یہوں گے۔ اپسحّت و اعت کا نکر ہے الہ ما کراغم کے اختلافات تام کے ققام اجتمادی تے اور اجتاری لی بر نگ وکرنا بہت بڑبی جرات ہے۔ انت و ججمااعت کا مہ بھی نرہ سےکہ حفرت لف یکری ال تعالی وج سے جن ککرنے وائے ملع پر تے اور حفرت علی رشی اللہ تعالی عنہ عق بر تے۔ می تح ںا نی
شیا تی کم مد لزا یا فھانہ تید نان ھا نیل یٹ ان بی مک ہرز کان گت
مہ کو مض کی یں ہجار اخلافت پ ہوئی ہیں۔ ج ابوشگور جن رحتہ اود علیہ اپ یکماب ” ممید “جس وضاحت فرماتے ہ ں کہ اہنت و جماعت کا عظیرہ ےک نطرت اف رمعاوی رضی اللہ تعالی عنہ اپ تمام ساتمیوں سیت خطا بر تے مان ان کی ىی ام انتاری تی۔ ٹم ای جرکی رح ال لی نے ”صراعق کہ "میں کھا سے کہ رت امیرمعاوبہ رضی اللہ تال ععنہ اور عخرت عل یکرم اولد وچ کی تمام جنگیں اجتاری سوچ کا متجیہ تھھیں۔ علمائۓے الاسق تک یکتائیں اججتمادی لی سے ری بڑی ہی ںگ رکب یکسی نے اجقادی خطابر سب وشت می ںکیاد '- ٰ اعنمادی خطا یر اکابر ا لسن ت کا روے ۱
ام مزال ی ر27 اللہ علیہ اور تقاضی اور اللہ علیہ نے مگ کی
السار الضاصسہ اس و ماسقاومےہ 7
ےک حفرت علی برض اللہ تمالی عنہ سے ڑا یکرنے وائے اججتمادی ملظ > تے۔ ان بر شق و ٹور کا فی لان جائز نہیں ہے۔ تاضی عیاض رحت اود علیہ نے اٹ یکاب ” الشفا* کے آخری صفات میں لکدا ہے حفرت مالک رم اللہ علیہ نے فرایا من شتم احد من اصحاب النبی صلی الله عليه و آله وسلم ابابکر“عمر' عثمان و عمرو بن العاص فانە قا لکانوا علی الضلال و کذر جس تخس نے سیدنا صدلق اکبر' سیدنا عرفاروقی' سیدنا عثان شی اور رت عرو بن العاص رضی اود تالی عم میں س ےکس یکو گالی دی دہ شخ سگراہ او رکفو گان ٰ
”خغا شریف ' میں مزید لھا ےکلہ عخرت زیر رض اللہ تعالی عنہ کے یل کی مڑالی کوبت حضرتف ام ماد یہ لن کے روج می بل ران نار سای فنلی ہوۓ تھے گر ان میس سے ایک من سکو بھی فاسن یا نار ودی ون کی یا اح کے دن یں تتجا ہہ کے ات ود ایس کے ون جس رن ہون رواش ہو ر اور وہ ہس تابوں میں رت امرمعاویہ د می اللہ تعالی عنہ کے لے ”جور '' کا لفظ استمال ہوا ے اور ححضرت معاویہ ٹہ کو تو ر کے 9 ران تما ے وہ نضرت بی رصی الد معالی. معز کے ہو تے ہو نے غلافت کے قن ارہ یا گر اس 000ھ استعمال بی مق فقیہ نے کممی ںکیا۔ انہوں نے صرف اہتتمادی خطا کا لفظ استعا لکیا ہے ۔
رت مولانا جائی رمق الله علیہ نے اپ ی ماپ ” شواھدالنبوت" ہیں ” خطا مر '' کا لفظ استعا لکیا ۔ علائۓ امت کے نزدیک یہ لفظ نامناسب ےکی وگلہ خطاء کا ایک انا منقاضم ے گر ” خطا مر '' سحت الفاظ میں سے سے سے ایک اصحالی کے لئے استعال نمی ں کیا جامکتا :ای طرح جن نحطرات نے حضرت ا او رضنی اوہ قلالی خد > لیت کے لفط کا اطلا ق کیا و شٹی >> ہیں
الحار الضامسہ لس د مااسقاومد 27 مھ شس وش ری سس تشسشسسس+سبیسہی فرش شرب مو سم ا مس سب کرات 2ئ وف و و 7 ایمندمسمیت-سسیکییفییؤئئفسیسفففلپائنٗسسڈیشپووچجچچدپوسوووڈودحسخی میں ات :" نی یریک رر سس پسیسپیحیت ك کس
ہملک جو
اور شمیعو ںی رواباٹ ے تار ی-۔ 2 ا سز سے بے 5 و عاعت ہیں مر انیک صصحالی رسول کے لے ان الفاظا کا احتعال پر ہس
تضور یم نے امی ماد" کو دای می
کئی احادیث میں دیھاگیا ےکہ سیرالاخمیاء حضرت مجر مصطفیٰ صلی ارنہ علیہ وکلہ وسلم نے حثرت امیزمغاومہ رضی ال تالی عنہ کی تحریف کی اور یں ' ای اور عہیدی ؟' کے نھزلنی الفاظا میں یاو فرایا۔ اللھم علمهالکتاب ْ ٰٔ 0 ٤ ری دہ عطا فرما اور ا اک سے محفوظ رکھ۔ ایک اور ہہ فرایا اللھماجلعەھادیا مصدی ان اللہ ا ہاو کو نادی:چتاادتے اور عبندکی نیا دے۔ ہار ہے خالی بس اتا ای رت ا اق نے اب کے متتعلقی جو الفاط :اتال ے ہیں دہ سو آ استعاض ہوے ہیں ورتہ ایا اشن رسول مٹچنٹ ایک صا پی یی ا نی 7 ات حض لوکوں نے امام شالی اور نظرت معاوب ب یل سے متعلق کیا سے کی لڑائی فشق سے اائی پت سے این ریائٹ یی کدکی حقیقت نین کوئی دحل نیں۔ اکر پلذرض اس لی مکر بھی لیا جاے تو ہم ہیں کہ امام اکیلم دیو حضرت شا ۔ ین جک از اص تھے انسوں نے انی حائدکی زندگی می ابیے الفاظط استعال میں سے تے۔ سی رع امام مالک ری او فا نے تففرت امیرمعاویہ ری اللہ تال یٰ حدد: ہے متعلق ایے الفاط استعال نہیں بے جے۔ ان فرات کے بممصراور عطالی ری غ: نے بھی بھی اہیے الفاظ استعال نہیں کے ۵ ر مت اللہ علیہ َو فا اکرتے ےک حرت امیرمعاویہ اور صخرت رد بن العاض ھس انی لن کو گاکی رہ اواب اکنل ےہ حضرت
الخار الضامی لد مااسغاویہ ٰ 9
معاوہہ یٹ کو گالی وین حظطرت صدلق ا یر رت جھراور جحخرت عثان رص اد تی تفع مکوگاکپی رسینے کے متراوف ہے۔ حقرت معاوبہ رضی ارذر تعالیٰ عنہ قلماً ابی سلوک سے بری ہیں گ رلاتض لوگ انیس بدباطٹ یکی وجہ سے صرف حفرت میرہعاویہ بل کو ہی شی ں کی دو سرے محاب ہکرام کو بھی برا لا نے سے نہیں و
1 سا زنک ان وی و کے با ڈو ہیں کے اط ناس تھے نو پھر نصف امت فاص ق لا گی سو اس رح نصف رین سے اعمار اھ جاۓ گا۔ اور تضور ب یکریم صلی الظہ علیہ و آلہ وس مکی تل و ہدابیت کاکیا می مامینے رآ ۓے گان ابی بپلنہں لو دای :مدان مقر ہیں :نشین کے نے کوگی نیک مقصد میں وہ اسلا مکی یربادی بی بھی خوضیاں مناتے رچے ہیں۔
ہت ونام طرازی کا ىہ فتنہ سیدناعنان شی رضی اد تحالی نہ کی شمارت سے شرو ہوا تھا۔ لوگوں نے ان کے تا مکوں سے قتصاص ملین با مطالہہ کیا جخرت ظز اور زیر رشی الہ تمالی عنما یے ہیل الق را رہول فصاص کا مطا لب کر ہے تکرب انی ار رجہ نہ دب یکئی نو حضرت لی اور مت زی اید نعالی اشنم ا یں و رام کے اور اخاحَ کرنے گے۔ سید اہ صدیقہ ری ایل بقعالی عزہا ان کے لالہ یس بزا ری 09 الین یرت واگی۔
امام مزالی رحمتہ الد علیہ صراحت فرماتے ہیں کہ ہہ ڑا خزافت کے لے نہیں تھا بکنہ قعاص مل حخرت خثان ری اند تعالیٰ عنہ پ تھا۔ ہی معالمہ پبڑھت ایا جاک جب پل میں تیراں جرارمحای ہکرام شمیر ہو جئے۔ جقرت مہ و بعر زیر رض اللہ قزالی عندا شر بشرہ میں سے تے۔ ان جگوں میں شمیر ہو لئے اس کے بعد ححخرت امرمعاویہ رضی انل تال ی دہ بھی ان نظطرات کے
الحار انخامیہ یندم اامعاویہ ٰ ق ا ٦ا لیس سٹو یسےس ویج سس ّٔ٥م یوممیمسسومسمومسمو سس سے سس سے ے7
ہمہ ہی
کت 50
۸4
سا آلے۔ے واقیات حفرت علی رضی اللہ تا ی عنہ کی غخلافت کے ابتدا ی * زانہ ین روما ہزرۓ ھھ۔ ٰ اح این جج کی رنہ اللہ علیہ نے اس موقنہ بر ایک بات کھی ہے جو اپشت کے مقترات میں ار ہوتی ہے۔ شخ ابو شور ہنی رحتہ ایند علیہ نے بھی انی کاپ کی مھا ہے کہ رز جن خواقت کے سے جے۔ بی بات می نرے۔ سر ایام علی ال علیہ وہ و سم نے حضرت امیرمعاوبہ رض شر تمالیٰ عنہ ے فرای اذا ملکت الناس ما مارفق بھم جب تم عران ہو 9 لوکوں می الصاٹ کرت اور ٹرٹی برتا۔ شابھ اس جات سے حقرت امیرمعادی نشی الہ شال تم نات کے تصو لکی خوائش ہی ی۔ ین ناشن نوا ئل ہر اتاد ی خطا حر تے اور سینا ع یکرم اللہ تعالی وجمہ عق پر تے۔ ان دونوں کا جھھڑا غذفت بر نمیں تھا لہ تصاص حضرت عثان رضی القد تال حنہ پہ ھاں بمرعال نہ اتاد یل تے۔ مق بر ہونے واى ےکو وس خییاں می اور خی ایام اٹھانے والے کو ایک نکی کا ثواب۔ گران معالات پٍ سب وشتم کرنے وا گے کمن شاو و فظار میں آتے ہں۔ عطق پور ہے کیہ و سی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ نلم کے تام مھا ہکرام کے پاٹھی غافشار اور جنگ و ال نے ام گآ کو وو رر کہ بے ئ6 ان > ماخ گی اخفا رکریں۔ ٰ
ضر می کریم صلی ار غلیہ وآلہ ولم نے فرایا الله الله فی اصحابی لا تتخنوهم غضا بیرے کابہ بے علق اللہ ہسے ورتے رہو اور ن۷" فے :طلامت ن جاؤ۔ جار زان مین اک لوگوں نے ا سک رعلاء شا کے اک طبقہ نے اہامت کی بجٹ چھیٹر ھی سے اور ما راک کے متعلق بی جھوٹی بانوں بر بح ٹکرتے زنے ہیں مال مور خھین مصعاب کرام کے
الجار الضاعص: اس د ماسھاوت ْ : 61
ار می کک فلط ماگیں گر کر کے ہیں۔ پر س رص مکل نگارون نے ای کمابوں کو غلط طط بانوں سے ببجھر دا ہے۔ وہ اکٹر صحابہ کرام کے مقام سے ارات لو ے۔ کی تاو نپ رافحات سیا سے موب کر نے رے ہیں۔ را ۱
عضو رای اک ریم صصلی اللہ علیہ و الہ وس٣ھم نے فرمایا ایک زماتہ نے ماک جتے اور بر متیں نظاہر ہونا شروںع ہو ںگی۔ وی مین فا ۔۔ کو گالیاں دی
گے۔ ابل عم خفرا تکو چاپنے اینے عم کی رو شی میں ورست وا فعا کو سا نے
رتگھییں۔ جو لوگ جان او جن ھکر سحاہ ہکو برا چھلا کت ہیں ان ے اللہ تما ی کی لعنت لدئزے نازل ہو لی ے۔ ٰ
آج صاحے افتزار لوک جو انۓے آ پکو ملمان جکتے بن معکی رہب بر کاربند ہیں ' انت و جماعت کا عقیرہ رت ہیں “ان بر ہہ فرض عاکد ہو پا ے کہ لولی خی ارم اسب وق اوس ا ڈاروای عارے اق رقاسی ات ا ار ہب ے تو رات روے۔نہ حا گرا مکو عکالیاں وت جے نہ ایل بی ت کو برا بھلا کتا ہے۔ بی فرقہ ناجیہ ہے اور بی صحابہ رسول ھی کے تش قدم پہ بل رہاہے۔ ۱ حضرت مردالف مال بلٹجہ میحو کو جواب دی ہیں
غرت مپدد الف ما ی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہی بکہ قرآن پا کک رہ
نے صحاپ کرام و ولیان ارہیے زا کافر ا تو :نین رت اکر 7۵ 9-1 ہک مر ہ وکر دائرہ اسلام سے ارح ہو جانا سے۔ حور ہ یکریم صلی انقد علیہ و آلہ و لم فیا میں الد لھا نے شھے اپنا مشیر منایا پھر میرے چند اطیاب میرے
رع زار بنا نے زا میٹرے ا ں 2 نے لی یع دی :ان پ ا تالی کی لضنت ہےں ایی شف کی عبات اور نواٹل ائلہ تال کے ہں قول میں وت ٰ داز: خن خی رواالیٹے منواٹ از سج کل نطضرت یکم ایز ون نے
زی نے یرک پیل لے و ول سے نک آبت میم نے فرایا میرے بوز ای لٴخ 7 ب9 مم اہین پا انی نی کر رون و او می یی جہیوں یں خظرت علی. ری انز ابی عنہ ۶۳ رو و رد نوہ کیانانی ہو گی ا ڈیا اکلہ علی کی شا نک بونخالتے چے جانیں کے ار ان نے ای سی پاتیں. مض بکریں مے جو اع میس ٹیس ہو ںگی۔ پھر اسلاف پر من و فوا رس ور
ایآ اور ر ابی امشیں آمل ےک ان کی ایک علاصت بے ہگ کہ وہ نطرت اا کر لی ار ضر علزر زی اۃ الین اکو برا چھطا میں گے۔ جس نس نے میرے تعھال یک کالی دی اس پر الللۂ تال کی لضنت ہ گیف اس بے اللہ کے ڈ شا نکی لشزت ہیی ایح حا وت اعت ہیں ٠. اس مو حتوح پر بست سی اعاریث اجس یں مجر ژں۔
ذو .. ان رے اٹل رگتا ا رے۔ من الغضبچم فقذ الغضبی زم اذیا شم فقد آذانی ؤفضن آذانی فقد اذیالل” “کن لے ان ۓ لق کیا ان نے ہہ سے لن کیا شن نے این ایا دی انس نے کے تکلیف دی :نل نے نٹ یٹ زکی ان نے الد تعال یکو ازیت دیے'' رن عستالز ہیکزت سی نک رسول ٹر صلی انز علیۃ لد
مار اعضایہ اس دم ااستعاوب ً یت 63
سے ماکز اوک سدق ا مرا وق رض اف فا نما نے ۶ں اما ن کی علا مت ہے۔ اع سے مض رکھنا کف کی لغ ےت ععنید اللہ بن ا تفہ مل نے منرت ان رض ال تال عنہ سے روایث کی ہےکہ نب یکریم صصکی اللہ علیہ وآلہ درم نے فرباما می نے اتی ام ت کو عحخرت صدلق اھ اور عظرت عم رڈلھ ہے عبت رک کا تم یا ہے ارہ اان سے ئن کی اسر رکنلاہوں “جن جج اللہ تعالی سے ٹوا پکی امیر ے۔
ان اور >ەء,-,,ء-ء, 0090 ہیں 0۶ ھت لا نا ہے عالاظمہ وہ کافر میں ہے وہ اللہ تعالی کا وشن ے۔ جب عام موم یکو کاقز کش وا لکلاب عگھر سے پے سید تاد لق کیو او سید نا حرفار وی رضی ارد تعالیٰ خنماکو کافر گے والوں کامیاعال ہو گا۔
امام ا تھا زربیہ رامتی رحمتہ انل علیہ ڈاضلی اتل شیوخ می شر وس وی آپ ات تا تر یکو کو کر اسان رلک ان ان :ای ید بات کر ا چا یا بے اد رک رما نے تو جانا کہ دو لق بے کروکمہ نق رای ماف تق ہے“ رمو یج ہے “تھا ام آاے ہیں عق مین گر پ ارک یں و یں دنا یں مصحان یدام کی محرقت می ہیں.۔ اکر صول ہکرام کو جق اور سان ما سے نو پیر مار یاشیں کک بنکز رو جائ کی
تحرت سمل من عبدائلد نستری رح اللہ علیہ جو عم“ زیر حرقت و جات میں کال درجہ رک تے فراتے ہیں جو ٹس اسحاب ن یکر یمکی عزت گرم وو ب یکم بجی ال علیہ ال جم حر انان نیس کت خفرتن کر ائد می بہار رم القر علیہ سے یو ھا گیا کہ مرن عپد اللھزیہ یٹ رہ بئیل ال ر اور انعیاق مج رخلیضہ ہو ہی ںیکیا ان کا رت حرت اح مواور ری اش تال عر سے بڑ ھکر ہے۔ تق آپ نے نپا تر ام رمعاوے
اسر انخام اید اسقاود ؾصي۵۵ك۵صض۵0۵۵" ْ 64
جس س سد و ہددت ا یل ۰ ۹ش٤رصصس--٠صَصصىص×س+س۔ےسصسوییپووسووو سر وس سی سے سو ےج و سس ا ا ہہ جمسومسموسمسمم۔ ڑوم یسوووبچم سب سہامسصسسصملد رش سس یں
9تءءع, عط طط“ ۶م" م۸
7ا ٌٍٍٍ900۳1۳ ٰ ٔ ٔ ٔ 0 عاضر ہ وکر ابمان تو کیا تھا“ ان کے کھوڑسے کے جاک سے غنے الا با ربھی عر رن عبرالعز:: رحتہ اللر علیہ سے افشل ہے۔ یہ عقیدہ اور نو ان لوگو ں کی ہے ہو علم و فض لکی بلندبوں پر فائز تھے۔ ہہ لوگ اکابر حابہ میں سے ہیں تے انوں نے من ےی ی۔
صحا کرا مکی شمان کاکیاکھنا وہ حضور ب یکریم صلی اوقد علیہ و آلہ و سم کی مارگاوایس عاضر کر یلان لائۓے تھے ۔ اشموں نے اپ یلم کے رہ انور کے انوار حاصل بے تھے آب ثایل کی ود مت میں رہکر ہما گے۔ آپ کے تم یسر تلیم خ مکر کے جائیں ومیں۔ شرافت کے احکام لیے ۔ ابنا مال و مزال تضور ن یکر صلی اللہ علیہ و لومعم کے ازشاوا یر ریا نکیا۔ ا نکی انخلیت از زی ذرخجات زا رتا ایمان کی ند زٹی ےنا بین ایت ابو بر صدبی اور رت عمرفاروتی رضی ادند تعالیٰ عنما) اکابر کاب یش سے سے۔ یہ دونوں قام صا ہکرام میں سے افل ہیں۔ ان کی ان سک یکرنا انیس برا بھطا کنا“ ایمان سے پاجھ رعوناے۔
ام مھ رعمتہ اللہ علیہ نے اٹ یکما اھر ا سا کی مامت میں نماز جائنز خمیں۔ وہ غافت صدلی اکبر ری اللہ تمالیٰ عنہ کا ط2 رات کے مار مین ہو عھتی۔ قام اکابر صعحاب کرام سیدنا صدیقی ' اکر ٦٦ء١۱۱۱ راہ دب ابر رضی القد تی عنہکو ما نے تتھ۔ تام اکابر صحابہ آپ کے عراج بکی تر تہ
٣ئ رح ا بر نائگم ناروںق ری اللہ تال نے گی ان مین اٹ یکر سے امج الاقوال میں اس کے تچ نماز میں ہو عھی۔ ا نکی وفت _
انار انخامیہ لیں دم المعاویہ : 0۴۴ 8 "“"“"ٔ""++-ھ2۶""
در تر ہہ ںوسرس یش شش سے یہ سم سز سس یسوم ...×× ہی
کس رر ےر ہے ہے ں
کا مک رکافر ہے۔ ا کو گالی دیئے والا؟ برا نے والا ایمان سے خارح ہو جا ے۔ ار ہر سج شی نک
تچ از نمی ہو حی۔ حطرت رو الف ال رضح او طر نے انین کی کات میں
رافخبوں کے عقائ کی وضاح ت کرت ہو ان بر تقی کی ہے۔ ان مت بات کے مطالعہ سے ایک طرف محابہ کرام کی ان اور عظرت کا عم ہوا ےٴ دو سری طرف را فقو ںکی براعلتقادی کا علم ہوا 7 اب ہم اپنے تقر می نکی ولت کے لے ان وبا تکی نشثائ دع یکرت ہیں جن میں صحابہکرا مکی عظرت اور را فنبوں کے خعقاکد پر روشنی ڈا یگئی ہے۔
5ے
'وفتراول “گتوب من < گنی کی صحست سا دور رہن اکس اس ٰ
کی صعب ت کفرتک بنا دی ہے۔ مام بر عتی فرقوں میں سے پر تر وہ فرقہ سے مو مو را چا رر کریں ت امیرمعاویہ رض اللہ یم 7 سپ راقو ار ے۔
رفتز اول “توب ۵۹ < اللسنت و جماعت کے عقیدہ کے بفیر غھاتے و
فز ال “توب ٦٦ ح ایک صا ی کی فضیلت حضرت اوزیس ری رضی اللہ تعالی عنہ نیے عاشن رسول اور طخرت عمرین عبدالعزیز ر مہ انر علیہ چے مصف مزاج غلفہ ے پلنر رے۔
رغر اول “عحوب ۸۰ ح امت رسول یکم میں تر فرثوں میں سے
می فرۃ ملف الات ر اعت سے اور شی فرثے خایل مت
نے 7 سا
ہن اول کون ۶۵ت حطرت الوٹػر صدلتی اور نخرت عمرفاروں
-'ۓ--0590131
با 2
یں دم ااسقاود___ ٰ 16"
سا سلفم سے سے
27- ایر تعالی عنما کی تنظیم و تقر سب گا ے زیادہ ے۔ اں
وہ ہیں خطرت مولاتا طپراک رن جابی رمحمتھ اللہ علیہ نے ری
امیرمعاوبیہ رض اللہ تعالیٰ عنہ کی اجنتادری خطاکو مگ رکما ہے حطرت رد ےاائن کاچواب راع ۱
زفزاول وپ ۲۷۷ ض جخرات محاب ہکرام کی تیب ای افخلیت ازر تلفقال تب ے۔
فتز اول “عحووب ۵> ایک شیدہ خطیب کا خلبہ عیر میں غلفائۓے ا کے (ک رکو یھو نے وین مر تقر ن
دو روم تقوب ۷< حا ]گرا مکی لنیلت پ> لی نکر کیا کیا
لَّ
رز وم کو ے00 ا لہ مامت پر بش کی گئی ہد
وف زوم 'کحوب ج٦ < غزوفت اور امامت ےفتگ ری کی ے۔
دفر سوم توب +٭* ح متلہ قرطاس نی مرض موت بر کائیز طلب کرۓے ی رشامع ےپ
دشر سوم غوت 9 < میا اعم کو ام اسعا حر ال کی کیا 7 ٴ
ر زسم کے ےے× الخ تک دلا کر درے۔ھ وک یکئی ہے۔ وف سوم ؛عحوب ۲۴ مح ساب ہ گرم کا بابی شیر و ہر ہونا اور ایک دو سرے پر مریان ہہونا زس بحٹ آیا ے۔
7 ر ےک شیطہ لوگ حفرات صحاہ ہکرام سے بی ٹف شکی وہ سے
انار الخاب لیںء مالمغاویہ 0 امو
سس کسوہ سا سے پہچھ و ہے موہ مسوم لہ اہ 068٣م ممتمسسہجس ہہ سب ئےںیژ سس پوس ٔ ستو_چںسیسشسسوسووییٗھوُچجاواسوسوسساستہت .- ََ
مہمیمہیچں سے سس ×سس سیا وہ تم یرس سد وا ب.-س+×..سحلا و موم ووموے٘اہ بھیوؤ+وم جھسےوہے نے سے سممی۔سےمووممو+ممسمپسسےےمسیسےسوسب ےھر سمے سم سو نس سے چو موسر چیپ وی وریہ نے بو موی ہے سم سے پ سس سو یتس یسرم سے سے
ان کو کو بح نکر نے راج نت ای لوک میں یعس تفاورکی دی یی ك۰ ۱۰۰و رات سا او ح۔ ائل تایق جوا ےکک مکی مان میں رحما بینھم ثرایا ے۔ اور اضر اسر ھا رتے ہں۔ حطرت مرو الف مالی رحمتہ ازند علیہ ے ابی لوکو ںکو بر عقیرہ قرار دا ے۔
ا تی و فو یڑ ےآ کی مو ے ران بونج ناو گی ہو گے زا اور ضراب وی نے واقحات بی سا جے ھی ۴ری ج ود ہی پا ووجسں فت اور ج زان امیس سز دی گئی۔ تحض زناکاری کے مرگب ہوۓ اش٘میں ری مکیاگیک ان خمام اخمال کے اط ایی حر ا کور تو ری یر می او لی تھے 0 اس مر ار و ہا اندرس حالات ابل اسلا م کو بھی ایے واقعات بر خماموضی انخقیا رکرنا جاے۔ لس و تخفع نمی ںکرن جا ہے ۔ ہاں اگ رکوئی صالی ار تار یا منافقت کا م قحب ہوا ھا و رت 0 من ان ئے تفظوجیی بی آگا کر وا تھا۔
و و روز ضرئ ط ا ول لم کے جلیل القدر مصسحالی تھے آپ تن ےکوٹی ای با تکمہ دگ کہ تضور ا ا و وا ہی کو کک ہج ووے یت ۴و لپ کر ناک حضرت ایور مفاری ری اللہ تعالی ع کو جال کت ریں۔
آب ما کے ایک اور سای آہ بحم رصصی الہ نعالی عدہ جے۔ ودای 0 ۲ نظرانی وی کوں از یں 7 دز ا نے جج۔ فور جی رم ال ا لا فرایا لا بنفنع عصاہ عن
و یی یے یر ےر
سحمج- .٭مسمسحہ:
الحار ہے نٹ 68
عاو راس تا طالماد طریقہ ہے اس پر مسلائوں کے لج ضرد ری نہیں کہ ابو :عو ہکو خطالم کت رہیں۔ جح بخاری میں یہ عدریٹ باک موجورے۔
صعا ہکرام سے پ لے اخمیا کرام شھم السلا مکی زندگیوں ظ نظ ڈالیں و یس ایے الفاظ ہی جب اللہ قھالی نے معن اخیاء کے لے لفط خاب استعا لکیا۔ اس سے ہہ ھراو میں کی جاس قکہ اللہ تمالیٰ اپئے انمیا کرام شیہم الام پ شاپ او نآرق عصلیٰ آدم ربہ فضدیا عخرت آوم علیہ السلام سے شلعطلی ہوکی ”خوش بہوگی نے نے بات مناسب می ںکہ ہم حضرت آ وم علیہ السلا مکو اضصی اور غاوئی نکھت جانہھیں۔ قرآن پاک میس حفرت بوٹں علیہ السلام کی1 رماے لاال ٢۱ شومیسانکاائ یگنت من الظالمین ” اے اللہ نز اک ہے تفر میں پلالمین میں سے ہوں اس آییکریہ کے الفا ظکو سذ کر رت ونس علیہ السلا مکو الموں میں سے تو رکر اکفرہے۔
ما کرام سن ذیرہ دانس گناہ صادر تی ہوئے تے۔ وہ عر اگناہوں
ہے اکن جھاں کرت اضر م۔ فی اف" مفوالی ہے زھ کی پک خی
ا کرام ا ار احعا ری یں اس .انت دہ جضن تعلی او دی "٦ کرت جے۔ اجتماری طورر مض متا لات کو لٹ کر تے تے۔ حرت این عباس رصی اللہ تماٹی مھا فرمایاکرتے ےک ان فقیہ نضرت اس ےا لا ا و
اق ا کر یں کی تع ات کا ۳۲ 08
روا ی تخصیت نہیں >سے معصوم قرار ریا جائۓے۔ 7ر ہے ہو نیاجس بہو ضس نع 0ے رر و7 کرئی تعالی ا جز رگ اچ آ پکو ١راو" اکماری زبیل تب خق تہ ریں۔ مین ہم انمیں ایا یں ککہیں ہے
السار الشامب لس دم السھاویے ْ ْ 9و6
لور تی کریی صلی الد عاید ول لسم نے آرایا اللھم انی یل ا و وی را عابز بنلدہ ہوں '' اب اگ رکوگی تخس اس قو لکو سا نے رکھٹے ہوۓ حضور ب یکریم صلی الفر علیہ و آلہ و مکی ان مبارک مس لے لفظ استقعا لککرے گا نے کافر ہو جاۓ گا۔ حضور ن یکریم صلی ال علیہ ول عھم کے فیا نار نل ھ کو کافرو نکی این مماعت شف یکر ےگی۔ آ پکو صخرت امیرمعاوییہ رضی اللہ تمالی عنہ کے لوکوں نے شمی رکیا تھا۔ آج کے و نان معاویہ لاد شور میاتے رم ہہ کہ حمقرت معاوبہ رض الٹر تما یٰ عنہ بای تھے“ ىہ بات قرآن پاک اور اعاویٹ سے ساسح آقی ہے ۔ک می حا ی کی ابا یز یں معن تنک زیا کاو نے یی وج یک خی کھانے والے شیع کس مضہ سے حفرات صحابہ کو گالیاں ویے رت جن اور مس طر حکفرسے پچ سے ہیں۔ ہہ لوک تضور صلی اللہ علیہ وآلیہ وم کی آل گلاتے ہیں عالائکہ آ,ل کا صمی صرف اولاد بی نمی بللہ بعد ار بھی ہو ا سے اور ابعدار وہ ہوا سے جو مضور صلی اود علیہ و آلہ وم کے ارشاوات پر اما لت
اللہ تھالی ے رای ما اتکمالرسول فخذوہومانھکم عنه فانتھوا شی بے تو کول ازنر صلی ا خی لہ و تلم وس ا کو از رن ہے عمش کرس اس جج درب جات کن وج یکر صلی الج الہ وم ہے فزما نکو بدا و نان سے ول شی نکرتے اور اسن پر وی یل نہیں ای یل بے نان ہد ہے مسا کے یں۔ ۱
ال تال نے قراا فلا وریک لآ یومنون جنی یحکموک فیما شجر بینھم ثم لایجدوا فی انفسھم حرجا مما قضیت ویسلموا
ار ماب تی اہ و ٰ 0 020
پت سپ
٢۳ہ "مھ" سو ے لو ای وق 0ئ ۳ 0 آ پکو ہر معالمہ میں اپنا حاکم یا را :نما گن تو تی ام اشنا کرس ف ے آپ گے ایا کو ائیے یم رس جیے تی مکرن ےکا عق ہو ما ہے (یارہ ۵ سور ء السا رکوغ ۹)
آج شیعہ انے آپ کو سی دکھلاتے ہیں“ آل رسول ہونے کا دعویی کرتے ہیں۔ سے الام قرلی ارشاوات نیدی کو شلیمکرنا یا اس برع ل کر و ررلار ان ے انار ٹرے ام ین انضا فک ری ںکہ ایے نافرمان مسلمان کھلاے کے مزا ہیں ۔ کیا انی موم نکیا جاسکما ہے۔ پل ران نافبانوں کے اروکرد ایک الیا علقہ بخ ہو جانا ہے جو انمیں نذد و نیاز دینے ہیں اور ان کے اھ باون بت اود ان کے ساخنہ مین حول رت ہیں اسیسے لوکوں کے تلق قرآن عیم نے فرایا ومن یشولهم منکم فازەمنھم جو تخس اییے لوکوں سے شی ول رکا .و گی ان میں سے ہے مخا کرام سے مجن رین رت تے لی عدارت رم ہیی سے لان میں کس من سے سر ھلاتے ہیں۔ کس جرات سے آلن رسون نے وس ؟ ون ماس فا عحچ کرام کے متعلق بین دل با سے کہ اڈ نتم اعداع فالف بین فلوسکہ فاصحتہ بنعمته اخ وانان تم لوک الیک دو سرہے کے تن تھے“ ات مسیادے دلو شس اک دو سے کے کے ااقت ر حبت بھردی اور تم ا سکی تتوں سے الامال ہ ھکر ایک دو رے کے بھائی بن ھے۔ اوس رتفد فیا کی ایک دو س ہے کے خون ا کے پیا سے تھا ۔ کی ہیں ۷ے ہیں ران می می ا می دزن سم سے ات ہو ے' ایمان لا“ ممسلمان ہو ئۓ “ مشرف بااسلام ہو ئے “ تضمور ہج یکریم ا ےا مففو مض روک راک رو مر سے محب ٹکرتے ے“
اما لاہ سید مالسشاوی ۴۱ ْ۹ "٣+0+9
بھائی بھاگی بن گے۔ 0 0
سے یں کے مصحلن پر و کر اکا نوج ےی نام لوک ا ہے پکو معلزان بھی کین اور تضور اکر زیلی :اہ علیہ مل حم کے مبھاپ کو برا پھلا بھی کت ہیں۔ الیےے لوگوں کی صحبت سے ابل ابما نکو دور رت کی خی نکی کی یے۔ من جامم المش رکون وو من تو ٹن مج کین :او اکناز کے ساجھ یل ول رکھتا سے وہ ان میں سے شار ہو گا۔ مضور نب یکریم صلی الل از ول نو لم نے ا ارشاوارت ت متواتزہ میں فرمایاکہ جو تنس میرے صحابہ کو ابراء رتا ے ان ے 'قض و عراوت رگتا ے وہ گے ابا دتا ے۔ انالذین ْ سس“ --ء“, ءھ07 ار و رسول کو ایا و نے بین ود )ان ہے ہر مغ ۴ ۷۹۳ھ "۰"
صحال کون سے ؟ ٰ شہ
می رخی ن کرام نے اس شخ سکو صمالی رسول ” ۳0+ دوات سال کر 0ر ےل تر وی ا ا زی روۓ الو رک ارت سے مرف ہوا ہوں جس حخصس نے مہ مھا خواہ ایب پار ہی مضور فور میم صلی اود علیہ و آلیہ و لم کے پچرد افو رکی زیر تکی دہ صحالی 0-0 تھب ری تو نے رش ارم زی کیم ٰٰھ 1 موم نکھلا کت ے۔ اہی صھال یکو طعن و نشی کر نا“ برا پھلاکمنائٗکما نکی مسلمای ہے۔ جھ رالشی لوگ دائرہ اسلام سے غارج ہو جاتے ہیں دہ کس منہ سے سید کعلاتے ہیں۔ ٰ ۷+ پ
الحار سال وب ۲
سسیووسے۔
ےنارک وہ سے اپ اد لم خی ںکاور لیس مز اماک ٦ری اولاو میں سے گب کر اس خر ی کر وا وجہ یہ میاع فرالی انە عمل غیر صالح ”اس کے اعحمال او رکروار برے ہیں “اب جضور ھی کریم سی اك خی آلد کل و کے وی بسح سے ٦ی "",,۰۰۰ و خاری طبقہ کے لوگ بھی را فنوں اور شیعو ںکی طر حگمراہ ہھں۔ وہ ال بیت اطنار سے ل قح رککنے ہیں۔ اخمیں برا بھلا کتے ہیں۔ رسول اللر ص۳ ُی اللھ علیہ و آلہ و لم نے حقرت علی رضی الد تعالی عنہکو فربایا الیک فرقہ نو آپ کی محبت کا ز موی کی چو سے بلاکف ہو گا اور دو سرا ڈرقہ. آب. سے لحقض و عراو ت کی رجہ سے ایمان سے محزوم ہو جائے گا۔ اس حدیٹ پا ک کی تر ہمارے استا و گرائی حخرت مولانا لام ویر فصوری رحمتہ اور علیہ نے اٹی کناٹ و جیم اق ال (پھ جج اجاٹ فری رکوٹ “ صفہ ۲۳ ۲۹۲)کی سے۔ اد رہے وین اسلام کے چار ستون ہیں۔ ت رآن ' حر یٹ ' اتمارع امت اور جتقدانہ تیاں۔ سہ بچاروں ستون قرآن ماک کے ارشاو میں مععین سے گے ہیں۔ قرآن پک می ڈرااگیا۔ ومن یشاق ال سول من بعد ما ہین لەالھدی ویتبہغ غیرِ سبیل المؤمنین نوله مانونی و نصله جھنم وسات مصیرا ج رحس پرسولل الہ صلی الہ علیہ دآلہ وسل مکی عخالش تک نا سے اور برابیت یانے کے بعد ان راہوں پر پیل نت ہے جو رین اسلام کے علادہ ہیں وہ جن لوگوں سے حب تکرے گا اس کا امام ان کے ساخھھ ہو گا اور جح میں ڈالا جاے گا۔ مضور ہ یکریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سم نے فرمایا ملماتوں پر ایٹر تعالیٰ کا ہا ہے جو اس جماعت سے معدہ ہوگیا دہ سید ہا خنم می سگیا۔ بس جات > یس سی ساوت
ہے سوسممومیہوموچے ہمموہوسوسوسےے چو ہے ہس ملمہ او سم
انحار الشام لی د مالسعاوب -- ٰ ٰ 73
اس سے مر ہوا وہ جماعت سے دہ ہوگیا۔ اس حدرت یا کگکو تزمذی میں میا نکیاگیاے۔ اور ۳ م وضع القرآن *' میں ا سکی تشرع دیکھی جاسحتی ہے۔
رت ا ری اش اع مر ےت ئک کی نےکر ری ا کی لی ال علی ول ا فہایا اناللەلایجمع امتی(او قال امہ مع عل ار لتاق قق ہی وف 7ر ار ضں بریے رے کات پ امت رسول چم کی بی ناعیت اور فضیلت ے۔ ہہ امت رسول الد میم کے ساجےھ مخصوص ے۔ اور سابقہ امیس خفظہ طور بر نش وقم گمراتقی میں انفا یکر لمیاکرتی عحھیں اور امت محریہ مم اگر شفق ہوٹی سے یا اس کا ابماعغ: ہو سے نو وہ جع اور صواب پر ہو کی سے جس ےپ الد تعال یکی رضا ہو لی ے۔ جماحعت پر اللہ نھال یکا پا
ویداللهعلٰی جماعتەومن شذشذ فی النار جماعمت :ر ال تما ی کا اھ یداع تو تھی بات کس ژن حد بت اک رت جم محویت و علق زنادی بر نے بڑی و زاحت ہے کلیس سے۔ صن داری میں می بے حدریٹ پاک موتور ات س کی روایت سیرنا ضرق اکر رضی اللد تھا ی عنہ نے کی ہے۔ آپ کا ممول یہ تھاکہ آپ قرآن پا ک کی فس ماف سے ٹل دیاکرت تھ۔ اگ ر لن ق ری نہ نی وھ یثے رسو یمرن بی کو سیائے رکچ اکر احعادیث باگ میں می دیل نہ تی تو ووسرے محاہ رم نے عو :نے اور لیم کر جھے۔ آلرگوئی سعای راجخا یر اھ تعالی کا کر اواکیاکرتے تے۔ اگ رکوئی صحالی بھی اڑی حدیث مان نہک اجس سے وںل کے مق نے آبپ سوا گرا کو جن ریت ادروس من میس ممورہ فرمائے۔ ای کا نام اتماغع ے۔
السار القامب لس د مالہھاو نہ 0۵۵+ 74
7 مجم۸
اع ام کی یل
ضرت سرد نا صد لی اکر ری اود تعالی عنہ نے تقاضی شر حک و لاہ هینہ قرآن یا ککی آبا تکی دوجنی میس فیصل ہکیاکرو اور اس سے سرمو تجاوز یکرت اکر رن ا نے کر لے اماونیث نکی می کو سان رو ا ھی نہ ہو قاع سے وی و اکریں۔ اکر انام بھی نہ ہد اتاد سے عم یاگمریں یڑ ے۔
حرت عبرالقہ این مسور رضی ایثر تعالیٰ عنہ خلا کے پور ” اعم '' جھے۔ دد فا تہج کوکی دہ ساضے آے تو قرآن باک سے راہنمائی اص لکیاکرو۔ اکر قرآن پاک سے نہ نے نو اعازیث نبوی می سے رو سی وص لکروں اکر اعاویی میں تہ ہو ےتا وکاز اد ھا صحائی و جم کہ ہی اع سے ور ر0 و ا ا ا ای ار ا وق ضا عببھی غللط میں ہو ستا۔ نہ اعادویٹ اور روایات سطن داری اور نسائی مم موجور ہیں اور ایبابی امام امم اور الوواوَدکی رزاارت ا اتی
09٭7 7ء و ار لم فور کہوں کے ھک درخ می مان بے آو رکشت میں جات گا۔ وھی الحماعة ہہ فرثہ خت اور پ> پر شع ہونے والے ہیں۔ وہ سلف کے لی وم لے ا اور خر شع پرگاغزژن ہیں۔ حضرت تج مرث دبلوی رد اھ ططے ٹر کرت ہو ککھا ےک اہماع امت کا اجاع ضردری ے۔ اضاع وانب الاتماع سے۔ فقرآن پاک سے اجخاع امم تکی ذہیل مع ے۔ ال زکوئی جن اجقا کرنے کے بد فیس کر ہے تو اسے اس کا راب متا ہے۔ اور اس برع ليکرنا شربعت کے مین مطابقی ہے۔
. رم 7 الاٹیاء میں ارشار ہو ے داؤد سلیمان اذ یحکمان فی
جس سو ہ۹ یب سلمف ہا نے وب میا ایر و واج سا0ت ی۹ 1ر1 9 سیھب جج یسادا ہ صا 6ہ یں یھس لوسر
السار الغاصسہ اس د مالسضھاویہ 010000١ 0"*۰یھ"
الحرث اذنفشت فيه غنم القوم وکنا لحکمھم شاھدین ففھمناھا_ سلیعان کلااتینا مکنا رع ٣ جس نفطرت وا وو اور حخرت س مان عیب السلام راز کو کھیوں میں ککریاں جد نے کے مت رڈیل ہکرنے کے چم نے ا وری ں7 فی مل قااو ال رے با ھا۔“ ٰ
عخرت داد علیہ السلام کے زمانہ اقتزار یس ایک شی کی بریاں رات کے وین وو مر تطاے کے مححیت میں ج۔تی یں اور ان کے محیت اجاڑ ری حضرت داؤر علیہ السلام نے عم ویاک یت والو ںکوکریاں دے دی جائمیں ' گر حطرت سمان علیہ السلام نے عم دیاکہ ھی والے صرف بج ریو ں کا دودھ ہے کت ہیں۔ جب گف ود حیی ردیازہ اس عالت مای ط جا ۔ دونوں کے نہ اجتتاری تھے گر حضرت سلمان علیہ السلام کا فیصلہ زیادہ مناسب تھا۔ اس فی کو < م وضع القرآن ٢خ الر من ؛ معالم التنزیل می اعادی کی اسناد کے سا لک ا کیاٛے۔ ْ ْ ایابی ایک مقرمہ مضور ب یکریم صلی اوند علیہ و آلہ ”لم نے بیان ثرمایا ےکی و ایس ا نون کو ےک کی دی میں یں نا یی ان ۵ 000 7 گییں اور زندہ ےکی عللیت کا وعوئ یکرنے گگییں۔ حضرت داد علیہ السلام نے قفل را۴ دی ور ت کو ےہ 0 4ض 9 9 ")۰" حفرت سلمان علیہ السلام کے پاس پل یگگیں اور حطرت وائؤو علیہ السلام کے لہ سے آکاہدکیا “ آپ نے فمایا نہیں میرے پاس ایک بچھری لے آو میں لڑکے کو کا کر ؟رھا آدھا دونوں میں پانٹ دح نہون۔ بچھولی عورت نے کا تضور الہ تما آپ پر رئم فراے ایا ری ہے لڑکا و کو دے دی" ای
76
س“ھٴموںوسٔم سکب -
ہے۔ عخرت سلمان علیہ السلام نے وہ لڑکا پچھوٹ یکو درے دیا۔ ہہ سے اججتادگی انراز ز یضے تضور ب یکریم صلی اللہ علیہ وآآلہ وم نے اپئے معحاب ہکرا مکو اپناتے کا عم دا ہے۔
سرکار دجام صلی الشر علیہ و آلہ وم ے نایا اذا الحکمالحاکہ فاحتھدنم اصاب فله اجران واذا حکم واجتھد فله اجر () ال حصرِثٹ پک کا جم لح ہو ایک غیرمقلد مولوی خرم علی نے ” مشارق الانوار ٠ میں لھا سے تضور علیہ اللام نے فرمایاکہ جب عاکم یا تقاضیکوگی فیصل ہککرنے گے و مقدور بھراس بات پر لت او رکو ش لکرے۔ اگر وہ ذرست سے پر یچ کر فیصل ہکرنے پر تاور ہ گیا اسے دو بار ٹذاب لے گا۔ ان محنت او رکو شش کت پاوتوو ٹل می ںسکوئی سض ر ہدگئی فو پچ ربھی اسے اکٹ ار لواپ نے کان میتی اگکر اس عاکم نے قرآن پاک اور اعادی ث کی روشنی میں فیصل مرن ےک یکو شل یراج کہ ۶ سیف ہے تن کوکی وییگی .گی تو عحقت او رٹ کومنسل (اجتمار) سے کام نے ہو ئے سا تر زا و نے تزاڑژات عاص٥ل او نے اور رر از فی کے چا از ففعل یکوکی چک زی اے ای اب نل کا۔ ق رآن باک و اعاویث مبا رکہ سے رابنماگی خیں گی“ آمار “اہ ےکوگی بات نہ شی اجماع امت می بھی ا ےکوٹی واقعہ نہ ملا و اسے یا سکرنا جچایے۔ نو اسے درستث یل ہکر نے پر وو قواب گی کے ورظہ ایک اب ۔
اتتار ىا ایت
0 4 سس7 قابلیت کا ایک معیار مقر رکیاگیا ے۔ ہر نس بللہ عاللم فاضل اجحتاو خشٴمی ں کر
الخار الشاعث اس د مالسھاویہ ٰ ٰ 27
کتا۔ اسقت کے ہاں چار بدوے کیل القدر تد ہوئے ہیں۔ ان کے اپچۓے اپنے نراہب ہیں اور مقد ٹیا مذاہب اجتنقادکی قھام شرائط بر یکر ہے۔ ان چاروں کے عراتب اور مقا مک وکوگی دو سراشھیں کیچ سکتا۔ ہہ حظرات تضور بھی کیم صلی ائزی: علید ال دتمعم کے زان اور ایفام جک زا نے کے مت شیب تےے۔ جن عالات ت اور مسا کل پر ان عفرا کی رسای می آع بے سے وا الم بھی بھی ان مان لیکو عل میں کر سا
ری کر فی رز دن لھ کی ور اماویث و تن نے کہون اس ص پ زرل والق یپ ےا اکسا سک لظھر و یروی العصر الی فی بنی قریضیة ال عدیٹ پا کی وضاحت کرت ہوۓ مولوی خرم علی وہل یلعا ےکہ ہخاری اور سلم میں ایک عد یٹ 1وت را مر مق سے ا نت تن مکی مماز اذا دککرہے ج کہ عصکی بھی جر مھ جب کک ۴مم بی فرظ یس ید ا می اب این لی کا سر مین جج او رکا ےکا حا ئل بس سے تھالری لف میں تے۔ محاب ہکرام حضور ہ یکریم صلی اللہ علیہ و آلہ لم اس ںا چان سا زا راع یس خی لت ود ےک بن بعرات نے اں شطر ریے عع کی فا اوائک رم کہ امم نہ جو جیایے ۔ لان نے اس لے نماز بے ھی کہ عضو تی اف علیہ و آلہ و سلم کا عم تھا کہ بنوفریظەمیں کچچئے کے بعد نماز پڑھی جاے کی کہ آپ نے وہاں جلد کی بنچنا ھا۔ دہ چچتے سے اکم بیو فربظەوقت کیچ گھیں۔ ہم علتے جائیں کے خواہ نماز ارت با ارےں
اب ہیلظاد تیور فی گرم بی اللہ ای و لی ول کی رگاس میس ۶ٰ۳ ص۷۷ ۷۷/, پا
ٹپ سے سس _سسلے۔مغ٥سسپتت یی _
جنوں نے نماز تہ بھی ان کا ال بی پیٹ یکیاگیا۔ آپ ع۳ کی پ ناش نہ دس ا یں را ےط ناو یں از ذھ ل۔ اف نے گیا کہ خضور ٹریم صلی ال علیہ وآلہ لی ےم ے سرمو اوزن ہوگا۔ ٠ے مور ععل الد علی ول ول کل ا ماہری الفاظ سر عم لکیا گل نے جز زفماز کی وجہ سے ما فقوت نہ ہو نے ا رن ٢ ۳د اتل ورس ت تھا او حضزذر ارم صصلی اللہ علیہ و آلہ عم نے دوفو ںای" فرازدیا۔
انت ۳ چاروں انی گے انا اور فیاس کو و رم ترار در می سعگر آ ج کا ڑل مولوی اصرا کر کہ دین میری میں اختلاف نس ہونا جایجے۔ ہہ چچاروں نراہب اشتلا فک بنا بر پیرا ہو ے ہیں۔ وہ الن ان کو تلییم مہیںکرا۔ وہ تلیر سے اجقنا بکر ا ے۔
حفرت معازبین بل دڑ کی اجتقادی سو کی ریف
۵ ۷۹ ی۵ بب 6 6ک>بص بيپيپی۰ اف :ض۷ معلی الخ لن لم نے کپ وشن اکور ز مقر رکیا نب چھاکہ وہاں جاکر تم کی پیل کیاکرو ہے۔ ۰+گوو ور عرے لک ا اجب مان سائت رو نے کی کے کوکی عقیۃ مہ نے کا و طزع وین یدرد جےن عرش نکی با رسول انل صلی ایر علی و آللہ کلم فضی بکتاب اللەمی اللہ تعال یک ی کاب ور ق رآن می رکی روشنی میں فصل کروں گا۔ رپا فانلم تجدف یکتاب اللہ اکر تم نےکماب الد میں وہ م لہ نہ پایا ؟ عر شک با رسول اللہ مم ! بسنة رسول الله صلی اللهعليهوآلہوسلم مل ضور یز کی نت پر گم لکرتے ہوے فص کروں گاب قال فان لم تجدانی
سہرے ہن سووب اس پیر رو رت رر وت
انسار الخامب لد مااسخاویہ ٰ ۱ 0 0 ۳ 0
ی لا ا و 1 مو گن گے اس نہد رالی میں انی رائے اور اح یت منتلی: جح لکروں گا۔ مع و مرن ےکو می یآرویں گا اور انشتمازی فور تکوح ودنت کان لال کالہ فان فظ رات /)/)+ ۰ 7606 ھ میرے ینا با پلیزا اور بڑی طوشی کا اظمار قرایا او رکناال سد للهالیٰو حق رسول الله لما فو ور تل ا کپ ون ہے جن نے ا رد لکو پغام دن ےکر ہیا اوز ممازکو اس پر یل کی قوٹقی ری۔ ٠...
بی سے: اتتتادکی ظا اذر ہہ ہے قیا سککی ال جن بہ حضمور بی میم لی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خوشی کا اظمار فر اکر حطرت معاؤ رضی الد تعالیٰ عث ھا دی حیت اس جدیٹ جاک سے اجتتاد اور قا کی مجر دعیت داع جو جاتی ہج اور آج کے تظاہر ٹین علام جو قیاس کے مگر ہیں ا نکی سوج باضل ہو بای ے۔
نر یرت ریرحت ار طیرا حرف ان کا اف تلاکو ں کہ زار شرف میں عفر اون عائن را تال یح نکی رد اط مجر ےکک چا کوکی تھی رن ہے مہ و تا لو آپ تیآ پک کی ا کے سے وا رت ب ترک لا" 70 آپ رجا سی مھاہہحیمملاکوا راجما یىی
تی ور کین کے اون سے فی ےب اکس اما کی کر موا و احتار فا
ارزیا ررے جرات زم نتے۔
٦ ۷ یً۰" آپ لووں :کو فزمای گفھزے تھے خرن ناک نے تھلاائ) روا ائر ے9 7 22 اکر اما بش سے بھی عحل نز ہو او ”اون
ہم۔_ےسس سمتے۔۔۔جے - سےممسسو(7(ج۳×ىَْٛعوسو سمستتامم٭مسم مات
سےے--سسم۔ ہیدہ
انار ام ضا یہ الاو ٰ 80
پہسسیٹپٹیٹٹٹتی۔ 1۔_ب۔ .774
0-70 اور اع امت ٹن گ بواپ د کے پا ابا رکرو۔ فا سے گام مود عالی و تام ظاہرہیں۔ شح فک بات پُھوڑواور رے اعماو سے فصل ہکرو۔
0 ."097 مر وہہ امت و اجتماو اور اس بی منائل کے عل کا معار ہیں۔ تھام دب یکمابوں میں از امام ناج تب گت" "گیا سے اور ان کے اجتتا کو تلی مکیاکیاے۔ تفیر العزی:* میں سور6ا مکی تق کرت ہوۓے ککھتے ہیں اسلام میس چچار اساشین ہیں جو سال کے ع لک یاد ہیں۔ قرآن ٴ حدریثہٴ اہجماع امت اور تال -
شر الوع حزت دبلوی مکک وت نا ہہ اور ننزن کرت ہوۓ کت ً اکر وا “انی اج میں نے روایچت ا مواتوو ےک عم کے سے ین جن رن مرعث اور قرائ عاولہ 000 +* اتی صل و عدل فظرآن سن است ”کہ ىہ قرآن و سن تکی رح متند ۔-۔۔ تىً یوئجزجختا۶ سال ار ویارےں
زرعلی نوا زی مو ایی تمرح سراقات کے باب الم مین یت ہیں کم مد رک اور حاکم نے اس حدییٹ پا گکو کچ ھا ہے اور قرآن و حر یٹ کے بند اجماع امت اور قیا س کو ہمایت ایت دی گئی ہے۔ ہم بیماں سعید خد ری ریضی از توق ہز کی اتوھ یگ کرت وں قال عم ج نان قی ٣۹۵[( 1 ٔ ٔ 2 .ہے وسدا اساء فی (اوقت کا عاد اجدھما:الصلوۃ بوضو ولمیمد الآخر ثم ابا رسول الد اللخلی و آلم سد بہنا لەذالک فقال الذی لم یعد امست الہ تاوا۔ ٣" گفالالنیتوضاعءوائما ولگکالذین<)
السار اخامیہ اید اسقاویہ ْ وٹ
سممھمسوتت-سسمے مم وہ سر ےمم ہمہ مس
دو ص“خالی ایک سفریر گے ۰ راست میں نماز کا وقت آمکیانر ان کے باس رق کیک لے بای نر ھاغ دوٹوں نے میک کر یک مرا رھ یگ للا از کے وت کے اندر ہی پالی م لگیا۔ ایک صھالی نے پالی سے وضسوکر کے نماز دویارہ بڑھ لی دوسرے نے سابقہ نما زکو ہی درست جا نے ہوئے نماز نہ بھی وائیں ےون سیل تمجور ٹ یکزیم ععلی ار لیر ول وس مکی خیرمت افنس مجن کردا نے سفق کو فا رات و فا یس نے رہ ماز شمیں بڑھی تھی تم نے سفنت پر عم لکیااور تمماری نماز کائلی ہے ۔ نس نے دوبارہ نماز اداکر کی اسے فرمایاکہ تمکو پڑا ٹٴاب ملا۔ اس واقعہ سے خابت ہوا ےک قرآن و سفت اس با تکو سی مکرتے ہی ںک اہتتماد اور قاس زمرایت ہی مر اور محر طرلوہ ے۔
اب ہم اصل مل ہکی طرف لوئۓ ہیں۔ حخرت امیرمعاویہ رش الد تالی عد سنا صدلق اکبر اور سیدنا عھمرفاروقی ری اللہ تعالیٰ عتما کے زبانہ خدافت کے دوران ایک طویل عرصہ کک شام ک ےگور نز رہ اور اسی طرح وہ رت عثان رحضی ارڈ تعالی عنہ کے دور خلافت میں بھی شام کے گور نر رے۔ نے کوئی ین .لماع عد سے تو زع یکری صلی اق علی لہا وس مکی مدکی :میں دہ این تھے “کاپ دی تے عام تے ہمد کے 'ہادی سے ممدری تے۔
رت امیرمعاونہ وٹ علیل القرر نتر سے
شمار اور عرثے زی رمع اط قد ال سے
ریت ریضی ا فال تم نر تے۔ ای رگ ض٣ شک نیل مین اجیتادی طور پر فاص عمان حر زنل کیا امام این جج ری ریت آپ سے اس :ایق کو لی کے ہیں۔ او خرت امیرمعاویہ رض اللہ تعالیٰ
السار البھاصہ لس د مالسھاو یہ ٘ 82
٦ .سریسیہ سد حسےمححت
ع کو گند اور فقیہ مات ہیں۔ وہ الع جگوں میں آ پکو اجتشمادی خطا کے پاوجود ای کا تح ہی۔ ان کے نز دک منج در نکی خطاصی ٹواپ ہے۔
حور بی کریم عللی اللہ علیہ دکلہ دم کے ایز کے اجہتاوٹی ضط حر ٠۰ الو مل کی راہضا یکرت رۓ میں ور الزم صلی اللہ علیہ وآل وسم تن صحاہکرا مکو جکام بناک رکییجتے ان کے امتمادی ارو فایرں۔ ریت ارے ےے۔ کن از مگ امس انداز بر خوش ہوتے گے کرت موا کر رعصی ال تھائی عد ما اق سا نے رکئئے۔ حضرت معاؤن رض ال شاو نے یی سال انار تکی۔ بہت سے مسائل.اۓے اہنناز ھن تمعلی رانک کے رجنب حفرت خنان برض ادلر تعالی عد کے تصاضص کا مسلہ سام آیا نے آب نے یہاں بھی انتا یا رمان اجتمادی پیصلوں من حرت علی کرس او ابی وچرر جن ر تھب حضرتف امیر معاوب ری اللہ تعالی عنہ اجنتاوی خطا بر تھے تر انمیں بھی ٹوا شش ان الاتنما کہا جاے گا-
ص۳ 7 ششوں ہے واقعات سے ب؟ھ ری بڑپی ہیں اور ان کے ٹیہ زر الفاظ میں کیہ گے ہیں۔ ان کے اخلافات اعتاری اون ررضاتے ال کی رک تھے دا نے ذاتی اغراشن سے پیل می ںکیا
0 0س آئی'
بخاری شریف میں حضرت ام 7ھ کا 02
جناری تی کی جاد ذدخم کے انی تہ می عفریت ملواوب بن ابو سفیان زی الو تما ی کنیا کا چزکرم سس عن ابن اہی ملیکة قال اوتر ماوق ما المتا)۔ گمةو عتدلامولی لابن غباس فاتی اہن عباس
انار الضاصسہ ای ہم ااسھاو نہ ْ :0ھ"
نتالت امیر صو ول الم وی آلەوملہنیارین میں ملیکةفیل لابن عباس هھل لک فی! ہے ارس سائیقاسا اور الا بوا حدةۃقال انەففيه۔
کہ ار لو ھا 7 ھا یں دنس ےکہ ابن الی ملیکہ تن ےکما حضرت معاویہ ڑب نے نماز وتر اداگی۔ ایک رات عشا عوکی نمائز این عمباس رضی ارذد تاٹی ٢نیا کے غلام کے پاس اواکر رس تے۔ٴ اننموں نے ضرف الک رکعت وت اواکی۔ حطرت ابن عباس رضی ادنہ تنالیٰ جتما ےکما خلا م کو پچھوڑو اور ان بر اختزاض ن کرناکیومہ وہ طرت رسول کریم صلی الد علیہ و آلہ وس مکی صحبت می رسے ہیں۔ عالاککہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تین وت نماز بڑھاکرتے تے اور جین وتر بی نرہب یہ میں 0
حطرت ناٹع بین عمبر رضی اللہ تعالی عنہ نے حدیث میا نکی ہے کہ ھی ابن ملبلہ نے ای اک حضرت حم تک ا از کے یں رکحشت رت ار گے عطرت مواون ز صی الہ نبالی سے نگ اھ ابن عباس رضی اللہ تمالیٰ عنہ کا ایک خلام بھی تھا۔ آپ نے فرمااکیہ اس ات کو چھوڑ“ اختاض نہ کرو وہ ایک عرصہ تک عضور ب یکریم صلی اللہ علیہ وآلہ رمعم کی ماس میں رسے ہیں آ پکی صحبت کا شرف حاصل ہوا۔ ان ول نے یا مد گا حر صلی ال علیہ لہ و سم نے وت کی الیک دع دای وی یی 1 موا کرام مین ر : بڑھائکرتے تھ. اس لے رہب یہ میں رت امیرمعاوبیہ رض اللہ تعالی عنہ پر بھی اعتزاض نمی ںکیاکہ انموں نے اک رات ری رے۔ نخرت ت اب عخباضسل رص اللہ تال ی عثر نے کرای کم آپ ند ہیں اکر اضصوں نے ایک ر . ڑھی ہے نوکوگی اعتزاض نکریی۔ سی ایک اجتنتمادی مہ ہے۔ ْ
انتاں ان غاب لس دم امھاوبہ ----- "“.. 84
اہنت و جاعع تک اختقادی گرمروں رر اک نظر
حخرت امام عبرالوہاب شعرائی رحتہ اللہ علیہ اپنی مشمور ماپ ”بد اقیت والچواہ کی جلد دوم میں فریاتے ہی ںکہ جفرات افتکا اس بات پہ انفاقی ہےکہ نمام اہ عاول ازر ماوق تے۔ حضرت عمان عنی رض اللہ تمالی عنہ کی شمارت کے بعد قصاضی میں جو وب ہوئی اس سے بھت کی خلط ظہمیاں پد ا ہومہیں۔ فوہت جک و جدال تک کپئی ۔ گر اس اہجتمادی اقدام پہ سحاہ ہکرا ممکو سب وشن کرنا مات بی پااوار ے۔ مجن حرات حطضرت عل یکرم ار وچمہ ہے ف رم رہے' لخد بر رید ان ام کے لے یک عحن کنا جاے۔ دہ یت وا ای تاب ے۔ اکر نر خطاء بھ یکرے تو ا سے ایک تب ٢ مم ا۴
سا کرام کے اپچھلقی تر کی بن نکمایون مین بب معردپا بائتیں کی گی ہیں انمیں سج ما نکر اپنے عقید ہکو خراب نمی ںسکرن چاہیے۔ رت عھر رن عرالعزرز زحت اللر علیب ن ےکیانخوب فرمایا کہ الم تعالی نے جازی ظواروں کو ان کے خونع سے یا کر دیا۔ اب میں ابٹی زبانو ںکو بھی ا نکی غیبت اور ور ار اور رش ری !اد وہ الام قبو لکرنا نیب ہوا اور یی دولات ایمان گی انا کے وسلہ سے بت ىی عتیں یں ہ مکیوں ان سے بگانی کا ادا رکریں۔ خصورا میں حرت . امیر مواوںہ رضصی الد تفائی دہ “٦رت عرو بن التاص رض اللہ ال ی عد یے یل الد ر صا ہکرام کے معلق ابی زبانو نکو اک رکھنا جاہینے۔ رانشی اور خی ان مخالا کو بات رنتے ہیں شارع علیہ اللام کے علاوہکس یکو جن نیں پچ اک ہی عھال یکو برا بھلا ھے۔ یہ جھکڑے ال بیت اور سحاہ ہکرام کے
العار القاب لس د مالسعاویہ ٌَ_ ١ 011 020 ۶۶+ رت اور ححخرت معاوبہ ڑکا اخلاف
ال این شریف فاتے ہی ں کہ حخرت علی اور رت ام رمعاوی ری لف یقت کے ات تل می می ناف می ار الاف و صرف رت عان رضی اللہ تعالی عنہ کے خون کے قصاضص تھا۔ رت عثان رضی اللہ تعالی عدہ کے رشن دار پار ار قصاش کا مطال کر رے جھے۔ حرت علی رضی اور تعالی عنہ کے نونف پر انیس ہہ خلط عھی ہو یکہ شابد رت عل یکرم ایٹد وجمہ یجرمو ں کی رعاای تکر رے ہیں۔ عالاککہ کچ صورت ال ہت یکہ بای لوگو کی قوت ابھی تک بمت زیادو تھی“ معترت ع یکرم اللہ دج ات ےکہ وق ف کر کے پل ا نکی طاق ت کو کزد رکر دیا جائے پھر تما لا جاے۔ اس طرح حخرت عل یکرم اللد وجمہ کے اپنے کئی سائھی بھی آ یت پر اکر ےا آپ کے کے و ںاو ا و یکر بی لوگ انی ہے حعقضرت اعلی ززعم ان چیہ نے جلکف مل کے ون اعطان گیا لہ معن عان مہرے 07 ا ہرجح غونت مر اہی رمواونے رت ان تین ےکا ہ انیس مو کک ےکی جا ان سے فیا لا جوا ے۔ ححضرت عم اور حضرت امیر معاو۔ رضی اللہ عھالی تما ددنوں کر ھے۔ تقد ابی ابی با کو جن خیا لکرنا ہے۔ الد نھالی نے ائیمیں اس اجتتاد بر ار دیا۔ ان میں ہابھی جھھڑا تھی ہوا۔
9ص ۶ 0+0 7
کک و تکرہ ایت اوب و اترام س ےکیا جائے۔ خواہ انییں ان
لہ ری تر نو و ا
الحار الخاسہ انید م غاب کو 86
الال علاح اترف 20 رر کے رر قر میں بے جب تی شرتور موہ حضور ف یکم صلی و علیہ آلہ وم ے خی الغرون قرتی ازش ار ]ا ہیدہ خر زان اور میرے ماب کا زان التررون ےن ام اب ہکرام عاول جے مصفت غت تفور برنور صلی الہ علیہ وآلہ سم نے قربایاکہ میرے محابہ حتاروں کی طرحع امت کی راممائی کریں کے۔ تم ا نکی اق اکرد کے فو ہج راس پا گے۔ ىہ عدیت پاک داری شریف میں دی جائنی ہے۔ این عدی نے صحاب ہکرام کے بابھی اخطلافا ت کی روایا تکو تم کیا ہے۔ ان میں یھ جھوئی ہیں“ بھ باطل ہیں۔ ان کا اختبار نیس کرنا جاہنے۔ ا نکی اچچھی ناو ی لکنا چان ۔کی وککلہ صحاب ہکرا مکو اد تعالٰیٰ نے انتا ون کالب اعد آاح شمالی رحختہ ا علیہ نے فرایاکہ دہ خون ہیں جن سے الد تعالی نے جماری توارو ںکو اک رکھا۔ اب وہ جار کی زہانو ںکو بھی ا نککی برائیان ما کک رج رن نے بھی فو ر کے ال ٰ کسی نے حظرت انام اعیہ بن عخبل رحختہ ار علیہ سے ہو کہ ات ھا۔ بر کے جک و جدال کے متتحلق آ پ کیا فریائے ہیں۔ آپ بے قرپاا تنگ استه قد حلت لھا عاگسیت ولک ماکسیت ولا تنشرن عغما گانوا مور اف دا کا ا دا یں ان کے ملق نمی ب چھا جا گا 8 ' ٭ ٥ر چواریمنی' میس کاھھا ےکہ حظرت امیرمعاوبہ وھ اور الن کے ساتخییوں نے بخاو کی تھی۔ اس بات کے جاہۓے کے باوجو کہ حقرت لی گرم ال وچنز بب جے انل ہے حخظرت معاوں ری اللد تمالی حد نے رت عثان رضی اللہ تی عنہ کے خون کے قصاضص کے معاللنہ بر علیعدگی اخقیار کر کی تی بی اجظاوی فیھلہ اجس میں ضرت ساد ری الہ تال عد نے
الخار الخامی یں دم اسعاویہ_ ٰ ٰ 87
"۴۲۴ 0.۰۰
کہ بناوت فقو ٹور ےھر حقرت معاویہ رضی ار تما ٰی عد کی باوت زالی اخرا کے لئے نین تین بلہ نہ فاص خان دڈل کے گے اتاج تھا پھر اک رق 7ک تع علی اور صرت مان زحضق ال قالی ٣ای جح ×٭ گئی۔ حطرت صن رضی اللہ تعالی عنہ غاافت سے رستبردار ہو گے ٴ اس کے پاوجور وو مسفیاقوں سے ت تفقہ امام ہیں ۔ گر حضرت نم زضی اللہ فعای عد نے سن ارے باقیوں ری نشین :ا کت می کرام کی بجی ہشیت امیرمعاویہ رحضی ال تال یٰ عنہ سے بیج ت کر ی۔ بعت کے پور حخرت معاو رضی اللہ تعالی ع کی ملظ یکو فحق و ٹور بر معمو لکرناکتتا خی تی معالمہ ہے۔ ”شرع مواقف'“ میں ے هنا الخطیتەتبلغ لاحدالتفسیق ان کی ے ی فطا مق پر معمو لکرلیاورست ت٠یں۔
افتکا روے
شر عقا کر نسفی“( اد ۃ الائمان ) یس شرماتے ہی ںہ اہنت و جات گے تک تضور الم ضصلی ابق علیہ و آلہ ول کی صحبت سب سے اع 0-.. ۶ , ٰ 7 0 مو و و صعت میس ہی سے لن طعی نمی کرت“ ان پہ اعتزاض اور اکر نمی ںکرتے۔ مض لوک ایے ہی کہ محا ہکرام کے مظاجرات اور محادیا تک بیا نگر کے برا ام یق مات حاف یت ۶پ ٹوظط خا طر رکھتے ہیں اور ان کے امور پر انی بام تکرتے ہیں گر ان خی کے لق سی سے بت من یت جں نز لا کی تنیز عیب بی عم یکرت اور ×٠ تضوراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ مکی عبت اور تخل کرتے کے
الخار اخا ید امغاوت ٰ .ا تام
بیشہ ہے گور ہوروا 0 نی خروں پر وجہ نہیں رہیے۔ وو نخرت معاویہ “ عخرت عر بین العا “ حطرت مغیرہ بن شعبہ رضی الد تالیٰ متعحم اور ان جیسے صعحاب ہکرام کے اخطلافات کو بھی بر نظرا خسان دبکھتے ہیں۔ جو شس مارح اسنّت و جماعع تکی اتا کر ہے و سخا کرام کے لی پرکھائیان نہیں کر اور انیس لن جلعن نمی ںکر۔
ای طرع ' تیب الاخلاقی شرع عقامد نسفی می لکھا ہے کہ خرت مولانا جائی رت ال علیہ نے لکھا سے بلہ حخرت امیر معاویہ ری اللر تعالی عدہ خطاکار تھے مگر خافت تے “ىہ جملہ انی عدم وا تی تکی وجہ سے کیا ے۔ حخرت جن عبداحق حیرث دولدی رحتہ الد علیہ نے اپنیکناب ”کیبل الابیمان' مس فرمایا ےکم نیہ بات رت جائی رحتہ اللہ علیہ کی غلطہ شی سے رز ہوئی تی ”لا الا یمان *'ئمیں ایک متظام لیت یں :
مشاح اہنت کا عقیرہ ےکم ان معاملات میں حقرت علی رضی اللہ تنالی کی عابف تج ےکور ان زی ج۲ کرک جا ہے “علض ہے ۔ تر نظرت معاویہ ٹیہ کی خطاء اجتادری تشی۔ غافت کے حول بر خھیں تھی تاس حطرت عثان رضی اوہ تعالیٰ عدہ پر تھی۔ حضور ن یکریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سم کُ میا گرام عارل کے' صا 020 ان رسپ 7 رر و نا ےس رت آمیرمعاویہ“ طرت عبرالرمحن بین الوسغفیان بن قرب بن امیہ ین عبدائٹمس بن عدماف رعتی اللہ تال ی تئعم حضور اکرم صلی آوفہ علیہ و آلہ وھ کے رش حر الہ سے ملے اغمان زان تگھا بے پاپ کے ور ورس ےا مدکی بارگاو ین مزا حا زی مین اھر تے کم یز مم ئل شائی نکی شی ام رص اوفاناٹی ختما
تضور سید الم ملین صلی القد علیہ و آلہ وس مکی وی تھیں۔ حخرت معاویہ ر ضی
السار انار الخاصہ اہ ماسقاوب ۵ئ 0( ٰ ٰ 89
.-..- لہ سے
رم ےت وآلہ 0 و روای کی ہیں۔ وہ فقہ تھے مجر سے“ عم الطع جے “کی تھے ٴ تو انین سلطنت و ول جج تحت خر رض رو تق مر ےہ اح وس اخزارات و ےکر شام کاگور نر مقر رکیا تھا۔ عطرت عثان رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کے امنظامات گی دکچدکر آ پ کو اسی منصب ے برقرار رکھا تھا۔ جب رت ع یکرم اللہ تعالی وجہ غلیفہ امسلمین بے قے ان کے منص بکو برقرار رکھاگیا۔ نخرت امام من ری الد تعالی عنہ نے ایک معابرہکر کے آ پکو خلیضہ السکیین قرار دیا۔ اس طرح آپ پورے پالیس سال تک امور امارت و غزاقت سرامحجام زج رے۔ آبپ ۹۸ کیو ری میں لوت ہجو لئے آپ تئے یت کب یکہ میراکغن حضور ب یکریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سم کی عطاکردہ چادر سے بنایا کے 00 کی کے ا چا ا نے پر ر کے جاہیں۔ حضور صلی اوطد علیہ وآلہ وسلم سے ہے عقیرت ٠ یہ ایمان اور سے حبت آپ کے ایمان کی بڑی دیل ہے۔ گر شبعان ان تمام چزوں کو لابا زی نے جاے ہیس او رآ پکو براجھلا کت رت ہیں۔
حخرت شاہ وی اللہ محرث دبلوی رحمتہ اللہ علیہ انی کاب ”سن ااعقیر, ' میں لیت ہیں' ہارا طریقہ ہہ ےکہ جم تام صحاب ہکرا مکو انگ الفاظا سے ما دکرتے ہین وو ہارے امام تھے' دہ ہمارے رین کے ستون تھے ا نک گالی رینا ترام ے۔ وہ رشد و ہرایت کے سارے ہیں۔ ان کی 20 ۱
ًّ“-۔
ہے اپ تد ای میں فریابتت یں۔ وکل صحب منھم لا نسبو تجومالرشٰدھراھل التوالی آپ نے ا کی شرع کا سی اور ژرایا ےه
السار الشاع اس د ماسطاویہ
کے سا کہ متقد پاضل ترین این وس
ازین وار وا خاع تافتند ات۔.۔۔ تد ال ى٠ رو ٹ8 اارہ ازی بیت ش دای ئک کہ مان چو جام شارت چشر بر عرائل تن سے زور ررے اما کک اور باراے کّ
تواَزاب رج ان مز و جاہ
ا ہت رو مک
بحہد ڑ2 کرو لہ و ضاو
807 0ب++ں:؛:1: >0 ۹۰
کن کے وو ور ہار نہ ماخوذ باشد گے این دو مس
ش۹ارت ور بات ق٦ اد
خطاء میلٹر یا صواپ از جوا و اش وو بم صواب از خرا
٢ رر او ری
یہ ور فل ان کردہ شر اہتمام 0 0ص“ 0۸ جار شر نی می ال غ کی و اک خر
تاول 01 اوے ۷ تطاء
ز کفزار وع گی مان
گممدار ایھان ازیں زشت من
ازانیا خطام رشت پر ور ا؟*ماد
السار الضامت لس د مالعقاوت -
لی یاقت تو اج ابٹان کے پاایثان ار کس شور بدگان نہ زان بر ران بنام ۶( ۱× و
نرون شر ٹر و ٹل زابل عفاء
93
یییے۔۔ سم یپ یی ہے
یر وروی اور اخلافب رز کے زروست رور لد دن راتٹان کب بپہ ”جابی' آن خوش کلام بلفظ خظام ری کر زور خطام را صقت مظر آپر خطاء
ضا ایر واق غور ز. اجار ن۔ عظر پور لی اراب زاہ ہہ سے وہ عقیرہ سے شاہ ولی الد محیرث دبلوئی رحمت اشر علیہ نے مان فرایا ے۔ اس عقیدہ بر صرف امت بی کاربند خمیں خیرمقلد وہای بھی ”لیم کرتے ہیں۔ مولوی نواب صلی صن غان بپھوپالی ”اتا ال رشع میں اور موی .0 شرع بخارئی * میں کا ےل حضرت لف رق اْر تا ی عن کی خظام اچتاوی ٠یب ٠١ کنیاب الٹطاء * میس تاضی عیاض رت ائر علیہ کت ہی ںہ جس شس نے حطرت معاویہ بن الی سفیان “ عرد این العاص رضی اللہ تعالیِ عنم اکو گا ۂہکما وہ دائزہ اسلام سے مگ لکر عرجر ہو جائے گا اور واجنب ااضتل ہے۔ ای تقد کی شرع ط٠ یم اباضس "میں کا رق وہ لہ مل نے لی عدجیٹ پاکگ تح کی نے جس کا تطلب پ ہے کید اہک زا لم :کو گال ی: دیے دالا کون ہے۔ اس حعدبیث پا کو طبرانی نے مرف تھا ہے۔ سح ال ریا یں ا ۲1 21 سے ”* الل الد ثی اعخالی ' مھرے انسخالی میرے اثالی' دویار اللھ کا نام نکی بیان کے لن لا کیا ہیے۔ کر * انوار ری حخیض مواہب انی * می نظزت علامہ نخان رخ
السار الھامسہ اس دم السھاویہ 92
اد علیہ کھت ہیں “ اللہ اللر ث اعمالی ' کے الفاظہ ایک کوئہ وصیت سے اور صحال ی کی نظ مکی تزغیب ہے۔ ماب ہکرا مکی محبت ایمان کا حصہ ہے۔ ان سے لکف رکا حصہ ے۔ جو شخص صحاب ہکرام سے خض رکتا سے وہ تضور نہ یکریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسعلم سے 'قحض رکتا ہے۔ جو نس صحاہ ہکرا مکو ایا دا ہے دی کر ملل ار علی الہ وس م کو اذا رتا ہیے۔ معفاب کرام کے ناڑے ہاج نس می خائل یکو بھی اجر و قاب ماے۔
ام طور پشتی ر2۶ ار علیہ ا یناپ ” معتمدفی المعتقد'' میں کی ہی ںکہ ہم اپیے مترشٗین سے پ ھت ہی ںکہ جب حفرت لہ و زبیراور سبدہ عاکقہ صدیقہ رضی ایر تعالی عنم حرت عل یکرم اود وج کی جگوں سے دبردار ہو گے جھے ںول برا بھلا گے کا گیا جواز سے۔ہ ونوثوں جماعتوں میں مخ ہو کی تھی و پچ رانمیں گی دینا یسا ہے .مہ بات ایک جفقیقت ہے کہ سید ع یکرم اور وجمہ کے بعد حخرت امیرمعاویہ رضی اللہ تما یٰ عنہ نے خلافت کی زع زاریوں علیعالی علفین' روٹین فرلق اس بات برشعقق وو گے از ابق 90 ھ ۰ وج هم رج کے شیعہ اور پچھرشیتو ںکی دیکھا دبھی ان سینوں سے پا چتے ہی ںکہ اب مس بات خر اعتزا کر ہو۔
حفرت اام طور پشن یاب ” معنمدفی المعتقد "میں فراے _
ہ سکہ جب امت کا جھھڑا شخم ہ وکیا نل و قال تم ہ وکیا اور تمام مسلمائوں میں میلم و گی ناب لو کس مات بر فی و ققا یکرتے ہیں۔ ان جگوں میں بھی جن فزیق مان آتے ہیں۔ ایک طیقہ ان جگوں کو اجتادی خطاء سچھتا ہے اور اننموں نے ممککت الام کی اصللاحع قال اوبز جلت یں جال ماقت زرسٹت ےک یہ مل غلط فا یہ دہ لوگ تھے جو خی حخرت عثان جیلھ کے قصائس پ
مت بھی سید یی ری جی پت ا ٣
الٹار الخاصلین دم المھاؤ_ں --- ٰ رو
می رکشل ہویۓ تے اور حخرت عل یکرم الد وجمہ سے بعت پوڑی تھی۔ ان کے ما نے الف تی کت مازی مہ کا مار یی دٹمرتھا۔ ان ے انی جالمیت اور شی سے الیا اقدا مکیا تھا۔ وو حطرت عل یؿکرم ابر وچمہ کے مقام سے وائف نہ تھے اور وہ ہہ نہ جان ےکہ سمار بی ساطلنت اسلامیہ کا اصصل مرکز نو حخرت عل کرم الشد وجمہ ہیں۔ ا نکی اطاععت واجب تھی-
ھم اس خطاء کو اجنتادی خطاء قرار وین ہیں۔ اب مالین کا اس فطاء پر زور دینا اسلائی اصولوں کے غراف ےک وکمہ ہج د کی خطامء گر فت ہی ںکی جاعمق۔ حفرت علیہ “ طرت زبیراور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ او ںو و کو کا اہ لا 0ھ و و ا کی کرم الد وجمہ اور خلافت اسلامیہ کے دجن تے عحال ہے۔ وہ ق رآن پا ککو کھت جے۔ مضور صلی اللہ علیہ و لہ و مکی اعادیث کے آشنا تے اور وہ اۓ لم و عم لکی دجہ سے قائل صد ارام تے_
قاصی شاء اللہ پالی بت رححتنہ اللر علیہ نے ” تر کہ اصحاب رسول تام کے تھام عاول اور منصف تے۔ اگ ری سے کوئی لی یی ریفس میا تک رر فان ای و حا نے جےں ون ات اور کور تھے لف ورای اور مات مار یٹ انب مع حتف کے وآ ہیں۔ قرآن یف نے امیں رجا بیٹھم قرار دنا ےت انا علیٰ الا ھا نے۔ اج و لوگ ا نکی ححی اور نھرور کک کزان ا ڑکج ہو نے ان کے خاف بات کرت ہیں دہ قرآن اک سے ناذافف میں اور جو لوک ان ہے یراوفٹ ر کے یں وہ اسلام سکوکی حیثیت میں رھت بھی صحا ہکرام عاللان تی تے کان وتی تے' مفاظان قرآن تے۔ ا نکی عظمت کا اما رکرتا- ق رآن پا کا اکا ر گرا ہے اور ایمان سے خروم بہو نا ہے۔
انار الجامب اس دم ااسھاود __ 4
ٰ نصوص قظر انی اور اہماع صحاہہ سے پہ بات مابزیت ہو بی ےک تام صحا کرام میں سید نا صدلق اکبر رضی ارڈ تعالی نہ افضل تھے۔ حطرت اب ور صدلق ش کے بعد سیرنا مر فاروقی رشضی ار ثمالیٰ عد غیفہ عادل اور امیرالمونین تے۔ تقام ححاپ ہکرام نے پہ ریت قلب ان سے بیع تکی تی۔ ان کے بعد رت حثان شی رضی الد تعالی عدر تفقہ غخافت کے حترار تے اور خلیفہ خخنی کے یئ تے۔ مماجرمن و انصار تام نے آ پکی بیع تکی تھی ان کے بید سماری امت نے ففق چوکر سید نا حقرت عل یکرم القد وجمہ گیا ہت کی۔ آج ان اب ہکرام کے ساجھ جو ونی رکتا سے وہ دائرہ اسلام سے ارح ے۔ ان کے مشاجزات اور منافقات میں بض صحاہہ سے اجہتمادی لی ہوئی تھی تھراس با کو وشن اور بغاوت قرار دینا بڑٹی جمال تکی بات ہے -
محخرت امیرمعاوبہ ٹپ کی خلافت برح شی
پراہے کی شرع گیی ١ ایران کے مقدمہ اور پھر شرع اکب میں کیھا ےکہ حفرت امیرمعاویہ رض اللہ تعالٹی عنہ کی خلا ف تکی صد ات مس شک و شب کرنا حفقیقت سے انگا رکرنا ے۔ آپ نے رت ع یکرم الد وجم کی غلافت کو تفلی مکیا تھا۔ ان سے بیع ت کی شھی۔ وہ غزافت علی رضی ائلد تھا یٰ عحنہ کے دوران ام ہے اپرٹ۔ آپ نے حضرت 2 اق وچ ری غافت میں ایک خرصہ تک اس اع افظا رکیاکہ آپ حطرت عثان ری ادد تعالی عنہ کے فی کا تصہاص لیس کے اور قاططان عثان یل کو زا وین کے گر شد یہ اخنظار کے بر آپ نے اتا کیا“ اصرا رکیا اور عظرت امیرمعاوی رض اللہ تعال ی عد کو اس اصرار کا جن بنا تھا وم خرت عتان رص اللہ تما ی عنہ کے ری رش ارت اؤر اننول لے اس غون بح کے قباس پر آواز اٹھائی تی۔ حر
ابخار الضاضہ نین دمالمھاویہ ً کو9
سیٹھر ررش ار
70- ,ھ7" ہے ےہ سی آپ کا اجتار تھا۔ دیدہ دانستہ مقامجلان عثان ڑیٹ کو معاف ممیی ںکرنا ےر ہے اتتتار یقیاً بیج تھا۔
عقرت ما علی خا ری زحت اللھ علیر اس وف تفکی وج یا ن کرتے ہوۓ الا جن لہ عطرت عل گرم اللہ و کی قافت کے اہن کی دور مین کٹ ین باخیوں کا ظط تھا عخرت علی ری از قالی عن ان کے خل کو خخ فک ر کے قاطان حخرت عان نہ سے قصاضص لیا جات تے۔ ان کا خیال تھاکہ جب بائی ان کی طااقت بر نشی نک رین کے لو پچ ران نے قققناعن للا ان گان وہ لو بے جری تے۔ وو علت اسلامی کو بست نتصان بنا گے تھے۔ مسلمانو ںکی اتی تیم الشان شحخصیت کا خو نکر کے پان رتگ ۳ے تے۔ ان کا بڑا زور تھا۔ وہ اسلائی سلطنت کے دور دراز مو پر جچھائے ہے ھےں اخ میں فوربی ع کرت ا پڑنا بڑا مشکل تھا۔ حفضرت گل یکرم اڈد وجمہ چا ھےکہ ا نکی قوت وٹ جا نن فو تن کا م کیا جافۓے .مان خاضا وق تگز رتے کے پاوجور ج بکولی ٠ 7 کیاکیا نو خرت امیرمعاوبہ رضی الد تمالی عنہ نے آواز بن رکی۔ آپ کے ساتھ حطرت علیہ اور خرت زبررصصی اللد ال عمما بھی سے اور سرو عائنشہ صدلقہ رضی الد تعالی نا بھی تھیں_ زی جات رال تجف نیا ضگی ں ربور میں ز ثابہت ہوا کہ ازن ولا کی مللمی نی جلد بازی شی “ىہ ایک اہنتمادی ملع
ھی ای رن عفطرات دم تھے اوز جت وچزال ز نات تے۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اذ تعالیٰ عثا لتض وفیہ انی خلع یکو ہوں و ری می ںک ہآ عکھوں سے ؟ نو ققل أآتے تے اور آ پک او انی کا تر ہو جانا کر تھا۔ خظطرت امیرمعاویہ. رضی اللہ نما یی عنہ کا بھی بی عال تھا۔ وہ ان رن و برا اظہار ند امت و علاممت یا کمرتے کال اج ام ای اتماری
الاار انھامب لس دم اسھاود --- یں
ٰ لی و خطاء تھھیں۔ ان پر ان حظرا کو طس و فا ج ہکھنا بت بڑی زیادثی ہے۔
حرت عبدایظہ این عباس رضی ایشر تنا عنما حضرت علی کرم اللہ
وجسہ کے ماموں تے۔ اخموں نے قرآن پاک پاہتھ میں پھڑکر حطرت عل یرم اڈ وی کے رک ہے ٢ اعلاان کیا تھا۔ لان نک یکا لوگو ! بتک و قال ے رن جاو۔ ضر سی دتاون کا ان جگوں میں یر ککس ٹٹ کھانس کے ملوب ہوں کپ اع سے وقاحت طل بپ کی گنی فو آپ نے فرمایاکہ قرآن یاک میں سے ومن قتل مظلوما فقد جعلنا لوليه سلطانا فلا یسرف فی القل انەکان متصورا ز جو مخیس عم سے ق کیاگیاہو اس کے وارث اور رخ دار ملظ ماع کے نا کے ماد میس اسراف اور زمادی نہکریں و وہ نحور ہو گا۔
بهم یی ککھ آۓ ہیں کہ رت لی گرم ایڈر وچ اور خظرت امیرمتاوں رض اللرفقالیٰ عدہ کا بائی اتلاف یا بتک خدافت کے لے خمیس تھی۔ حفرت ع یکرم ایند وجنہ غلیفہ برتق تھے جخرت معاویہ رشی ایر تال نے آپ کی نا صلی مکیا تھا ناو آ پ کی میتی تی بے منقاشات مرف خھباس رت معنان ری الد نمی عنٛ جج اور رضح ضخرت امیرمعاوبہ رض اللہ تعالٰی عنہ کو پنچتا تھا اور مظلو مکی دادرسی کے ُ ا تاج کنا مال کررنا وپ کا تق ہو ا ے۔ اور باغیوں سے حقصاضضص لزا علومت وشت کی زم داری ہوٹی ے۔ ٰ
جس طرج شارت عثان رضی اب تھالٰی عنہ کے رش دا کو حضرتے یرم ادس طف خخب ہو نے کے بعر تمائس کا موا کرتے کا جن
حار انخاب لیںہ ماسخاوی ٰ ٰ ے و
تھا۔ ای ططرح شام میں حرت امیرمعاویہ رصی اللر تھا ی عنہ نے بھی حر تن برصی اد تعالی عیہ کا کی ہو نے کی دہ سن آؤاز پان کی یس بای لوک ایک خلیفہ رسو لک و گن یکرنے میں قطدا عق یجاب نہیں تھے حضرت علی زغم او وف لے اع تب باخیوں سخ انی نکی ض ففماش نکی طرف کوئی قرم اٹھایاف آپ سیائی اجنماو کے طور بر اس معال کو امیس ڈا لک جج یت کا الا رت رھ کوک افاقن پعد اب دک ان اتنناو سے اظار لم
از 09 اس وقت ان کاسیاسی زور تھا۔ عفرت ع یکرم اللد وچمہ کا خیال تھاکہ جب یہ انی ا نکی ناف تکو تی مکرلیں سے اور سفنت اسلامیہ مم ہو جافے گی نے ان سے قصاض لیا جاۓ گا اب پاغیوں نے حطرت علیکرم الد وجہ سے ایک اور مطالۂ کیاکہ جب بای مطیع ہو جاتھیں؛ اطاعت قبو کر میں فو انی بفاوت 7 تن مل وی سی جاسکتا۔ ان کا مال ٦ی 9 0 کو را رک گی یت لک کا ریس تھے نین ساشی فان اکن از جب غانتر اور انار گا سا امو سی آارہ ہو کے لہ الع ل اطاع تک رین ٰ
اب ام سے حضرت امیر معاوبہ رضی اللہ تال عد نے حفشرت عنان نی رضی اللہ تعالی عنہ کی شمارت کے قصاص کا مطالہ کیا ىہ ان کا جن تھا۔ تر اع اور ملین بیز رضی ال تال ھا بھی آپ کے ہرز ھے۔ عیدہ ماش صیدق رت ال :لھالی حا تے گی ان کا سماجھ یا .ای و کے ہاۓ طاری صو رقالی یز ا 71 ا کاے عال ار نت ا ٤ھ
0
الخار انبھاس لس د مالسعاوی ٰ سا
مضرت عبد الد ابین عمباس ری ھ کی راۓے
عخرت عبداللہ این عباس رضی ایر تعالیٰ نما حخرت مل کرم ایشہ وجسہ کے ہمزوا تھے۔ انموں نے ان عالات مس قرآن یم سے راہنمائی حاصل کی۔ ان کے سماتے بے آبی تکریمہ آلُ ومن قنل مظلوماً فقد جعلنا لولیە سلطانا فا بی فی القتعل انەکتان منصوزا نج معن نے سی مظلوم کو غضُل کیا ہو اور اس مقتول کا و ی صاحب اقبزار ہو جاۓے 3 ۳ زیادثی ما اصراف بھی نکرے لجی انا بی کاروائی نہککرے۔ وہ یقن باب اور مصور ہو گا
ای نکر نے اپی تفمیر میں ککھا کہ حقرت عبدابطد این عباس رن وی ۳رر قوف ار نک این لف ون کی وجہ خزافت نہیں بللہ قاع حفرت عنان ول تی۔ ابھی باشیوں نے بیعت نمی کی عھ یکہ قصاص کا مطالہہ زور کیک گیا اور ہہ اجتمادی لی ہو اور بی جماعت اہنت کا اجماگی اعتقارے۔ ٰ ۱
ق رآن پاک می حضور صلی اوفر علیہ و آلہ و سم سی اص کو ”7ج امت ''' قزار یا کیا ہے معطفاز کرام امبت خرن لم کے چائڈ جھاررے تجے۔ ان کی انتفلیت اور فضیلت قرآن مجید نے ان کی ہے۔ اللہ تھا ی کی شمادرت کے بعد ھی دو ری شماد تکی ضرورت مھ ا کوقیں. حتضوز نج یکر یم صلی الف علیہ آلنہ ومن فرت فاقدین ولید فان (جیف الد )کو اس وت حر تن ےکی کی ہب ای کپ الیوں نے ارت من خرف شی اللر قھالی ع کے علق زی انناج ملاع یکن ناب آپ شی قاانے فربایا خر داز ا می ے سی ای کرات ۷او گن و ازشان جس سے ہیں۔ اکر خم لوگ کزہ ای کک
الحار الھامت اس د مااسھاوت ْ ٰ وو
برابر بھی سونا خیرا تر دو نو ان کے مقا مکو ٠ہیں کچ سکو گے اس حریٹ یاک کو بخاری نے بیا نکیا سے اور سج مسلم میں بھی موجور ہے۔ محخرت ابن عپاس رض اللہ تعالیٰ نما فرباتے ہی ںکہ صحالی رسول مم
یا کول کر ا نکی نکی کال کو ای سایق زگ یی خفیاف سے ال ہے :فاری ریف میں ایک اوز حریٹ اک مان کی عئی ہے کس رت عمررضی الد تعالی عنہ نے ایک ون صحابہکرا مکی ایک جماعت سے موا م یی سے کون لی ری بس نے تضور بج یکریم صلی اد علیہ لہ و مکی زان غزاران ے فتون کے مفلق حا ہوں رت وزیفہ رض اللہ نعالی عنہ آکے بوڑے اور حر کی ایام وین ! آپ فتو ںکی با کیو ں کرت ہیں آپ لازنا فزاشت ال فان نے وو نے و مات یب ایا بفر رروازو نے کی وجہ سے آپ کا زمانہ تفوط اور مامون ہے۔ حخرت عمررصی ال تعالیٰ عثہ نے موس اکیا دہ دروازہ کے گا یا ٹوٹ جاۓے گا ؟ حفضرت حزیفنہ رض اللہ تعالیٰ عنہ نےکما میں دہ ددوازہ نو ڑا جاۓ گا۔ راو ی کتتا ےک ہ وہ دروازہ وراصیل مخرت عخثان رضی اود تعالی عنہ کی ذا تگمرائی شھی۔ رت عثان وٹ کی شماد تکی رات
خاری ریف میس ایک ار روایت مو ٹور ےک جس رات حطر ان نی رضی اللہ تعالی عنہکو شمی دکیاگیا تھا باٹی آپ کے ما نکی ھت پر بی :کور رین پخغیوں کو تا کے کے را کا۔ حر تعن رض فک تال نے بح خی عو ال صلح امر علی الہ و سم کے اقزاظل سنا اور نخلقات کی دضاح ت گی۔ پھردہ عدیث پاک سالی جس میں ور ععلی اللہ ایل و لہ وسلم ن کوو ای کو ف زایا خھاکہ مع تپ ایک ئ۶
سس
انتار انشاصہ اس د مالسھاوی 1300
اک موق" یگ ہچ باون نے اپ کیم جات من :ک رکما یا سب ٹیک ہے۔ یہ جات نکر عخرت عثان رضی اقہ تعالی عنہ ن ےکھا مھ رر بکعبہ کی حم سے میں بی دہ شمید یہوں جس کا ذکر رسول اللد صلی اللہ علیہ و آلہ سم نے ات موا مت سے ہے آ٤ اور رت عثان رضی ال نما ی ع کو شی ھکر ویا۔
شارت معطرت جثان رجشی اللر تما ی عد کے بعر اک زان گزرا2 اسلاغ مین فتون ہے ززواارے ععھل یئا اللہ تما یکی نز بج لگئی۔ عالاٹ ارات سے باج ہو جج لے مگ خا بی اور رافضی آ گے نے سگے۔ ای جماات سے ککی نی باجیں ہیانے گیے۔ حضور افضل الا خویا ول لین صلی اود علیہ وہ تل کے ۱ ما کی ان مس فل و جال نکرنے گے اھ تعالی کے کلام میں اویی ںگھڑنے گے تضور نٹ کی قریت اور محبت کاکوئی اساس نل اوہ ان :با تکو ول ےجب آپ شلچلام نے اعلان فبایا تھاکر لاہڈکز الصحابەالا سی 7 میرے تابہ کا ذکر بیشہ بیشہ اما ی سے کیا کروب
حرت سن وی اور حضرت امہ رمعاویہ کی سج
رس اور میں حلص نبال کی ایت زوا نف نکی گنی ےکی منرت عل یرم القد وچہہ اور تخریت امیر مواوہہ رش اللہ نمالی عد کی مع ہوکی نو عخرت محاوبہ داد کونے میں داخل ہوۓ حطرت سن رض ارڈ
تعالی عنہ سے ملاقان کی اور آ پکی حدمت میں مین لاکھ در ہم شی گے ایک
نزار میں“ شی غلام کی مد مت میں :داد می لکیا۔ نحخرت نا ری انل تعالی عنہکوفہ پچھو ڑکر برینہ منوزہ آ گے ۔کوفہ ہیں مخیرو رین شعبہ! بصرہ میں
مدان بن اع رکو عم گر ا گیا اور خنقرت ام معاوزہ ٹو نکی کے یں ٰ
(27
انمار انخاس لہ مالسعاوہ _ ٦9۹9ء۶
5 7 امہ : رن الاول میں لک ایا تھا۔
الباری شرح حچ بخاری *' یس اس کک نام کی تقعیلات موجود ون ملح با ےکی کیل کے پور ححرت حمن ری الد تھالی عن بے شر نتریف نے آ ئے۔ مرف عل یکرم ایلد وجدہ نے حعخرت امرمعاویہ ری اللہ تعائی عنہ سے اس جات بر مج کر لی بصیکہ وہ شظام کے امیررہیں ہے۔ آپ حطضرت صن رضی اللہ تھی عنہ نے اس بات پر کرٹ یکہ و ہکوہ اور بھرہ کے امہ ربھی رہیں کے ۔ کوفہ کے لوکوں نے حجثرت امرمعاویہ رض اٹر تال و سے بجعت کی ات وہ شا میں رت ہو گے سارۓ خراق اور ۶ب عمالف کے امہ اور عکران رتھےں حرف سن زی اث شال عر نے قزوفت ان کے وا 1ے یک تی کی انح ال یی کرای لے انوہ ا کر پر ںاور ا کن کرای اور ہے زی ہے حضرت خسن برصی انل تھی کین می تا انان شی یآ کی دی آپ کادخد ات سگرن درست تا الپ اط تی فا روش ہے
* صاحب شس التوار نع ' گی ہ ںکہ بی: سس نامہٴ تفولی غلافت رر و ۷ گر کسی ا و نے میں تھا لک مات می تائن دی سے وا جن انس و :مالین ہزا ر کابیمت دا انگ ر آپ کے مرا کھڑا تھا اور ےہ ا لوک لو نل غررے راے بس ہت راقال ہے ار چک حعترت جن رص ایر نا ی ع کے ما یز بے رسکی وولی مگ ار ان مج کی مات لئ ںیت ام وش رو می لتوب نرت صن رض ایل نالی غ کی غلالت کا روز میں سال روز خجزاطت مین ارے۔ آ پ کی خلافت صا :اریہ کا وت ےن پا نے ائی وی لوز ۵8ه,000 امرمعاوی۔ ر شی ابی
انار انضاعبہ اس د مالسھاو یہ ٰ " رات غ0ك
تحالی عنہ کے جن میں وستبرداری کا اعلا نکیا تھا۔ رت امب رمعاوبہ نی ھکی خاافت امارت گی رت امیرمعاویہ رض ا" تعالٰی عنہ کی خذاف تکو ہم امارت اسلامیے
زار یں اور یہو نے مل یک صاخ امارت ے۔ آپ ین یج "مرا نکی وو کر سلت مل می کی ابتائی حول جاے ق اور آار گن نکر آپ نے ات دور امارت جن عد لہ رای لو اور ممات کا اک سلسلہ شرد حکیا ذہ ری حروف سے ککھا جانے والا ہے۔ آپ نے عگی اننظاما تکو بے عثال طریقہ سے سنھالا۔ نکی گرا نکی مت زسول لزنم صلی اللہ علی مل وس مکی عبت سے نیش بایا تھا۔ ممدی تھے“ پادی تھے“ کاب دی تے۔ حخرت عرفاروقی رضی ال تفالی عنہ کے زان میں اشعیں شام کا اغی رمقر رکیاگیا تھا دو فمابیت عدل د انصاف سے کا مکرتے رہے۔ حمقرت عان رضی ار تعالیٰ عنہ کے رور غزافت .مم آپ اپی مہ بے فائم رہ او رسیم مکی ب نشی اور عم عدوکی خمی ںکی۔ کاب رکرا مکی خلافت اور امیرسعاوبہ دی کی امارت می فرتی علامہ این لدون اٹی مشمور ” تارق * یس ککھتے ہیں مناسب و یہ تھا کہ جم خطرت امیبرمعاویہ رص اللہ نعالی عنہ کے زمانہ خزان کو ا اب ارالعہ کی فذانت کے سا فلز ایت اور حوزبالت مس تضبور نے یی فی افن تھے جس طح یں صحا گرام ۔گ ڑتضیور نی کریم صلی اللہ علی و آلہ زوش فان کہ ات ٹون رص الہ دور غزافت ) ے' کا خبال کرت ہو ئے امادتت کا پاپ حرت کیا ہے حفقیقت مس حر اع" رمواد یر شی انند تعالی ع کا شار خانفاۓ رس٭ول - گن مد یا مز لان نے آپ کے
انسار الھاصسہ ای و مااسظاو ےہ ٰ .9+
زاب ای / وو سے خلود ا بی لی نے جا ےک آ پک کی خزافت صعببیت اور غلبہ سے تائم ہوکی جبکہ سابقہ اددار میں سحابہ کے اعخاو اور انتاغ سے بواکرکی تھی۔ ان سے پسلہ علبل القدر صحاپہ مماجرین و انصار غلیقہ کا اع بکرتے سے اور ہہ متفقہ ہو اکر تھا ۔ک یکو اتلاف یا اعتراض تہ ہو تا تار خطت ممویاوب شلز خر اور سای قوت رز عا نے کی یہ
جخرت مگ رین عرالعزب رعت اد علیہ کے زانہ مل رویارہ خاظت بھی اسی طرح سام آگی۔گروو خلیفد نہیں بلمہ امیراور بادشاہ کی حیثیت سے سام آائے۔ انموں نے انیے طرزفل سے غلفائۓے اریہ کی یادو ںکو از ٥کر ویا فا خاا کے بیو عمامں مین اک ازای جج جو شع شریعت و سنت سے اور خلنائۓ رامرین کے لت قزم بر خی سے کلت رہ ھت ا نکی امارت اور ارشاہت غلافت ےکم نہیں عھی۔ ا نکی شوکت اور قوت غلافت کے غلاف یں
حطرت امیرمعاویہ ری اللہ تعالی عہ کا طرز علومت بھی عاولانہ تھا۔ انوں نے زم رس اور دیاداری کے لے اقتزار یں سنبیعال تھا پل سلطنت اعلامیہ کی وصحت اور بہیادوں کو مقبویا کرنا تھا انموں 0 ھ0 ور سلطنت کے معاطات کو ورس تی لیاں حطرت عتان رصی الد تعالی عدہ کے زمان کی افرمانفر یکو ت مکیا۔ بای اور سرکشو ںکو ناخ فرمان غلافقت بنایا۔ وہ ہر مالبت یں تضور مم کے فان اع رے۔ اگرچہ وہ امیر تے لوک میں سے جے ۔ گر فا فضت اہ کے اع رےں
۷۰ سو ۰٠۰ سے وس سو سم بس فیا زان کے لاک واری رغائے۔ اعلاشی طرو ظافت کے زوف و :ام لا ایت ماتد ا کی علومت فان مککراد نے کی زیت ین وگ رحضررت
...شر لے
المار الخاب اس دم السعاویہ ٰ و امیرہ اوہ وھ کے سارے لہ ایک خائدان سے واینت ہو گے ناجیہ انہیں غات راش زم سے تح رہ رکھاگیا۔ دہ ایک خاندا نکی علومت کے عاٹی تے۔ جب خافاۓ ارب مخلف خاندانوں بر مصعتل تے اور عحضل رضاۓ ای کے لے بار غزافت اھاۓ رے ہے“ ٰ ْ مارں کے اوراتی الس ہت لوا ہس رت امیر معاویہ ری ار تا ی عنہ نے غزافت راشدہ کے ایا م کو ہی ناف زکیا۔ اس میس نہ ای عرضی برتی نہ عم و بت رکو رذاج ویا۔ ہم خرت امیرمعاویہ رضی ایر تعالیٰ عنہ کے دور مار ت کو رور فإاف کا این حمصہ ٹزار دہ ہیں۔ مطخرت امرمعاوںہ رصی ار تالی عنہ نے بیت الما لق کو راو ا کیا۔ محاص ل کو ایمانداری سے ۶وام کے لئے ولف ر دا۔ وہ بیت المال سے جج ربز رازہ عطرت امام سن رضی اڈ تعالیٰ عد کو ری رہےں :ہر مال ا نکی ضروریات سے پڑ ھکز اواکرتے رہبے۔ پھر امام حنع رص اللہ تمالی عنہ کے علاوہ ائل بیت کے دو سرے افراو بھی بیت المال سے رما نے کے ا پک فریائش اور سفا رش کو ہہ طبیب غاطر قبولکرتے تے۔ ایک ہار نخرت.امیرمعاوتہ رض اللد نعاٹی عدہ جکرنے گئ ' بنا نت مغ رص الھ تعالی عنہ بھی ان دونوں کہ عرمہ میں تجے۔ آپ تخرف امیرمعاوبہ ری اللہ نقالی عنہ سے لے اور اگے قرشیہ کا وک رکیا اور بر چالی کا 20 نر ای مواوے ری الد نما ی عنہ لک آ تپ کو ای وی ای ہار درم ارا گۓ۔ ٰ
رت امبرمعاویہ ٹیپ ایل بیت کرام کے غادم جے
”کرو خلفاء “ میں رت امیرمعاوبہ رضی انز تعالٰی عدہ گی ان مات کو متضیی جیے لان ہکیاکیاہے بس میں آب نے ال ویت کے لک جا زی ٢ھٹ وف تر سو رکھا تھا۔
السار الخامہ ںہ ماسغاویہ 09
ارچ یو نکی ارینیں حطرت امیر معاوبہ رخلی الف تعالی عنہ کے اضمانا ت کو تلی ممیوں کین ور وہ لوا فک پکی ون ما کو انکرا ا زک رت بات جن“ ھز بم حضرت امیرمعاوبہ ری اللہ تعالی نہ کی یدبا تکو نظرانداز می ںکر سج حریث رسو لکریم معقام یں آیا ےکم غلافت رض میں سان رر گی۔ پززضضن ایاقٹ آےے امار اوز پاوشاجت کا وو روح ہو گان ھم تی امیرمعاوہ رضی اللہ تال عثہ کے دور امار کو و یھی ہیں تو دنیا کاکوگی بادشاہ ان جیی ساسی بصیرت میں رکتا تھا۔ دشمنان اسلام ان کی ثیبت سے من چھیاتے بپھرتے تھ.سملائی زحدزون بر کفار کی جثزات یں ہہ تی بھی کہ سلطعت اساا می کی طرف آ گھ اٹھاکر دیھیں - صاحب " روبع ااسقام' نے حخطرت امیرمفاوں زی ارت نال عد کے از برا یکی ےی اہ لی فکی ےم رن با یں یناپ کے وو تفر افھا یٹ عالا فی تقر کی سیائی ارت اور خاای کو اپ تو ار یھ ا و ا و و سک سر و ال ای اما '' میں ہر ازنٹ رز ان کا کیل وا کی زا نون تج ایی ےا مان تق کی ےئن میں مضو رن یکریم صلی الد علیہ لہ د سم ےن حرت ام از رضی االز لھا ی ععد کے لئ زی بھی اے ال لامھاو کو مادی بنا رے؟اے ایر ! معاوٰنے کو مرا و را کون ان با دن اعت زاب ووز رح جات رے تا ضفخرت پل یرم از زجسرات ووستوںل کو فرمایا کرت رت کہ مفاو کی امار تک برا کنا کرو" 00٦ 2 0 و یٹ کیٹ کا ےد ٰ
حضرت ! 07(" - نار کی ممترکمابوں می ںککھدا ےک حضرت امرمعاوی ری ا ات
السار اخا یمم اسخاوی 206
چھت شس
: 9-7-9۰7۰ 9ص9 ج٠٠ سر سس سو مرو سے و حر ےہ اچ جو وس سو مرو سی ےس سیں۔ سے
اص
سے ایرد اارے الام 6 راد رر ار نو صوے زوا ا رض اش نعالی عزر نے امارت سنبھالی نو خرت من رضی اللہ تعالی عنہ اھب رالموٹنین جے۔ تام بتی ہاتھم/ عحاب ہکرام نے ملا اکراہ برضاء و رخیت حخرت صن رضی الد تعالی عنہ کی بیع کی ترجب حضرت سن رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے معاہر کیا نو ان تمام حضرات نے حضرت حسن ری الد تھالی عنہ کے یکلہ کی ان کی اور حضرت امیرمعاویہ بی کے جن مس اما کا اظما رکیا۔ کعب احیار نے ککھا ہےککہ ہم سمارے مسلمان خگررانوں کا جز یکرت نہیں و جیییں حضرت امیرمتاوی رضی اللہ تال ی عنہ جیسا صاحب تیر دیرت میں ری یپ ایوس تک امیر رہے۔ ممارے لک میں
۱ مع و امانع ھا .
مرت امیرمعاویہ و ھکی فوحات اہلای سرعدوں کے اض یا رکغار اور مش کین اس اج بمیار زالی رے تج از ان کے ہفاہرۓ کر لے تھے۔ اب کے دع میں اعلا مکی شوکت اور وبدچہ سماارے جماں پہ پچھایا تھا۔ عر بکی سرزمین سے منل آری چستمان اور ان کےکردو نوا عکی را یی ائیا ویپ کے ماکب افریقہ می سوڈان پر اسلائی پر تم ارانے لگا تھا آ پکی فوئیس نان نے خطوں میں تچ گئی ھیں۔ ۴۳ جوری میں آ پکی افواح مشرقی خطوں پر قایض ہو ری مین اور دز راز کے علل ہے اسلڑای :لطعت مس شال ہو کے جچے۔ ۵۰ ری میس نے یت ممعلو نک جوا کیہ وہ کو ہستان کے یلا خوں کو روا
ہو کر فوجحات کے رروازہے ھول و پ علاتے خککرنے کے بعد الا ی شر ہے یم نشی کی حر رر ماگ بے بات روز الام کے کر
انار الضاصہ اس د مااسھاویہ ٍ" 000
عفرات بھی مع تی مکرتے ہیں موجود ہے۔ وہ لگھعتا ےد ۳ھ ججری میس حرت امیرمعاوبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عبداللد ابن زیاد عیٹ کی سرکردگی ش مرا کر زار کی ترارین کور تر کے بط کے کر ترکتتان کا نصف خطہ محللت اسلامیہ کی عدود میں شال ہوگیا۔ ای سال آپ سے عععم نے مین غیدالق نے روم کے چھ علاے اکر لج ہجے۔ لخطنز کے مطمافارت مین جھا ےکور زج جیا ہاں' مل مر بے آس زاے ہے تیر ار بانے
خرن ای زمعادے رض اللہ تما لی عدہ کی ان فتذحات اور کمالا ت کو یر عفرا تک یکنایں بھی تلی مکرتی ہیں۔ تج جو لوک آ پکو عن و تفع کا نان ھارت ہین وہ مقائق زے گہکھھیں بن کر لیت ہیں دہ" اپ دلوں میں "لق معاویہ “پاٹ رجے ہیں۔
بھم نے ہہ ٹس التوا رن“ کانمطالن کیا ممگراس کا مصنف کیک و بد میں قینز نمی ںکر سکتانہ اس کے ساسے جس ض مکی روایات آتی ہیں نف لکر جا سپ ' ارچ کے علادہ اظیی: مور ین رق دزن نف لک جا ہے۔ بب اہ نکباپ و انار نہیں کر تن ننس التوارخ "کی پ رواییٹ کت ی نوف حقیقت ےکک حرت امیر مواوں رضی ال تعالی حر نے عحضرت صن رضی اللہ تعالی عنہ کا وظیفہ بن دکر دیا تھا اور اس طرح انموں نے مکی شرائ تے ازانف کیا فراع دتتا بن کیا اٹ ای ود ات کو تعلیم میں بے حضرت تن رضم اوہ تعالی عنہ کاو یفہ ناحات ارگ رپا
امام ابحل علامہ ہلال الرن سبیوںٹی رم2 اللہ علیہ نے اپنی تاب
السار امضامس: اس وم ااسھاو ہہ و
ارح الفاوامہ* میں صرا تا“ لکھا ہی ےکہ آپ ناعیات وخیفہ پاتے رہے تےں ٠ تو رض الہ قحال من نے اک سال عالاد دیق سے بد کر بای لاکھھ ددجم یی سے تھے۔ نس سال وظیفہ جادی نہ رہ سکا گی عالات کے پپئی نظررر ہوئی آپ نے زونہ وظیفہ ادااکیا تھا۔ حطرت امیرمعاوبیہ رشی ار نعالی عنہ عطرت جن رصی اللہ تعالی عنہ کے علاوہ ائل جیت کے ایک ایک خر دکی مد مت کیا کرتے تھے الیک طاقات میں حطرت امرمعاوبہ بڑھ نے صطرت صن رضی اللہ تال عن ہک وکما میس آ پکو بیت المال سے اتی رم اوا کروں گاکہ آپ بے اقراجات سے ہیں زیادہ ہو گی۔ یف رآ پکی دنت میس ار لاکہ ور ہم (اکر رتتھے۔ حخرت امیرمعاویہ ر شی الد تما یٰ عنہ ائل ببیت کے ایک ایک فر کو وظیفہ ریے۔ ابل بیت کے علاوہ عخرت صن رضی ایشہ تمالیٰ عون نس مخ کی سفارش فرماتۓ نو حخرت امیرمعاوہہ وید اسے بھی وظیفہ
ر(ہےےہ
حضرت سن وھ کا مطالبہ
رح رضی الہ تعالی حر کہ عرمہ میں موجود تے۔ جب حخرت امیرسمادہہ وھ وہاں یچ آپ نے اپے قرض کا لک ریا آپ نے ای وقت آپ کا سارا قرضہ اواکیااور عمول کے مطابق وظیفہ اداکرنے کے علاوہ زی مال دا جن سے آپ شش ہو کت اس طرح آ پکو ای ہار ریم ارا بے گے ۔ بح شر تعحرات نے ” نز ےر کوٹ ضر رس بر تال نہ کو زہرخورالی کا واقعہ گی رت امرمعاوی ری اللہ تال مہ سے مو کرد ہے۔ ےئ جحوٹ اور غراف یقت ے۔
الخار ار انام اید ماستغاویہ ۱ 9
ا۶و وا ۰1 رجہ ح2حن ۳۷:۱ نک نات ج جر م 10۸ ازو رارناک وی کافس ھی روراگارزخافالالیر ضا شا نہ طا اہ کرا ازفا( ۶۷۱ت5ر- بالا الات سذ فج:
حضرت .07 وف 7
تارج یکابوں میں لھا ےکلہ حخرت امرمعاورہ 7 الد تال ی عن اعد کے تک اھان لا تھے شا ای خ کی ریہ ان کات ظیر الین * میس گی ہز را فصروں اور شیعو لکیہ بات ورس ف شی نگ آب کہ کے بعد ایمان لاۓے تے۔ حرت امیرمعاویہ رضی اللہ تعالی عنہ فرہاتے ہی کہ میس ان لوکوں میں شریک تھاجو کہ کے ون حضمور بکرم صلی الش لی و لہ و عم نے سا کو رع ہیں نے اور ہے مع کی آوائی کے بے مردہ کے پاس عفور ب یکریم صلی انشد علیہ و لہ وسعلم کے رم ارک کے بای ترا شۓے کا شرف وا ہواتھا۔
حخرت سعد ابین ال ی وقاص رضی اللہ تالی عنہ کت ہی ںکہ :یں جح 7 لوا ا پا و ور تر ھا تل اور تفارے' اع معاؤں ج گی میرے سان تجے۔ جو خرف نا اختزا ض کرت ہی کہ ککہ سے پ لہ رت امیرمعاومہ ٹہ نے اسلام ول کے کا اعلان یں کیا خھا جھم اخنیں گا کرت مخ کہ سینا عیاسں رض ال نزالی ع ارچ ج اگ سے لہ انان لا کی تھے گر اخموں نے ج کہ سے یل اعطان نمیں ڈرایا تھا۔ ای طرح شیعہ رط شگار ہہ بھی گت ہی ںکہ حضرت ایر معاوبہ رصی اللہ منعالی عنہ مہ سے نثر تکر کے مرینہ مورہ یں لئے ھے۔ جات فو نطرت نبا رضی ارلہ تماق حر کےا ممخلق بھ کسی باصق نے یقت بی ےگ مل مرخ حضرت عیان بی الد نعای اع نے بد سے یرروں کے ہاو و بے 7ر رما 0 اورال کے وا پیر آپ نے اسلام جو یھر گف اعلا نگ کے سے یناب کیا الو رج ہے
-
اجار البشامسہ لس دم اسھاو یہ ۱ 0ے
دسىسہمس۔-
قریب آپ نے لی الاعلان اپینے اسلام لائے کا قرا رکیا ھا۔ بی طریقہ حطرت اپرمحاوے رضی اللہ تعالی عنہ نے اپپایا تھا۔ حضرت امیرمعاویہ رصی الد تا ی کی زان لد ےآ پ کو علعلی دیع یع ال خحم علیہ سے جچوری کر کے رین چیے گے ا یی فممادرے انل نو خیا لی کی گفاات شی ںکزو ںگی.. اکر وہ اس یزر سے نثرت ممی ںکر گے فو حطرت عباس رضی الد نعالی عدہ بھی نجرت نیس کر کا کون ُ رت امیرہعاوبہ رشصی ار تما ی عد, کے والر ابوسفیان مولفت نترب جس ہے من انیس ختین میس مال خقیمت دیاکیا۔ رح کہ کے دن ان ےئ 17ا۱ می او فیا ن آزر بن زوٹون نک کے بعد انان اۓ تھے اور تفمور ٹب یکریم صلی اور علیہ و آلہ وم نے ان دونوں کے ایمان کو ول مایا تا
بهم ىہ بات احرار سے کت ہہ ںکہ حطرت امیرمعاوی رض ار تمالیٰ ا ا خل اسلام لیے تھ۔ اکر بم حضور نب یکریم صصی اوہ علیہ وآلہ لم کے مجر مب سر نظھر ڈالیں نے معلوم ہو گاکہ نطرت معاویہ ووپھ عرای مل نل ان فی خیدکے بپالی ھے۔ وائد کی کلیت سے جھاے ے۔ ام المدضتین ججددام خیب رض ال لتالی عزما کے رش سے نواس تھے نطرت معاوبیہ ر شی الد ثھالی عنہ حطرت سن ری اللہ تما لی عنہ سے یں سال اور خفرت مجن ری اللہ فاٹی عدہ سے اکیس سال بڑے ےم رخ لہ کے بعد حخرت امیرمعاویہ ری اللہ تا ٰیٰ عنہ کا سارا نماندان مشرف پاسلام و ہکا تھا۔ اب تضور ب یکریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مطرت امیرمجاویہ ڈڑچھ نی تویفائس لے اد رآ پ کی زس نی کی۔ آپ کہ بادئی ما خطاب ویات آپ نتم نے فا معاويہ ” ای “بھی ہے مدکی ''
الحار الضاصہ اس دم السھاوے ْ 51
مس سے سس سس گکیاییچےووئی چس
بھی ہے۔ برایت یافتہ بھی ہیں اور ہرایت دتے کی ہیں۔ توری 2ع ےا نے و
زی 7ن٣ یو آپ کو کاب وت یکم اکیاے۔ پھر تضور نی ا ا کا ا ا ا ا ا ا ا و وہل کاعلم عطا غرا۔ باد رہ ےکہ فقیہ تد بھی ہوا ہے۔ اسی طرح آپ لاہ اپانے بی اش راف مہ من سے ین ن اخراف ری مین سے ینز آپ کا نب عبدمناف پر چاکر تقورب یکریم صلی الطہ علیہ و آلہ وسلم سے متا سے۔ اس طرحع بن جضو شی کی ای الد علیہ لہ ذ عم ےی آذر خویش را بی ہین بی لی شرالشت آآ پک اففضای تکی الیی بی ٹیل سے بش ن تزع نس کادو عراخاندان اس رشن میں شریک ہے۔
آپ نایت بمادر ؛ تجاح اور گی تے۔ آپ اپنے تجارکی مناح سے ہر سال خرآن اگ قاریوں اور عافطوں پ لاکھوں روپیہ خر جکیاکرتے تے۔ پھر
کا زی لی“ ام ایل اور متصنف جو بانکسی زپیل کا حتاح میں تھا۔ وہ
انب تی ز تھے" قرآن ماب ایت مس خاضاجاقت جر نک اکر نے تیب ایمان لانے دی بعد آپ حور یکر صلی اللہ علیہ و لہ وس کے سا کئی غزدات میں شریک چماد رہے تے۔
ود ایکون نے خی ران انہارن رد اپو ظط کے موا ل کیا آیا حطرت معاوبہ ڑل اقل جن یا عمربین عبدالعزن: یھ ؟ آپ نے ضار م 7 حرت اس سواو زی کے گھو زا کی تو .حول خر ایی تر الع رف نے از اکشح ہے اائنوں نے مخز
او اووشساب فیھ ور ا 9
پا 0 رو پا سو حسَىپسحصسثىىٰىٰىسیسٰسہممبمسسسے۔یئی++٢سم٭مسہوہئوممممسسمستسمئےمشمتسو۔ مم سو ہہ سو سی سمیت جوم لم مود موس متا ےس مہ شر 7۵۸۵۳۷وافْ صصح ص3جو اہ ۸م ا 0007000000000۷ 00ن انا ا 0اا ا وا ا شش شش ےمم جج ںومم ں مشش یچچ شر مس ہے مشش جس شوج ہش|ں ... کے
مت یدلہ مل کو دک کر اعلام تو لکیان وہ حضور ٹ کریم رر .ےگ تیم کک زمارت کے سا اممان لاۓے۔ انیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وس مکی صحبت اصیب ہوئی۔ تضور مم کے بیے نماز بڑجت رہ جنپ مضور رت الذما لین صلی اللہ علیہ و آلہ و ”م کے مہ ارک ے سمم الله لمن حمدہک آواز آلی ةٍ آپ ربنا لک الد د تھے ہہ فا فٹیاتیں عخرت خحمرین عبدالعزی: رتتہ الد علی ہک کنب مسر
رت عمرین عبدالعزی: رحتہ اللر علی کو لوکوں نے کئی جار پچ اہ آپ اور امیرمعاویہ لپچ می کیا فرقی ہے۔ فو آپ فرماتے وہ عمالی رسول سی ہیس۔ وہ کاتب وتی ہیں مرا مقام ان کے ساس کیا حیثیت رکتا ہے۔ دہ ہر طرح تھے سے انضل ہیں“ اعلی ہیں آ جع ان شماونؤں کے پاوجود عطرت امیرماوی رض نہ تنالی عن کے اگوی اور مان بن اشن پنا ابآ کے خذاف لیت عجائے ہین
او زاین کے اخاشا ت کا گڑہ
شنں :ای فطزات ای اکا ذرقہ 7ت جیپ زی ین کب ان کے نز ویک تیلیں کو مس ائلن علی و آلہ دع کے جراڈوں مسا کرام میں مرف چند سحاب ہکرام اپیے تھ جو آپ کے اعد اسلام پر قائم رہے۔ دنہ سب ک نے تق ا او ان ارات کے انرام اھ خوف یقت اور نے ماد ےکن ان کے پل ےکر اس لی ارح می بدا بجھوٹ یں ولا عاستا۔
السار القام دا مم اسھاود ے 3
مکپیسوی بمجیب
آپ تو رکر کہ حضور نم غاتم الاخیاء ہیں سید ا رین ہیں گر ان کی سا زی و ٹنگی تکاش زا ایا نا را ےگ ہآ پ نیکم یھ تام سای صصواز کرام اور جانباز چند روز بعد ھرتر اور کافر ہو گئے تے۔ صرف چند افرار اسلام پر تائم
ار ےے۔ے۔
ھم ان لوگوں کے ساسے آ پکی وعا کے الفاظ بیانکرتے ہیں جب ْ آپ مزا نے قرایا اللھم اجعلہ ھادیاً مھدیا وا ہد بہ” اے اللہ ! معاوىے کو بادی بنارے' ممدی بناوے اور اسے پرابی تکی راہوں بر فاعم رکھ "ىہ صرییٹ اک ترنزی شریف میں دنکھی جا عق ہے۔ عخادری شریف مس صخرت این مسعوو رضی الہ تال عد خخرت امیرمعاوے ری انل تا ی نکی تی نتاہٹ ازر عظمت کی شمارت وج جن“ نیس قد قرار رپ ہیں 9؛,ٔ و تضور یلج مکی زندگی کے بعد کافر ہو سلاے۔ بی بات شیعہ تعقرات حطرت حسن رضی ازند تال عنہ کے بارے میں یا نکرتے ہی ںکہ میرا ہہ بنا صسلمانو نکی جماعتوں میں مج کرائے گا نکیا اس وقت چند ملمانوں کی دو جھاعتییں تھیں جن میں حطرت سن رضی ایر تَالیٰ ٰ یں ٠ توم کی حلی اللہ علیہ و کل و سم نے فرنایاکہ میری امت مس حرت صدبق شھ پڑے بی نرم دل ہیں۔ ان کے بعد اپ ئل القدر سا اور خلطاء کی تخرف فربائی۔ پھر اولین نو آ خرین محاب ہکرا مکی محریف فرائی۔ ئا طرح آپ نے فرایا ممیری امت میں معادیہ یم بھی ہیں اور کی ھی۔ یہ ہیں وہ اوصاف جو حور اگزم صلی اللہ علیہ وآلہ وحم اچ غلفاء کاپہ اور خصوح حطضرت امیرمعاورہ رحضی ان تعالی عدہ کے متحلق مان فرمازے ہیں۔ آپ مم رے ا كؾ3ەهھ۹ھ۹ھ۹۹ ۰ءء میرے میق بپڑے
الغار سٹ ٰ ْ 114
اوے_ے مھ و ےس ےسا ہیں۔ عان بدوے صاحب جا ہیں۔ ان کے بعد علی ہیں۔ جس طرح ہر ئی کا جواری ہو ا سے وہ میرے حواری ہیں۔ طلحہادر زب ھی مرے واری یں جماں سعد بن ال دقائ جو وہاں جن ہے۔ ان کے ساتھ سعید بین زید ہیں پھر ٹر یں سی ٢ر" ال دا کے اعاء جس سے ہیں عپدال ز جن ین عوف ال تعالی نجباءئیش سے ہیں۔ ابوعبیدہ بن جرائ اللہ تعالی کے امن یں۔ میرے سر( ید ) معاویہ بن الی سفیان ہیں۔ جس نے معاوی کو دوست مرکھا نے تا ےلین صحالیہ سے مض رکھدوبلاک ہوگا۔ سے عو یٹ ان بن فی نے ۱س مس ہے۔
رت این عباسں رضی الد تناٹی عنہ فرماتے میں نمیرے شیتھے ہو ئے مور نی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وس مکی خیدمت میں بت ریل علیہ السلام آئے آے ب یکما تضور مزلم حطرت معاوب کو وعیت فربانیں وہ امین ہیں“ ار تعالیٰ
کی تا کم سے تاذب جم زیت ہے ان سیک ادی '
لن یی اور مر ے۔
ضور ب یکریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی زوجہ محتزمہ سیدہ ام جیب رضی اللہ تعالی عن ک ےگ تثریف لائے۔ آپ نے درک اکنہ ام جیب زضی اللہ ۸7 و رہ ر بے جوم ری تھیں۔ آپ چیم نے ام حیب رضی اود قعالی خنما سے بی چھاکیا م اپنے بھائی معاوبہ سے محبت ر رکھتی ہو ؟ حر سک یا رسول اللہ موم ! ھے اہے ول تر رت ائڈالین معل :ال عل نوعلم ہے
الغار - ٤ .ە, ٰ ُ 22 شش ہششٹٹششسے ےس ےس سے سے سے ےس سے
۹۴٢ گآگھوٰ9 رضی الہ تعالی عنا حضور صلی ارڈ علیہ وآلہ سم مکی زوجہ محتز: میں اوز رت معاوبہ رضی اللہ تعالی عنہ کی بن میں عطرت موہ لد حور سی اث علیہ و آلہ لک کپ رام ہیں
ایک اور عد بیث پاک میس آیا ےکہ جھھے اور میرے سسرال والو ںکو الد کی طاظت میں رم رو۔ ھیرے مرا ی اور میرے اہ ھیرے وپ ہں۔ جو شخص میرے صحاب کی حفاظت نی ںکرے گا وہ ادند تما لی کے غحضب میں 20 5 وو و ار 0ی نے فرا کہ میں نے نکا حکرنے سے پہلہ الد تعالٰی سے سوا لکیا تھاکیا بیس اپتی اس بی افگاز خگمروکی مان علروں ا ال تقیائی نے فریایا بج زی آپ فا کین کل وحن ین ا کا کی اون ا کات ود کی یو تام ا ےا سی می فیس ریف مان لک ای عرت خر ری الد نعالی عنہ ہیں۔ رت امیرمماوے ھکو خلاف تک بثارت
جو رٹ کیم صلی ازلند علیہ لہ سم نے فرایا اذا ملکت فا یمن جب تممیں غوافت عطاکی جاۓے تو اسے اچکے طریقہ سے سرامجام دو۔ اک اور حریٹ پاک میں آیا ے۔ حفرت معاوبہ رضی اللہ تال عنہ بیان کرت ہی ں کہ میں اس ون سے خلافت عاص لکرنے کے درپے ٹفھائجس دن سے میں نے حور 70 وس کی زران مارک سے سن اکہ خافت اد امازرت کے وت اش ے ڈرنا ہو گا اور عرل و الصاف سے کام ینا ہو گا۔ جب گے ابارت لی سب سے پل سد نا عمرفاروق رص القد تعالی عنہ نے اپنے دور غلافت میں
الخار اخا اید مالمعاوی ۱ ٰ 6
0ی 6ھ فزافت کے روران ابارت شام پر مین رہا۔ پھر حخرت جسن رضی ارنر تال یٰ عنہ نے ایک معاہرے کی رو سے مھ خلافت عطا فرما دی ای حر یت پا گ کو ا ام اص بن تضبل رحمتہ اللہ علیہ نے بیان فربایا ہے اور ا کی ند جج ے۔ ضور ب یکریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فربایا میریی خہوت کے بعد ززافت کا دور شروع ہو گا اور ہہ غزافت بھی نبوت کے طریقہ پر ب ھگی۔ یاد رے کہ اگرچہ حطرت عمربین عبدالعزی: رہہ اڈ علیہ خلیفہ نہیں ے گرانہوں نے ای امار تکو غلافت کے انداز میں چلایا تھا۔ اس کے پاوجوو رت معاوبہ وھ رت عھربن عبرالعزیز رلٹہ سے ا سا ہیں۔ ا نکی امارت بھی رت رین عہدالعزں: رضی ایل تعالی عنہ سے افضل ہے۔ آپ حضرت امام صن رضی الہ تعالی عن کی رضا و مظوری سے امیر تے۔ یہ بات عخرت ام بین تج ری رحعتہ الہ علیز نے یکر سال ” فخفض انل مواوں.* مین تتعیل کے سا تی 72 ۱ ...بب رت امیرمعاوبہ رضی الد تعالی عحنہکی امارت ایک طوبل عرصہ تک یاری رید حطر خر“ عفرت عیان اور خضرت علی رض لق تقائی تم ہے زبانہ غلافت میں آپ مفقہ امیرشام و عراق رسے تھ۔ کی غلیفہ رسول اور ام اگ ونعی نے آ یک اعاار تک نائی گی ںکیا یآ پ کو می کر یا جا ا۔ ایں ول عصہ میں آپ ن ےکی مھ مکی غایت کا موقعہ نہیں ذیا تھا۔ نام نوک آپ کے مد و انان سے کمن تے۔ ب ے حرت معن رضی الہ تعالی عنہ کے یارہ سالہ دور غلافت میں بلا بل عراق اور شام کی مار تکی۔ صرف ححخرت عنان رحصی الم تال ی عنہکی شمادت کے بظطد آپ نے تصاص کا مطالہ کیا اور رت علی گرم ارفد وہ سے فاص کے مہ پر
.۵0
مجۃ عفرت کے ےم وہ۵
الخار الضخاصہ لس د مالسعھاویہ ٰ 2.
اخا فکیا تھا۔ ىہ اخطافات بھی اجتماری گے۔
حطرت صن رضی ارڈ تال عنہ نے امیر شام حضرت امیرمعاویہ و کو نات عطا فرما دی شی اور ایک معابد ہک میا تھا۔ وہ صحاب ہکرا مکی اکتریت کے اق ے امر!ا کین نار بانے تجھے۔ بھھ عرضہ کے لے ایک اہتتادی اتلاف پ وہ رت عل یکرم ار وجمہ سےمشیدہ نما طررہ ےگ چھررجو ںکر لیا۔ مسلمانوں کا خون بہانے سے دونوں فرلتی رک گیئے۔ مہ اہتتمادی اختلاف بھی تح ہ وگیا۔ آئ شوہ اور سرن عپاایین اس ممیت ہو اتا کے رت میں اور اہے بناوت کے نام سے مشمو رکرتے رج ہیں اور طرت امیرمعاویہ یھ کی غلاقت کو مورو طھی و تشفج بناتے رسے ہیں۔ اسی طرح وہ عطرت معاوییہ رض اللہ تعالی عدر کے مویرین حفرت عمر' حطرت عنان اور حطرت علی رضی اللہ تما یٰ 1 2 کے علاوہ ایام صن رضی اللہ تعاٹی عنہ کو مورد من تھبراتے ہیں۔ ان
رات نے جضرت اعیرمعاویہ ول ھکو ام بنانے می یکوئی لی نمی ںکی شھی۔
حطرت اج بن جج ری رحتہ اللہ علیہ نے رت ابین ععباس رضی اللہ تا نکی ای رایت ما کی ہے جی کا تی سے *م یکر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرایا سب سے پلہ خھوت کا مقام سے جو الد تال کی ر ہمت ےت پھر غزات کا مقام سے ہہ بھی الد تما ی کی رحمت ہے۔ پر امارت ہے یی بھی اللہ تال ی کی رححت ہے۔ اسی طرح حضرت امیرمعاومہ رضی اد تعالیٰ عحنہ کی ابارت کو نول اک مل ال بل ول 7 نے رت غراوندی ٹرار دیا ہے۔ حفرت عمرین عبدالعزی: رضی اللہ تعالی عنہکی امارت بھی خلافت سے شػنْ کر وی یہ آپ کے وور ابار تکو لافت راڈ شر و کا <صہ ایا ے۔
ایک عدیٹ پا می آیا ے لایزال امتی صالحا حتی یمضی
الخار الضاممہ لسن ذمالمعاویہ 138
اٹنا عشرہخلیفةکلھم من قریش ” ری امت یش راستی پر رہ ےگی۔ اس می بارہ غلفاء خلا ف ت کریں کے یہ قام قرٹیش میں سے نہوں گے۔؟' حضرت امیرمعاویہ رضی اللد تھالی عنہ بھی ریش میں سے تے۔ پھرمضور زور صلی اللہ لی و لہ و تلم نے لک فامات می فرایا تھا۔ جب حضور “لی الہ علیہ وآلہ وم نے نے ملیل القدر صحابہ سے مخشورہ فرایا اور اس مشاورت می سیرنا الوبجر صرلتی اور حخرت عمرفاروقی رص اللہ تال ی عنم موجوو تے_ آپ ہربار بات کرتے و دونوں عر کرتے واللهاعلم ور سولەاللہ اور اس کا رسول پھر جات ہیں۔ آپ لام نے ایک آ ری کو یا جو حطرت امیرمعاویہ و کو بلا لائۓے۔ حخرت معاویہ رض الد تحالی عنہ عاضرغرمت ہو اور بات باند ھکر حور تعلی الد کید الا سم کے ساس ےکھڑے ہیں آپ نلم نے خر کو اط ب کرئے ہو فما اک تم لوگ ان سے اپنے کام کرو اور انی ابنا شاہر نایا کر کی وکمہ ہہ تو ی ہیں اشن ہیں۔
تضور رت اللعالیان صلی الظہ علیہ و آلہ وس مکی اس خحدریث پاک پر مور فر ائیں تے معلوم ہو گاکہ حضور صلی ادفر علیہ و آلہ وسلم نے ححقرت معاویہ ری اللہ تھالی عن کو جوی اور اشن فراا سے اور ہے اشارہ قرایا ےکہ ہے معالما ت کو سبجھانے کے لاکن ہیں اور غافت ان کان ہے۔ بی وچہ ےک حطرت صن رضی الد قھائی جعنہ نے خلافت ان کے سر دک دی شی آج شیعہ طرات صد اور تح ضلکی وجہ سے تڑتے رج ہیں۔ رت عمررضی انر تعالیٰ عنہ نے ہطرت امیرمعاوہہ وآ کو اپنے عید غلافت میں شام کا امیر بڑایا۔ خضرت مان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انی امارت ىر متمکن رکھا۔ ہطرت عل یرم اڈ زی نے یں وی کیا عخرت من ری ان ثعالی نہ نے اینے تام معالمات ان کے سر دکر دیے۔ ىہ غغا مکرام اتے زبروست ےکلہ بڑے سے زی کی کر مم اور ا سککی فکایت کی و اے فور حول قارا
انار الضامسہ اس د مالمھاویہ سا
ریت جھر خر ان اصحاب خلا نے تظرت معاودیہ رضی اللہ تعاٹی عثہ کو معزول می ںکیا تھا۔ رت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی میں ان کے ایک بھائی یز ید بن الی سفیا نکو رت عمررضی اللہ تعالی عنہ نے ایک ملک کا والی مقر رکیا تھا۔ ہے دونوں بھالی یں سال تک امارت اور ولایت پر رے۔ اپ حظرت معاوی ٹن اور نحضرت کل یکمرم ارد وچجصہ کے درسان جو اڑائی ہوئی وہ کی زف٢ ہرفت ہوگنی تھی۔ ٰ حضرت صن رصضی الد تما ی عنہ کادور غزافت آیا لو انموں نے حضرت انی مواور جال کے جع میں وسر داز ہو جا و یکین نٹ یک ری صلی ال علیہ او دکی ار مار رس کے او رر ہہ کے وب مس سی کا ذ ریہ بے گا۔ ملمافو ں کی دو بڑئی جماعتوں میں س حکراے گا۔ اس ران کی روش مین اض ا جن ری اللہ تعائی عنے نے اع کررار ارا گیا دونوں طبقوں میں گ کرای پھر بار غذافت بھی رت امیرمعاوبہ رضی اللہ کی مک نز کر زیت لاس مال مگ کاکام ” ستدال اعت“ نگھان یا ان یہ دونوں لیے ملمان تے “ان می کس یکو کافرن٘می ںکھایا۔ ہن وفوں: حضرت صن رصی الد تعالی عدہ نے حضرت ا رمعاوے رضی اللہ تعالیٰ عن کو خزات دی قے اس وت براروں صعابہ موجود تھے عسی ایک نے بھی حضرت صن رض الد قعالی عد کے اس ففلہ پر تقید می ںکی ی۔ کسی ہے اعزافن لی کیا ھا. آلر بعد ہیں آنے دانے عوالفین اوز ئن اختزرا ض کرت ہیں فو ا نک یکیاحثیت رہ جائی ے۔ ا کے رید مر یئ 23 نل 11 راج ,2
السار انضاصبہ اس مالستشاویہ سب گًً
حظرت ممعاوب دلٹنھ فقیہ اور بد تھے بهم یی ایک مقام بر کیہ آۓ ہہ ںکہ حفرت امیرمعاویہ رضی ال
تالی عنہ کو امت کے اکابرین نے فقیہ اور تن مانا ہے۔ رت امام رگی رع ال علی سے" ػلابپ " ت می رالنان وا نان * یس الک حد یٹ پاک نف کی سے جس می میا کھاگیا گ کہ حعطرت عمراور رت معاوب ری اڈ تالق تد زیت کر کے دہ بین ایک وومرے سے "تنگ ذکر ر ہے جھ' رت عمررحصی اللہ لاٹ نہ نے آپ سے مض ران سوالات لئ ۔ ححضرت معاوہہ وڈ نے حر عمررضی انث تعالیٰ عنہرکو مم نکر دیا۔ ہہ عدیٹ پگ واج محرت' کے ماشہ مس موجور سے ىہ عدیث ماک بخاریی شریف میں بھی مو وو سے کہ حضرتح ١ای خماس رصشی انز نای مجنا نے حقثرت امیر معاورے ری ن۳ یی کر اور ین تل مکڑے۔ حور ٹیک زیم صلی ا علیہ :۰ و آلہ و سم نے آ پک فقابت اور برایت کے لے دا فرباگی می نے وونوں وصف بڑے اع لی اور بلنعد ہیں۔ آپ عالم بھی تے اور تزبمان القرآن ضر قرئین ) بھی بے اور ماب کرام نکی اداد فرمایا کرت جن صلین اور جتک تل کی لڑائیاں اجہتادی غلطیوں سے ہوئی تھیں۔ اکرچہ آ پک ہہ اتقادی لی بھی اہم آ پکو ایک ٹواب کا اج لے گا۔ حخرت این عباس رض ارہ رای مھا نے فا ال آب فرت کے اودکارا کو خوب جا نے ھھے۔ حىقرت ھر رشی اللہ تعالی عنہ نے سارے ال عرا کو جحخرت امیرمعاویہ رش القد تما عنہ کی اطاعع تکرنے کا عم ویا تھا۔ ٰ
الی الدروا ری الد تعالی عنہ رواب تکرتے سں قال مارائیتاحدا بعد رسود الا الله علیەو الەوسلماثبصلوۃر سول الله صلی الله
اندار الجاب لی جم امعاوم یی 321
امسسما_- -
عليه وآلہ وسلم من امیرکم ہذا میں نے حضور بی کریم صلی الد علیہ و آلہ وس کے بع دک یکو اڑی نماز نہیں پڑت ویکھا جس طرح حطرت امیرمعاویہ وھ بڑھاکرتے تے۔ یی آپ نماز بد حت قے حضور ب یکریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سم کی ایک اک ازا(عختف )کی رد یکیاکرے جا کون نر جو“ تضور اکرم صلی ایشر علیہ وآلہ وم اپ کے گے سے جو ماس فزرمائی گھیں۔ حضرت امیرمعاوبہ رشصی اللہ نال ی عنہ کے عاسد گن اور عالینع آب کے ملق جو کھت ہیں اس سے نو یوں عابت ہوا ےکہ حضور صلی الد علیہ وآلہ ول مکی نام رعائتھیں معازالظہ بک رگئیں۔ حضور ٹب یکر صلی انثد علیہ وآلہ و سم تو داناۓ راز ہیں۔ سجتقیل کے عالات پر ا نکی نہیں جساں کی ہیں۔ وہ ایک راہ یا بای شس کو پادی ' میدی اور فقیہ کی ے کہ سج تے۔ اکٹ سحاب ہکرام کا ور ا صرت عبد الد رضی اللہ تما ی عنہ بے بناہ علوم کے ماہرتھے۔ ا نکی لی معلوبات اعادیث کا تیم سریابہ ہیں۔ آپ نے پیشہ حخرت امیرمعاونہ رض اللد تعالی عنہ کے کالات کا اختزا فکیا۔ صحاب ہکرام نے ان کا ارام کیا سے ان کے اقوال و افعا لکو تام صحاب کرام اور نالنین نے تقو لکیا۔ ان کے اقٴال اور اتتار شریعت مطرہ کےکئی معواللات می مم رکی حیشیت سے لیم سے جئے ہیں۔ وہ نقرت امرمعاوی قش تالی عنر کے افعال اور اتمال کی بیشہ رف رن ارے یں۔ مس ( لب اروف خر می شل لوائی ) ع رض گنا مز نک صن کے متولف امام ری رت الد علر نے مفخرت ام معاوب رصحی اللہ
النار الشاسەلمن دمالمھاوود .._. ٰ ۱ 2 7ك ٥ ك41۷صك2 2 27۵۸ٌ(:۸ا114أج 2نا س 1-272۷۵۸۰۹۷۷۸7[ 2۶-۰۷۵۵ ظ(م0۴۵۵ [ةث7حاڈھ حصظظلا سا تاراب دحا نویج فٰماویھسمومحسسفیعفمسشجمیےےےےے ےمم میریڈریھرررس...
مسحعد
تالی نہ کے فضاگ لکی اعاوی ٹکو بڑی تفصبیل اور سد سے اپٹ کاب مل در کیا ے۔ حفرت این عماس رضی اللد تعاٹی عنہ نے روابی ت کی سے ے انام فاری نے ”عخاری شریف *' میں نفقل فرایا ہے وو لے ہی ںکہ می نے حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ تھی عنہ جعیساکوئی دو سرا نس شا مکی امارت اور اتاد پ نہیں دیکھا۔ میں جب شا مگمیا فے میں نے ویک ھاکہ ہخرت معاوىہ یھ نے اسلائی کرو ںکو اتی خولی سے تمیت دی ہےکہ مبرادل خوش ہ گیا آپ نے مزید فرمایا رت معاوبیہ شی الد تھالی عنہ عرب کے کسریی ہیں۔ حطرت این عباس رض الشہ تزاٹی عنہ جیا شس سے عرب کاکس ری یکتا ہو۔ حضرت ع ررضی اللہ تنالی نہ آ کو لور گی ری صلی الد علیہ وآلہ وسل مکی دغائؤں کا مرو جات ہوں۔ رت عل یگرم القہ وہ جن کے تا بھی جنشش کے صن ہوں وہ حفرت معاوہ ری اللہ قالی ع ہکو اپ بھائی کی اور انام یں اخواتا: بغوا "اتا وارے فائور کم مزے وف اظھیار اما لج ژن۔ ۔ نخرت طلحه رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں اگر حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ تما ی عدہ گی رولیات م تک نہ کئچتیں فو جماراعلم نا رہ جا کون لوک ہیں جو ان شراریں کے سام حفرت معاوبہ رضی اد تھالی حن کی شان می ں تنگ وکرتے 0
ایک ون عقرت ابوسفیان یھ نے اج بے عخرت معاویہ ڑل ھک دکیھ کر فرمایا معاومہ کا سر بڑا سے اور ے سرداروں کی علامت ےہ سے عو مک سروار
ہو گا ] ح خیعہ حضرات حخرت عمار یا صررضی اللہ تا ٰی ع کی ای روامت _
پٹ یکرت ہ ںکہ حور ب یکریم صلی الد علیہ وآلہ وسلم نے فا یاککہ تہیں اغیو کی ایک جخاعت ق یکر ےگی اور وہ جک حس میں مل ہو ۓ تھے اور ٰ رت معاویہ لد کے ساتھیوں نے آ پک شمی رکا ھا- لا دہ بای تے- ؟إ
السار القاءےلی دمالھاوں --- ُ 3
اس کاجواب تق رآن پا ککی اس آبی تک ری کو جن کر کے دنا چاے ہیں۔ وان 7 س9 -۹ "۸۳۰۹م" 0 رت معاوبہ رض اللہ تعالی عن کی خطااہجتمادبی تھی۔ جو بطاوت یا نشی نمیں کی جاعتق۔ اجنتمادی خطاء بر بھی نت دکو ایک مکی کا ٹواب ما ہے۔ آپ کے اس اجتماوی شی لہ کو بہت سے سحاب ہکرام نے پن کیا تھا اور آپ کا ساتھ دیا تھا۔ حضرتہ صن رضی الد تعالی عنہ نے بخوشی انی خلاف تک زمہ داریاں عخرت امیرمعاویہ رضی الد تی نہ کو سوٹپ دی میں ۔کیا آپ ایک بای کے ساتھھ ایا سلوکفکر کت تے۔ ہر روایت رایت ححت اور سر کے ساتھ یا نک یگئی ہی۔ ان اھل مکەاخ رجوا رسول الله صلی الله عليە و آلەوسلم فلاتکون الخلافة فیھم ابدا وان اھل المدینە قتلو تھا ماد ود الخلافة فیھم ابدژ0 ہنی ککہ والوں نے حور ب یریم صلی ار علیہ وآلہ ول مکو اپنے شمرسے نال دیا تھا۔ ان مس سےکوئی غلافت کا زار تہ ہو ۔کا۔ مرینہ والوں نے حخرت عثان رضی اللہ تعالی عنہ کو شمی رکیا تھا ان میں بھی لات نہ آگی۔ کہ والوں نے تضور صلی اود علیہ و آلہ ول مکو نکال دیا ان یں نات کا اقاقی سلب ہوگیا۔ صرف دب ی کی رات منصب غلافت پر آئے جو طز یکریم پ یہ لی لے ما کچھ کرد ور یی اڑویست گر ْ ٴ ف٠لی حرت عنان رضی اللہ تعالی عدہ کے بعد ٗی مو یک خلاقت نہ ی۔ اب شام کے ام رحخرت معاوبہ ر خی الد تعالی عنہ بی غلافت کے ”تن تھے۔ حخرت این زی زضی اذد نعائی عضہ اھ عرصہ کے لے خلیفہ رےگھران کی غلافت صرف کہ تک محددد شی اور ان کی خاف تکو علی الاعلا ن می نے تہ
انار اید ملسعاوی : ۱ ْ 13124
عری ین کی زر نےں ووفت رح کے اعد ار کسی صحالی کے صے میں خلافت پا ابارت آکی سے وو ححخرت امیرمعاوبہ ری اللہ تمالی عر کے۔ ٰ
طرت این عباس رضی الند تما ی معنھا فرماتے یں قال مارائیت احداً من الناس بعد رسول الله صلی الله عليه و ال وسلم اسور من معاوبة حضور ب یکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد میں نے حرت معاویہ بچھ ے باہ و جلال کا امی رنیں ویھا۔ وہ ای سیادت و تیاد تک وجہ ے درچہ ا لکو پچ تھے۔ دہ جائع مفات تے جو تم کٹ تج ھچ ھھے۔
...0 7 ا زان سے رد .کی ںاور ےگ فقرت ا عفن رف ا علیہ اص خر سے ے7ل فرب رک ہو ہیں۔ آ پ کا عفقرت امرمعاوں رضی اللہ تنالی جن کے متحلق ہہ قول بدا اہم ہے۔ آ پکی روایچوں بر خو رکیا جاۓ نو بھم اس تشیہ حر کجیتے ہی سکہ حطرت معاوبہ وبلہ می کے اور مدکی دہ ہو ا سے جو اہ تمام اعمال و اثوال میں برایت يافۃ ۶۔
منرت ا میرمعاوبہ ٹڑھ راو اعاریث ے ْ دی نکی تین کے مطالقی حخرت امرمعاوی رض الد عالی عنہ سے ایک سو ساٹھ اعادیٹ نبوبی روا تک اگئی ہیں۔ ان میں سے ترلیٹھ )٦۳( اعاریٹث ے تارق اوز عم مین موجودوں۔ جب آ پکی موت کا وت قرب 5 ٍ آپ نے اپے زین کوک میرے پا سید لخیاءسل ال علیہ لہ دم
ےو ےت سے جا سی بح کےا مم ےد وہ رات ہر 2 ہی کے یو وو پاٹ سیت اھ ہد خی فی ا کے ینک جو یک و ۲ 3
موس
اظار العائت فونمامھایں' ٠٦٦ ٠٠٦ دوہ
کی فی مارک ہے۔ سے آپ یھکم اینے شعم اطریر پناکرتے تےں جھ ری بس دم ہے ری پ نال جاے۔ تضو رب یکر مل ال علیہ وآ وھ کے زاشیدہ ناشن می نے فلا کہ صا لک ر کے ہیں ہہ ناشن می عکھوں بر بمادیا۔ اس پر یھ میرے اللر کے حوال ےکر دییا۔ جھے مضور ب یکریم رحتہ الین مل ار لی لہ وس کے نے مصوکات مات زلائس جے۔ حضرت ام رمعاوے رت الد تھا ی عنہ ۵ رجب ا مرتب ۸۹۲ بج ری کو ثوت ہو تے۔ انالتر واناالی۔ راچون - حخرت امب رمعاویہ وھ بر طعنہ زی ککرنے والو ںکو توابات
مخرت امرمعاوبہ ری اللہ تما لی عنہ کی ذات پر بہت سے چاہل لوگ اپی جماا تکی وجہ سے اختراضا تکرتے رج ہیں۔ شیعہ حفرات اص طور پر ان کے غلاف بے سپا بائیں کرت رچے ہیں۔ اگرچہ ہم ایسے مطاعحن کا جواب سابقہ صفحات پر دے آے ہیں ہم اسيے لوگکوں کے اختزاضات > ایک نظرڈالنی ضردری جات ہیں۔
سف شرف میں عفرت این عیاس رض اللہ تھائی عننا کی ایک ردایت س ےکم میں کین میں انے ہم عمرلڑکوں سے یل رہا تھا۔ تضور ھی کری می الد علید آلہ ویلم وہاں می تطریف نے نے سے بھا نکر نپ جرب نے شی کنل عوں ہے گنک ایا وا موا کو لوک لی وائپیں آک رکم یا رسول اللہ پیم ! معاوہہ نوکھاناکھا رہے ہیں۔ آپ نے دوبار ہکھا جاے اور معاویہ کو میرے پا لا۔ میں دوبارہگیا اور والپیں کر عر شک وہ ڑ ایی سے تھا تھا رہ ہیں آپ نے نیا اوران ےید لے ات ا می پا وحن من کرای نوک رت مو ری ا ضا نک
انار الضامیہ سد مااسعاویہ ھەلعلس”س 6وت
”و٣ کت ہیں۔ عاا گلّہ اس موق پر نفرت امرمعاوے کاکو گی و ا صرف حفرت ابین عباس بار بار جاتے اور دک ھکر وائیں آجاتے۔ نہ تضمور مم کا پغام یہناتے اور نہ چا ےکہ فور غلم بلا رہے ہیں۔ مضور ب یکریم صلی الف علیہ و آلہ سم نے کسی پا عفر کی نافبانی ما دم سے نے کے خے کی کی پگمہ آپ کاکھانا دم ت ککھائ ےکی وجہ س ےکی ہے۔ وم ت ککھاناکھانے کا مطلب زا دہ کھانا میں بللہ آ ہت آ ہت سلبق سے کھانا مراد ہے۔ ہہ قائل اعنزاض بات نیں ہے۔ ہاں اگر حضرت معاویہ بی ھکو تضور ب یکریم صلی اللہ لی وآلہ وسلم کا پام کیچ جانا اور وہ دم ےکرتے نز قابل اعتزاض بات گی۔ ضور لم کا پام نکر یا آپ کے پلان ےکی آواز س نکر ے صحاہ ہکرام نماز پچھوڑ رواظر ور اا7 ٢۔ حضور می کریم “لی اھ علیہ و آلہ وسعلم نے اض اوتقات کئی ککابہ کرام پلہ ازوارج مطمرات کے لئے بھی اییے الفاظط استعال کے ہیں۔ ایک ابی کو مایا نربت یسیک تیراداہنا پا اگ آلوو ہو۔ ازواج مطمرا ت کو عقری اتی تی الفاظ ہا رجہ زجائ الفاظط جس زجر وق گن ے۔ مے امرمولوں رت اھ یا لف یکر صلی الد لی گل و سم کی زاہ مس فقیہ ہیں با دی ہیں “دی ہیں۔ جو لوگ آ پکو الزام د نے ہیں دہ . مال نمی کرت ےکہ حضور ب یمکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وس مکو ضرت متادیہ وھ ے ات تلق خاطر ےکہ آپ انمیں بلانے کے لے چےکو جار بار سج رہے ہں۔ بی اگ رکھاناکھاتے دک کر والیں آ با ہے نے اس میں حضرت امیرمعاوی رض اذہ تعالی عدہ کاکیا تصور ے۔ مضور رحتہ للعا لین صلی اوہ علیہ و آلہ ول مکی شغقت دی کہ آ پک بار بار بما رہے ہیں۔ یر نطرات ایک اوز اختزا کرت ہیں وہ امام ود ی گی ایک
انساز امقامنہ میس ہ ما اسخطاو ید “٠ ۱ ً12
روا یت اع فریائے ہںکہ "جب تر متا یکو خیرے ندرک یھو لو اس فور یکر دو۔' شی کت می ںکگہ اس حید یٹ کو ایام تی نے بھی خ ل کیا ہے قام بائیں شیعو ں کی بنائی ہہوکی میں ہیں۔ ان میں حقیقت کاکوئی شائیہ میں ہے۔ یہ شیعو ںکیگھڑری ہہوگی عدشیں ہیں۔ اگر ہہ اعادیث کچ ہوتیں نر حا کرام نے اس پر عم لکیوں می ںکیا۔ اکر ہہ حدبیثٹ مستقد ہوقی مجح ہوقی بجی ہوٹی نو عحاب ہکرام اس پر ضرور عم ل کرت اور شہیں تو رت عل یکرم اولر وچمہ ان شیک ایک ا ان بک تا برارون کا ابو موی اشہربیٴ عرو بن الحاص رض اللہ تعالی نما بیے جانبازو ں کی ای کر 0-07 ٰ
رت علی گرم اش وج نے حخرت امیرمعاویہ ڑھ سے گ کر لی بھی۔ ان کے بے حضرت صن رضی اللہ تعالی عنہ ان کے جن میں خلافت سے دبردار ہو گئے۔ ان حطرات نے بھی عخرت معاومہ رضی ایر تَا ی عنر سے اتلاف نمی ںکیا سح صفائی سے رہے۔ آ ج کا شیعہ انی بد باطنی کا مظاہرہکرتے ہوئے رح طر حکی بائیش ناما رہتاہے۔ حفرت امیرمعاویہ رض الڈہ تعالیٰ نہ خلیفہ برم کی حیثیت سے اسلائی عمالک کے عمران رے۔
یع حعظرات ایک اور اختزائ کرت ہہ ںکہ حفور نب یکریم صلی اڈ علز :و آل: و سععم ے مقرت مار یا رض او :نال خض کے لئ ف رما ھک میں اتی لگ یکر کے جن لوکین گے حعقرزت ما ری الد نائی کون کیا تھا وہ رت معاوبہ رضی الشد تعالی عنہ کے عابی تے۔ یہ می نکھت افسانہ را لوں اور شیع وں کو ہی زیب رتا ہے۔ اکشر شیعہ افمانہ نار تضخرت ابو ہررہ رض اللہ تماٹی ع نکی ایک روايیت نف لکرتے ہیں جس میں حضور یکریم صلی الشد علیہ لہ وسعم نے فرمایاکہ ہنوامیہ برے یل سے تعلق رت ہیں۔ وھکل
128
انخار ابضاعس لد مالسشاوہ
حضرت امرمعاوہ رضی ار تما یٰ عث نواس میں سے نے وو می رے شض بل کروتو مرو ال مم
شیعوں کا ىہ اختزاض ا نکی جمالت اور خرت امرمعاہ ری اللہ تای عد ے احصب کا تہ ہے ہم ان مترضین سے پویچھت ہی ںکہ اکر دای اس عریث پاک سے بنوامیہ برے تھ نے حخرت عثان رضی اوہ تی عنہ کے علق کر گے دس کے حر میں تضو رش یکرییم صلی اللد علیہ لہ نے ای دہ مال دیں۔ آ پکو وب رین حا ی قرار ویا اور آپ کی غلافت کو مام اہ ود نے ور تلی کیا فا سی طرح مضرت مربن خبرالعزہ: رحمتہ الد علیہ بھی بنوامیہ کے فرد تے۔ ان کی غافت ' امارت اور فضیلات سے گی او بھی الکاز یں ۔ کیا سی حدرییٹ عحاب ہکرام سے سامے اف شر ا دیکھا تھا کیا ہہ ایل بی ت کی نظروں سے او بل ری۔ صرف شیعہ افانہ منگاروں نے انیس ڈصوئڑ زکا(ا تھا-
حطرت ام رمعاوے رشی الد تعالی عنہ جب امارت کے منصب پر فائز ہو تمام ععاہہ رسول اللہ ٹم نے آپ کی انار تکو صلی مکیا تھاف اکر دہ بای تھے ' نو ساری امت مسلہ اس بضاوت پر خا مو ں یکیوں ری ؟
شی مو مین حضرت معاویہ زی ائند تمالی ند کو اس بات پہ تجرم قرار نے فی کہ آپ ےا ہی تی کو جامزد ام رم گر دا ا حالاظہ سی طرقہ کار خزافت راہ کے دو زان بھی افقیار خ۱ سکیاگیا۔
بم ان عفرا کو جواب میں بی کہیں ک ےةکہ خلافت راشدہ کے بعد امارت بی خذاف ت کی ایک شل تھی۔ ضرت زوالرمین ؛ عضرت سلیمان نحضرت رف مم السلام اگرچہ بارشاہ اور سلطان وقّت ےخرا نکی غزافت سے انکار نی ں کیا جاستا۔ اگمر عطرت امیرمعاوبیہ رضی الد تعالٰیٰ عنہ امارت اور باوشاہت
العار القامب اس دم السعاوتہ سشوع لت
کے نام سے پکارے جاتے ہیں نو سابقہ ایا کرام بھی امی لقبن سے ال تال کہ افابا رت کن خا ہت ری وع ین نے مد بی کرک صلی ال علی::آلز۔ تلم نے فرمایا کہ خلافت راشدہ ( خرالقرون قری ) کے بعد باوشاہت اور امارت کا دور ہو گا۔ الما خلافت اور امارت میں فخیلت کے از سے و بات شعلی مکی عاسکتی 80,0۵ اور اسلابی شید مات و فوعات کے یل ظراۓ تصور لی اث علیہ و آلہ و مکی خزافت بی اما جاۓ گا۔ امارت اور باوشاہت می اولار کو ابا جا مین انا فان اختراضش می مین اور زان روایت تی وی و ا ما و کم ار ا حطرت امیر معاویہ رحصی الد تما لی علہ کی امارت اور بادشاہت 8 2 ار 007 و مکی اجازت ا
نو ضرقی ا اکن نف ےک ور نان ری ےہ لیت مل اول قوانھ اور نر بر خمراوندی کے رر فا حطرت اخ مجاؤب :زی ا شیع نے ایگ پا ر کیااک اکر مگ نے نٹ ےکی عبت مبواز تک رکیل ین ا او کا را پھر بخرج الخی من المیت و بخرج المیت من الین بویا نت ہیدہ سو تے بن اور 27 - :. ژں۔ الم ت 02 ئ0 000 ا شی یسا یی مار پا ا ے۔ جفری عقعارنی شاو سے وید یسا مزح بیجن جار ۲ ارت ال تا یکی رر تک نثا لی ےن اپوڈی لی کی حوست اور کظر کے ار ای حرف مر ری ایر نعا ی عد ین شاب لئ طز خرن امینر+عاوب ر شی ابر نال ی عد کی ٹُلوں کااڑ کین ود ھا۔ با اوقات نات نی رکا کی او لا نشی از ر لاتق و کی کے ران یر نے او کر خر ایا یج نہد هر لی شال اکر ار اھ
السار انضاصہ اس د مالسطاویہ شرب 8اگ
1
۔ راد تعا کی نف رک وکوگی موڑ خی سگاے۔
2